بھلائی اور برائی۔ حدیث میں آیا ہے کہ نواس ابنِ سمان صحابی نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بھلائی اور برائی کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: "بھلائی حسنِ خلق کو کہتے ہیں، اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھ کو برا لگے کہ لوگ اس سے باخبر ہو جائیں۔ " عن النواس ابنِ السمعان الأنصاري قال: سألتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم عن البرِّ والإثم، فقال: "البرُّ حسنُ الخلقِ، والإثمُ ما حاكَ في صدرك وكرهتَ أن يطّلع عليه الناس." صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلة والأدب۔
نیکی یا بھلائی ایک جذبہ ہے جو آدمی کے دل میں ہوتا ہے، اور وہ انسانوں سے معاملہ کرتے ہوئے اچھے اخلاق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ نیکی اپنے اصل کے اعتبار سے ایک داخلی حقیقت ہے، اور روزمرہ کی زندگی میں ظاہر ہونے والا حسنِ اخلاق اس کا خارجی ثبوت ہے۔ جس آدمی کے دل میں نیکی ہو، جب وہ لوگوں سے ملے گا تو اس کے چہرے پر خوشی کی جھلک آ جائے گی۔ جب وہ بولے گا تو اس کے الفاظ میں خیرخواہی کا جذبہ بھرا ہوا ہوگا۔
اس کا اخلاقی رویہ ہر حال میں باقی رہے گا، خواہ دوسروں نے اس کو خوشگوار انداز میں خطاب کیا ہو یا ناخوشگوار انداز میں۔ مزید یہ کہ اس کی خوش اخلاقی حقیقی خوش اخلاقی ہوگی، نہ کہ محض ظاہری اور مصنوعی خوش اخلاقی۔ برائی یا برا اخلاق کیا ہے؟ اس کا ایک سادہ معیار فطرت نے ہر آدمی کے اندر رکھ دیا ہے، اور وہ ضمیر ہے۔
جب بھی آدمی کوئی بات سوچے یا وہ کوئی بری کارروائی کرے، تو فوراً اس کے سینے کے اندر بیٹھی ہوئی ضمیر کی عدالت اس کو چوکنا کرتی ہے۔ وہ خاموش زبان میں اس سے کہنے لگتی ہے کہ یہ غلط بات ہے، تم کو چاہیے کہ تم اسے چھوڑ دو۔ آدمی اگر ضمیر کی آواز کی پیروی کرے تو وہ کبھی برائی میں مبتلا نہ ہو۔ ضمیر کی آواز کے ذریعے خدا ہر انسان کو متنبہ کرتا ہے۔
ضمیر خدا کی حجت ہے۔ ضمیر کی آواز کو نظر انداز کرنا خدا کی آواز کو نظر انداز کرنا ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 187۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.