Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ek bhonchaal

Urdu · 5 min

ایک بھونچال۔ قرآن کی سورہ نمبر 99 میں ارشاد ہوا ہے: "جب زمین شدت سے ہلا دی جائے گی" اور زمین اپنا بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی، اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا۔ اس دن وہ اپنے حالات بیان کرے گی، کیونکہ تمہارے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ نکلیں گے تاکہ ان کے اعمال دکھائے جائیں۔

پس جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا، اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا۔ الزلزال، ایک تا آٹھ۔ قیامت کا زلزلہ، مدت امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔

اب وہ وقت آ گیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خدا کی دنیا بظاہر خاموش ہے، مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔ موجودہ زمانے کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی بولنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں۔

اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے، وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہو رہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔ دنیا میں انسان کے رویے کو درست کرنے کے لیے صرف ایک ہی چیز کافی ہے: آدمی کو اس بات کا پختہ شعور ہو جائے کہ وہ ہر لمحہ خدا کی نگرانی میں ہے۔

اس کا پورا کارنامۂ حیات خدا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، چھوٹا عمل ہو یا بڑا عمل۔ چھپ کر کیا ہوا کام یا اعلانیہ کیا ہوا کام، سب کا سب وہاں سامنے آ جائے گا۔ آدمی کو اس حقیقت کا پورا یقین ہو جائے تو زمین کے ہلائے جانے سے پہلے وہ خود ہل جائے گا۔ قیامت کے عام زلزلے سے پہلے خود اس کی اپنی روح میں ایک ایسا زلزلہ آ جائے گا جو اس کو آخری حد تک بدل کر رکھ دے۔

اس کے بعد آدمی خود اپنا نگراں بن جائے گا۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی اختیار کر لے گا۔ وہ اپنے اختیار کو خدا کے حکم کے تحت استعمال کرے گا، نہ کہ آزادانہ طور پر۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 104۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.