خدا پرستانہ زندگی اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو ایسا بنایا جائے کہ وہ دنیا میں خدا پرستانہ زندگی گزارنے لگے، وہ غیر خدا پرستانہ زندگی کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ غیر خدا پرستانہ زندگی یہ ہے کہ آدمی کی دلچسپیاں خدا کے سوا دوسری چیزوں میں لگی ہوئی ہوں، اس کی توجہ کا مرکز مخلوقات ہوں، نہ کہ خالق۔ وہ دوستی کرے تو خدا کے لیے کرے، وہ دشمنی کرے تو خدا کے لیے کرے؛ اس کی سوچ اور جذبات کا مرکز پوری طرح خدا کی ذات بن جائے۔ جب آدمی کسی منزل پر پہنچنے کے لیے ایک راستے کو اختیار کرتا ہے تو وہ اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ وہ دائیں بائیں مڑے بغیر اپنے راستے پر چلتا رہے، کیونکہ اس کے بغیر وہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
یہی معاملہ انسان اور خدا کا بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی انسان جب اپنی زندگی شروع کرتا ہے تو ایک راستہ وہ ہوتا ہے جو خدا کی طرف جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ دوسرے بہت سے راستے ہوتے ہیں جو ادھر ادھر مڑ کر کسی اور منزل کی طرف جا رہے ہوتے ہیں۔ سچے طالبِ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اہتمام کے ساتھ خدا والے راستے پر چلتا رہے، وہ ہرگز دائیں اور بائیں جانے والے راستوں کی طرف نہ مڑے۔
جو آدمی خدا کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر قائم رہے، وہ بلاشبہ خدا تک پہنچے گا۔ اس کے برعکس جو آدمی ادھر ادھر مڑ جائے، وہ درمیان میں بھٹک کر رہ جائے گا، وہ کبھی خدا تک پہنچنے والا نہیں۔ ادھر ادھر کے راستوں پر بھٹکنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا تابع بن جائے، وہ ظاہری مفاد کو اہمیت دینے لگے، وہ غصہ اور نفرت اور حسد اور انانیت جیسے جذبات کا شکار ہو جائے، وہ بے سوچے سمجھے ہر اس سمت میں دوڑ پڑے جو اسے اپنے سامنے کھلی ہوئی دکھائی دیتی ہوں۔ اس کے برعکس خدا والا راستہ یہ ہے کہ آدمی خدا کے احکام پر غور کرے، وہ سنجیدہ فیصلے کے تحت اپنا رخ متعین کرے، وہ آخرت کی جواب دہی کی بنیاد پر اپنی زندگی کے معاملات طے کرے، نہ کہ محض وقتی فائدہ یا وقتی محرکات کی بنیاد پر۔
اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.