Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Hajj

Urdu · 4 min

حج، حج ایک عبادت ہے؛ وہ استطاعت رکھنے والے کے اوپر زندگی میں ایک بار کے لیے فرض ہے۔ جو آدمی استطاعت نہ رکھتا ہو، اس کے اوپر حج کی فرضیت نہیں۔ حج میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر حجاز جاتا ہے؛ وہاں وہ مکے میں داخل ہو کر کعبے کا طواف کرتا ہے۔ وہ صفا اور مروہ نام کی دو پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتا ہے، عرفات میں قیام کرتا ہے، جمار پر پتھر مارتا ہے، قربانی کرتا ہے۔

اس طرح کے مختلف عبادتی رسوم ذوالحجہ کے مہینے میں ادا کیے جاتے ہیں؛ اسی کا نام حج ہے۔ یہ حج بندے کی طرف سے اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کرنے کی ایک علامتی صورت ہے۔ ان اعمال کے ذریعے بندہ یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے لیے سونپ رہا ہے۔ اس کی زندگی صرف خدا کے گرد گھومے گی۔

وہ خدا کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہے۔ حج کے عمل کے دوران آدمی کعبے کے معمار حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یاد کرتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی یادگاروں کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے کچھ ایام کو اس ماحول میں گزارتا ہے جہاں اسلام کی ابتدائی تاریخ بنائی گئی۔

اس طرح حج ایک آدمی کو خدا سے اور خدا کے پیغمبروں سے جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ خدا کے نیک بندوں کی زندگیوں کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اسلام کی تاریخ سے زندہ تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ حج ساری دنیا کے خدا پرستوں کو متحد کرتا ہے۔

وہ دنیا بھر کے ایمان والوں کے ذہن میں اس حقیقت کو تازہ کرتا ہے کہ ان کی نسلیں اور ان کی قومیتیں، خواہ الگ الگ ہوں، مگر ایک خدا پر عقیدہ ان کے عالمی اتحاد کی مضبوط بنیاد ہے۔ وطن کے اعتبار سے وہ خواہ کتنے ہی مختلف ہوں، مگر ایک خدا کا پرستار ہونے کے اعتبار سے وہ سب کے سب ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے۔ حج اصلًا خدا کی عبادت ہے، مگر عملی اعتبار سے اس میں دوسرے بہت سے ملی فائدے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ملی اتحاد ہے۔

اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.