Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Namaaz

Urdu · 4 min

نماز۔ نماز خدا کی عبادت ہے، وہ روزانہ 5 وقت کے لیے فرض ہے۔ جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لیے اس کا انتظام مسجدوں میں کیا جاتا ہے۔ نماز میں سب سے پہلے وضو کیا جاتا ہے، چہرہ اور ہاتھ اور پاؤں کو پانی سے دھو کر۔

نمازی اپنے اندر اس احساس کو جگاتا ہے کہ وہ ہمیشہ پاکیزہ زندگی گزارے گا۔ پھر وہ اللہ اکبر، یعنی "اللہ سب سے بڑا ہے" کہہ کر نماز کے عمل میں داخل ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اقرار کرتا ہے کہ بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے۔ آدمی کے لیے صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ وہ چھوٹا اور متواضع بن کر دنیا میں رہے۔

نماز میں آدمی قرآن کے کچھ حصوں کو پڑھ کر اپنے بارے میں خدا کے احکام کو ذہن میں تازہ کرتا ہے۔ پھر وہ رکوع اور سجدہ کر کے عمل کی زبان میں یہ کہتا ہے کہ میرے لیے صرف ایک ہی رویہ درست ہے، اور وہ یہ کہ میں خدا کا تابع بن کر دنیا میں زندگی گزاروں۔ نماز کا عمل جب ختم ہوتا ہے تو تمام نمازی دائیں اور بائیں منہ پھیر کر کہتے ہیں: "السلام علیکم ورحمۃ اللہ"، یعنی تمہارے اوپر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ نماز کے ذریعے تربیت پا کر اب تمام نمازی اس طرح دنیا میں داخل ہو رہے ہیں کہ ان کے دل میں دوسروں کے لیے رحمت اور امن کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔

وہ سماج کا امن پسند ممبر بن کر رہیں گے، وہ کسی کے ساتھ بدخواہی کا عمل نہیں کریں گے۔ نماز ایک اعتبار سے خدا کی عبادت ہے، وہ خدا کی خدائی کا اعتراف ہے۔ وہ ہر قسم کی بڑائی کو صرف خدا کے لیے خاص کرتے ہوئے اس کے آگے جھک جانا ہے۔ دوسرے اعتبار سے نماز آدمی کو اس کے لیے تیار کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان وہ سچا انسان بن کر رہے۔

وہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع اور ہمدردی کا انداز اختیار کرے۔ نماز خدا کے ساتھ بھی نمازی کے معاملے کو درست کرتی ہے، اور انسان کے ساتھ اس کے معاملے کو بھی۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.