Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Aakhirat

Urdu · 4 min

آخرت۔ انسان ایک ابدی مخلوق ہے، تاہم اس کی عمر کو خدا نے دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ اس کی عمر کا بہت چھوٹا سا حصہ موجودہ دنیا میں رکھ دیا ہے، اور اس کا بقیہ تمام حصہ موت کے بعد آنے والی آخرت میں۔ موجودہ دنیا عمل کی جگہ ہے، اور آخرت کی دنیا عمل کا انجام پانے کی جگہ۔

موجودہ دنیا ناقص ہے، اور آخرت کی دنیا ہر اعتبار سے کامل۔ آخرت ایک لامحدود دنیا ہے؛ وہاں تمام چیزیں اپنی معیاری حالت میں مہیا کی گئی ہیں۔ خدا نے اپنی جنت کو اسی آخرت کی دنیا میں رکھا ہے۔ جنت ہر قسم کی نعمتوں سے بھری ہوئی ہے۔

موجودہ دنیا میں جو لوگ نیکی اور خدا پرستی کا ثبوت دیں گے، وہ آخرت کی دنیا میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے لیے جنت کے دروازے ابدی طور پر کھول دیے جائیں گے۔ لیکن جو لوگ موجودہ دنیا میں خدا کو بھول جائیں، یا خدا کے مقابلے میں سرکشی کا طریقہ اختیار کریں، وہ خدا کے نزدیک مجرم ہیں۔ ایسے تمام لوگ آخرت کی نعمتوں سے محروم رہیں گے۔ موجودہ دنیا میں خدا غیب کی حالت میں ہے؛ آخرت کی دنیا میں وہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ سامنے آ جائے گا۔

اس وقت تمام انسان خدا کے سامنے جھک جائیں گے، مگر اس وقت کا جھکنا کسی کے کام نہیں آئے گا۔ خدا کے سامنے وہ جھکنا مطلوب ہے جو دیکھنے سے پہلے موجودہ دنیا میں ہو۔ آخرت میں خدا کو دیکھ لینے کے بعد جھکنا کسی کو کچھ فائدہ دینے والا نہیں۔ موت آدمی کی زندگی کا خاتمہ نہیں؛ وہ اگلے یا دوسرے مرحلہ حیات کا آغاز ہے۔

موت وہ درمیانی مرحلہ ہے، جبکہ آدمی آج کی وقتی دنیا سے نکل کر کل کی مستقل دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ دنیا کے مسافر خانے سے نکل کر آخرت کی ابدی قیام گاہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ آخرت کا یہ مرحلہ ہر ایک کی زندگی میں لازماً پیش آنے والا ہے۔ کوئی بھی نہیں جو اپنے آپ کو آخرت کی پیشی سے بچا سکے۔

اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 18۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.