قدیم یونانی ذہن پر سب سے زیادہ غلبہ دیومالا کا تھا، یونانی دیومالا یا گریک مائتھالوجی، ایک مفصل موضوع ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں، حتیٰ کہ "Encyclopedia of Greek Mythology" کے نام سے اس موضوع پر ایک مستقل انسائیکلوپیڈیا بھی موجود ہے۔ قدیم یونان میں دیوتاؤں اور ہیروں کے نام پر بے شمار عجیب و غریب قسم کی کہانیاں مشہور تھیں، جن کو یونانی لوگ بالکل حقیقت کی طرح مانتے تھے۔ ایسے ماحول میں یہ ممکن نہ تھا کہ کوئی حقیقی سائنس ترقی کر سکے؛ شاعروں اور آرٹسٹوں کی خیال سازی کے لیے یہ ماحول موزوں تھا۔
چنانچہ ان کے درمیان کثرت سے شاعر اور آرٹسٹ پیدا ہوئے، مگر وہاں کا ماحول علمی تحقیق کے لیے موزوں نہ تھا، چنانچہ علمی محققین، یا آج کی زبان میں سائنٹسٹ، وہاں پیدا بھی نہیں ہوئے۔ قدیم یونان میں ہر چیز کے دیوتا تھے؛ ان کے بارے میں ان کے یہاں طلسماتی تصورات پھیلے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں شاعری اور آرٹ جیسی چیزوں کی ترقی کے لیے ان کے یہاں فضا پوری طرح موجود تھی۔ چنانچہ یونان میں اور یونان کے باہر دوسرے یورپی ملکوں میں ایسے بہت سے فنکار پیدا ہوئے جن کو یونانی دیومالا سے ذہنی تحریک ملی۔
حتیٰ کہ مغربی ادب پر یونانی دیومالا کا اثر آج تک پایا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 8، صفحہ 405 تا 406: "یونانی تہذیب قدیم زمانے کی مشہور ترین تہذیب ہے، مگر وہ یورپ میں سائنس کے عمل کا آغاز نہ کر سکی۔ یہ کام صرف اس وقت شروع ہوا جبکہ مسلمانوں کے ذریعے سائنسی طرز فکر یورپ تک پہنچا۔ شرک کا نظریہ معنی ترقی تھا، توحید کا نظریہ فاتح ترقی بن گیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.