← Islam Daur-e-Jadeed ka KhaaliqIslam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
تاریکی سے روشنی تک
Urdu · 6 min
اللہ تعالیٰ نے ایک مکمل دنیا بنائی، اور پھر انسان کو کامل صورت میں پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان سے کہا کہ تم اس دنیا میں رہو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اسی کے ساتھ انسان کو یہ بھی بتا دیا کہ تمہارا خالق اور معبود صرف ایک ہے۔ اسی ایک خدا کی پرستش کرو، اس کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بناؤ۔
مگر انسان محسوس پرستی میں پڑ گیا۔ وہ غیر مری خدا کو اپنا مرکز توجہ نہ بنا سکا۔ وہ دن بدن مری خداؤں کی طرف مائل ہوتا چلا گیا۔ جو چیز بھی اس کو بظاہر بڑی اور نمایاں نظر آئی، اس کے متعلق اس نے سمجھ لیا کہ وہ خدا ہے، یا وہ اپنے اندر خدائی صفت رکھتی ہے۔
اس طرح ایک طرف بڑے انسانوں کے تقدس کا عقیدہ پیدا ہوا، اور دوسری طرف فطرت کی پرستش کا سلسلہ شروع ہوا، جس کو مظاہر کی پرستش یعنی ورشپ آف نیچرل فینامینا یا فطرت کی پرستش یعنی نیچر ورشپ کہا جاتا ہے۔ اسی عبادتِ غیر اللہ کا نام شرک ہے۔ یہ شرک دھیرے دھیرے عقیدہ اور عمل کے تمام پہلوؤں پر چھا گیا۔ برکت اور نحوست کے مفروضہ عقائد کے تحت وہ تمام گھریلو رسموں میں شامل ہو گیا، اور خدائی بادشاہ یعنی ڈیوائن کنگ کے نظریے کی صورت میں وہ سیاسی نظام کا لازمی جز بن گیا۔
یہی قدیم دنیا کا مذہب تھا۔ قدیم دنیا مکمل طور پر ان مفروضہ عقائد پر قائم ہو گئی تھی جس کو مذہب کی زبان میں شرک اور علمی زبان میں توہم پرستی یعنی سپر اسٹیشن کہا جاتا ہے۔ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے، وہ سب اسی بگاڑ کی اصلاح کے لیے آئے۔ انہوں نے ہر دور میں انسان کو یہ دعوت دی کہ شرک کو چھوڑو اور توحید کو اختیار کرو۔
ایک روایت کے مطابق حضرت آدم سے لے کر حضرت مسیح تک ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر آئے۔ صحیح ابن حبان حدیث نمبر 361۔ مگر انسان ان کی بات ماننے کے لیے راضی نہ ہوا۔ پیغمبروں کی دعوت اعلان حق تک رہی، وہ انقلاب حق تک نہ پہنچ سکی۔
شرک یا توہم پرستی کو ختم کرنے کا معاملہ سادہ معنوں میں صرف ایک مذہبی معاملہ نہ تھا۔ اس کا تعلق انسان کے تمام معاملات سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ توہم پرستی کا یہ غلبہ ہر قسم کی انسانی ترقیوں کو روکے ہوئے تھا۔ اس نے فطرت یعنی نیچر کو تقدس کا درجہ دے کر اس کی تحقیق و تسخیر کا ذہن ختم کر دیا تھا۔
جبکہ فطرت کی تحقیق و تسخیر کے بعد ہی وہ تمام واقعات ظہور میں آنے والے تھے جن کو سائنسی یا صنعتی ترقی کہا جاتا ہے۔ اس نے مختلف قسم کے بے بنیاد مفروضات کے تحت انسانوں کے درمیان اونچ نیچ کے عقائد قائم کر لیے تھے۔ ان کے باقی رہتے ہوئے یہ ناممکن ہو گیا تھا کہ انسانی مساوات کا دور شروع ہو سکے۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کو موجودہ زمانے میں روشنی اور ترقی کہا جاتا ہے، ان سب کا ظہور ناممکن بن گیا تھا۔
کیونکہ ان کے ظہور کے لیے دنیا کے بارے میں سائنٹیفک نقطہ نظر درکار تھا، اور توہم پرستانہ نقطہ نظر نے سائنٹیفک نقطہ نظر کی پیدائش کو ناممکن بنا دیا تھا۔ ہزاروں برس کی پیغمبرانہ کوشش ثابت کر چکی تھی کہ مجرد فکری اور دعوتی جدوجہد انسان کو توہمات کے اس دور سے نکالنے کے لیے کافی ہے۔ اس زمانے کی حکومتیں بھی انہی توہماتی عقائد کی بنیاد پر قائم ہوتی تھیں۔ اس لیے حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا کہ توہماتی دور دنیا میں باقی رہے تاکہ عوام کے اوپر ان کی بادشاہی کا حق مجتبی نہ ہونے پائے۔
اس لیے وہ اپنی فوجی اور سیاسی طاقت کو ہر اس دعوت کے خلاف بھرپور طور پر استعمال کرتے تھے جو شرک اور توہم پرستی کو ختم کرنے کے لیے اٹھی ہو۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا کیا جائے؟ یہی وہ وقت ہے جبکہ چھٹی صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فیصلے کے تحت آپ کو داعی بنانے کے ساتھ ماہی بھی بنایا۔
یعنی آپ کے ذمے یہ مشن سپرد ہوا کہ آپ نہ صرف اس توہماتی نظام کے باطل ہونے کا اعلان کریں بلکہ اس سیاسی غلبے کو ہمیشہ کے لیے، بلکہ اس سیاسی غلبے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی خاطر فوجی کارروائی یعنی ملٹری آپریشن بھی فرمائیں، جس کی سرپرستی میں یہ توہماتی نظام جاری تھا۔