Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

تمہید

Urdu · 13 min

امریکی خلاباز آرم اسٹرانگ، یعنی نیل آرم اسٹرانگ، 1930 تا 2012، پہلا انسان ہے جس نے چار روزہ خلائی سفر کے بعد 20 جولائی 1969 کو چاند پر اپنا قدم رکھا، اور وہاں پہنچ کر یہ تاریخی الفاظ کہے کہ "ایک انسان کے لیے یہ ایک چھوٹا قدم ہے، مگر انسانیت کے لیے وہ ایک عظیم چھلانگ ہے"۔ That's one small step for a man. One giant leap for mankind. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 1، پیج 530۔

آرم اسٹرانگ اور اس کے ساتھی ایڈون آلڈرین، برتھ 1930، اور مائیکل کولنز، برتھ 1930، نے ایک مخصوص راکٹ "اپولو سیکنڈ" پر سفر کیا، اور آخری مرحلے میں ایک چاند گاڑی، یعنی "ایگل" کے ذریعے وہ چاند کی سطح پر اترے۔ یہ اپولو یا یہ چاند گاڑی کوئی جادو کا اڑن کھٹولا نہ تھا؛ وہ محکم قانون فطرت کے تحت بنی ہوئی ایک سائنسی مشین تھی، اس نے قانون فطرت کو استعمال کر کے یہ پورا خلائی سفر طے کیا۔ یہ قانون ہماری دنیا میں لاکھوں سال سے موجود تھا، مگر انسان اس سے پہلے کبھی یہ سوچ نہ سکا کہ وہ فطرت کے اس قانون کو جانے اور اس کو استعمال کر کے چاند تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ فطری امکانات کے باوجود چاند تک پہنچنے میں اس تاخیر کا سبب کیا تھا؟

یہ سبب شرک تھا، یعنی مخلوق کو معبود سمجھ کر ان کی پرستش کرنا۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں شرک کا عقیدہ چھایا ہوا تھا۔ انسان دوسری چیزوں کی طرح چاند کو اپنا معبود سمجھتا تھا۔ روشن چاند کو دیکھ کر آدمی کے ذہن میں اس کے آگے جھکنے کا خیال پیدا ہوتا تھا، نہ کہ اس کو فتح کرنے کا۔

چاند کو مقدس سمجھ لینا اس میں رکاوٹ بن گیا کہ آدمی چاند کو مسخر کرنے کی بات سوچ سکے۔ ساتویں صدی عیسوی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اسلام کے ذریعے وہ انقلاب آیا جس نے شرک کو مغلوب کر کے توحید کو غالب فکر بنا دیا۔ یہ انقلاب اولا عرب میں آیا، اس کے بعد وہ ایشیا اور افریقہ میں سفر کرتا ہوا یورپ پہنچا، اور پھر وہ اٹلانٹک کو پار کر کے امریکہ میں داخل ہو گیا۔ مسلم دنیا میں یہ انقلاب مذہب کے تحت آیا تھا۔

مغربی دنیا نے اپنے حالات کے زیر اثر اس میں یہ فرق کیا کہ اس کو مذہب سے الگ کر کے ایک سیکولر علم کے طور پر ترقی دینا شروع کیا، اور پھر اس کو موجودہ انتہا تک پہنچایا، جس طرح نیشنلائزیشن مارکسزم کے فلسفیانہ نظام کا ایک معاشی جز ہے، اسی طرح جدید سائنس اسلامی انقلاب کا ایک جزئی حصہ ہے، جس کو اس کے پورے مجموعے سے الگ کر لیا گیا ہے۔ چاند کے سفر کا ذکر یہاں بطور مثال کیا گیا ہے۔ یہی ان تمام علوم کا معاملہ ہے جن کو موجودہ زمانے میں علوم فطرت یعنی نیچرل سائنسز کہا جاتا ہے۔ یہ علوم قدیم زمانے میں شرک یا بالفاظ دیگر مظاہر فطرت کو مقدس سمجھنے کی بنا پر ممنوعہ علوم بنے ہوئے تھے۔

توحید کے انقلاب نے فطرت کو تقدس کے مقام سے ہٹا کر ان کی تحقیق و تسخیر کا دروازہ کھول دیا۔ اس طرح تاریخ انسانی میں فطرت کی آزادانہ تحقیق کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ دور ہزار سالہ عمل کے بعد آخر کار جدید سائنس اور جدید ٹیکنالوجی تک پہنچا۔ جدید سائنس تمام تر اسلامی انقلاب کی دین ہے، ابتدا براہ راست طور پر اور اس کے بعد بالواسطہ طور پر۔

اس حقیقت کا اعتراف کسی نہ کسی انداز سے عام طور پر کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں کثرت سے ایسی کتابیں لکھی گئی ہیں جن کا نام ہوتا ہے "عربوں کی سائنسی ترقی" یا "تہذیب میں مسلمانوں کا حصہ"۔ Muslim contribution in progress of civilization. محققین نے عام طور پر اس بات کا اقرار کیا ہے کہ جدید صنعتی ترقی عربوں یعنی مسلمانوں کے اثر سے ظہر میں آئی۔

اے ہمبوٹ نے کہا ہے کہ یہ دراصل عرب ہیں جن کو صحیح معنی میں فزکس کا بانی سمجھا جانا چاہیے۔ It is the Arabs who should be regarded as the real founders of physics. پیج 25۔ فلپ ہٹی، یعنی فلپ خوری ہٹی، 1886 تا 1978 میں اپنی کتاب "History of the Arabs" (1970) میں لکھا ہے کہ قرون وسطیٰ میں کسی بھی قوم نے انسانی ترقی میں اتنا حصہ ادا نہیں کیا جتنا عربوں نے اور عربی زبان بولنے والوں نے کیا۔

No people in the Middle Ages contributed to human progress so much as did the Arabians and the Arabic-speaking peoples. "History of the Arabs" (مکملن) 1970، پیج 4۔ مؤرخین نے عام طور پر تسلیم کیا ہے کہ عربوں یعنی مسلمانوں کے ذریعے جو علوم یورپ میں پہنچے، وہی بالآخر یورپ کی نشت ثانیہ یعنی صحیح تر لفظ میں نشت اولیٰ پیدا کرنے کا سبب بنے۔ پروفیسر ہٹی نے لکھا ہے کہ 832 عیسوی میں بغداد میں بیت الحکمت قائم ہونے کے بعد عربوں نے جو ترجمے کیے اور جو کتابیں تیار کیں، وہ لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر اسپین اور سسلی کے راستے سے یورپ پہنچیں، اور پھر وہ یورپ میں نشت ثانیہ پیدا کرنے کا سبب بنیں۔

This stream was re-diverted into Europe by the Arabs in Spain and Sicily, whence it helped create the Renaissance of Europe. "History of the Arabs" پیج 307۔ تاہم سوال یہ ہے کہ خود عربوں یعنی مسلمانوں کے اندر یہ ذہن کیسے پیدا ہوا جبکہ وہ خود بھی پہلے اسی عام پسماندگی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے، جس میں ساری دنیا کے لوگ پڑے ہوئے تھے؟ اس کا جواب صرف ایک ہے، وہ یہ کہ توحید کا عقیدہ ان کے لیے اس ذہنی اور عملی انقلاب کا سبب بنا۔

دوسری قوموں کے پاس شرک تھا، عربوں کے پاس یعنی اسلام کے بعد توحید۔ اسی فرق نے دونوں کی تاریخ میں یہ فرق پیدا کر دیا کہ ایک تاریخ کا معمول بنا رہا، دوسرا تاریخ کا عامل بن گیا۔ زیر نظر کتاب کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک مسلمہ تاریخی واقعہ، جس کو لوگوں نے صرف ایک مسلم قوم کے خانے میں لکھ رکھا ہے، اس کو زیادہ صحیح طور پر اسلام کے خانے میں درج کیا جائے۔ یہ صرف ایک معلوم واقعے کی توجیہ ہے، نہ کہ کسی نامعلوم واقعے کی خبر دینا۔

ایک مثال سے اس کی مزید وضاحت ہو سکتی ہے: یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہندوستان 1947 میں آزاد ہوا۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان کو گاندھی یعنی موہن داس کرم چند گاندھی 1869 تا 1948 اور نہرو یعنی جواہر لال نہرو 1889 تا 1964 نے آزاد کرایا، مگر زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہندوستان کو جدید قومی اور جمہوری نظریات نے آزاد کرایا۔ موجودہ زمانے میں جمہوریت اور قومی آزادی کے اصولوں کی بنیاد پر جو عالمی فکری انقلاب آیا، اس نے وہ حالات پیدا کیے جس میں کوئی گاندھی یا کوئی نہرو اٹھے اور ملک کو آزادی کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو سکے۔ اگر عالمی فکری انقلاب کا یہ ماحول موافقت نہ کر رہا ہوتا تو ہمارے لیڈروں کی تحریک آزادی بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہوتی۔

زیر بحث موضوع کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب مسلمانوں کے ذریعے دنیا میں جدید سائنسی انقلاب کا آغاز ہوا، مگر خود اس آغاز کا سبب بھی یہ تھا کہ اسلام نے انہیں ایک نیا ذہن دیا۔ اس طرح سائنس کی تاریخ صرف ایک قوم کا کارنامہ نہیں رہتی، بلکہ اس دین کا عطیہ قرار پاتی ہے جو ابدی طور پر تمام انسانوں کی صحیح رہنمائی کے لیے خدائے ذوالجلال کی طرف سے اپنے بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ ہنری پرین 1862 تا 1935 نے اس تاریخی حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ اسلام نے کرہ ارض کی صورت بدل دی، تاریخ کا روایتی ڈھانچہ اکھاڑ پھینک دیا گیا۔

Islam changed the face of the globe; the traditional order of history was overthrown. ہنری پرین، "A History of Europe" (لندن) 1939، پیج 46۔ زیر نظر کتاب اسلامی انقلاب کے اسی پہلو کا مختصر تعارف ہے۔ اس موضوع پر میں ایک جامع اور مفصل کتاب تیار کرنا چاہتا تھا۔

معلومات جمع کرنے کا کام کسی قدر سست رفتاری کے ساتھ جاری تھا۔ آخر کار مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی موجودہ مصروفیات کے ساتھ مطلوبہ نوعیت کی زیادہ مفصل اور جامع کتاب شاید تیار نہ کر سکوں گا۔ اس لیے یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ جتنا کام ہو چکا ہے، اس کو بلا تاخیر کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے۔ اگر عمر اور حالات نے موقع دیا تو ان شاء اللہ آئندہ اس میں مزید مباحث کا اضافہ کیا جا سکے گا، اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو یہ نقش اول کسی بات کو آنے والے کے لیے نقش ثانی کی تیاری میں مددگار ہو سکتا ہے۔

وحید الدین، 16 اپریل 1989۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.