Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam Aur Inteha Pasandi
Islam Aur Inteha Pasandi

ایک ایت

Urdu · 3 min

ایک آیت

قرآن میں ہے کہ اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں  وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (5:44)۔

Qur'anQuotes the Qur'an

ان الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’’ما انزل اللہ‘‘کے مطابق فیصلہ نہ کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بہت سی حدیثیں ہیں جن میں بعض اعمال پر کفر کی خبر دی گئی ہے۔ مثلاًرسول اللہ ﷺ نے فرمایا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ سِبَابُ ‌الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْر(صحیح البخاری، حدیث نمبر 47)۔ یعنی، مسلم کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو لے کر کچھ اسلام پسند حضرات ان مسلمانوں کو کا فرقرار دیتے ہیں جو ان کے نزدیک ’’ما انزل اللہ ‘‘ پر فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ اس نظریہ کے تحت وہ بہت سے مسلم حکمرانوں کو مرتد اور کافر بتاتے ہیں اور ان کے قتل کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ اس قسم کا نظریہ بدترین گمراہی ہے اور اس نے عالم اسلام میں خار جیت جیسے ایک فتنہ کو دوبارہ شدید تر صورت میں زندہ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف مسلمان مسلمان کو قتل کر رہے ہیں،بلکہ خود اسلام کی تصویر ایک ایسے مذہب کی ہوگئی ہے جو تشدد اور خوںریزی کی تعلیم دیتا ہو۔

اس قسم کی آیات اور احادیث کی صحیح تفسیر وہ ہے، جو حبر الامت اور امام التفسیر عبد اللہ بن عباس نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ کفر نہیں ہے جس سے آدمی خارج از اسلام قرار پاتا ہے۔ بلکہ اس سے مراد  كُفْرٌ ‌دُونَ ‌كُفْرٍ(سنن ترمذی، حدیث نمبر2635) ہے۔ یعنی کفر سے کم تر درجہ کا ایک کفر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن وحدیث میں جہاں اس قسم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ فقہی یا قانونی مفہوم میں نہیں ہیں۔ وہ ایک اسلوب کلام ہے۔ وہ دراصل زجر میں مبالغہ ہے ۔ یہ شدت کلام کی ایک مثال ہے۔ اور ناصحانہ کلام میں ہمیشہ اس قسم کا انداز اختیار کیا جاتا ہے، کبھی ایک قسم کے الفاظ میں اور کبھی دوسرے قسم کے الفاظ میں ۔ یہ قانونی زبان اور ناصحانہ زبان کا فرق ہے، نہ کہ فقہی معنوں میں مسلم اور کافر کا فرق تھے۔

نصیحت اور تنبیہ کبھی سادہ الفاظ میں کی جاتی ہے اور کبھی شدید الفاظ میں ۔ مذکورہ مثالیں اسی نوعیت کی شدید انداز کی مثالیں ہیں۔(الرسالہ، ستمبر 1996)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content