Maulana Wahiduddin Khan
19 min left
0:00

← Islam Aur Asr-e-Hazir
Islam Aur Asr-e-Hazir

اجتماعی مسائل

Urdu · 19 min

اجتماع کیا ہے۔ اجتماع دراصل افراد ہی کے مجموعہ کا دوسرا نام ہے۔ سوسائٹی کا سلوک دراصل فرد فرد کے سلوک ہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ افراد صحیح ہوں تو سوسائٹی صحیح ہوگی۔ افراد غلط ہوں تو سوسائٹی بھی غلط ہو جائے گی۔

خدا کا عقیدہ سوسائٹی کے ہر فرد کو صحیح ترین نقطۂ نظر دیتا ہے۔ وہ فرد فرد میں سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ اس طرح وہ ہر فرد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ وہی کرے جو بحیثیت مجموعی پوری انسانیت کے لیے مفید ہے۔ اور وہ نہ کرے جو مجموعی انسانیت کے لیے مفید نہیں۔

خدا کا عقیدہ عظیم ترین دریافت ہے۔ وہ آدمی کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے۔ اس کی مثال کیرم بورڈ سے دی جا سکتی ہے۔ کیرم کے کھیل میں بورڈ کے درمیان19 گوٹیں ہوتی ہیں۔ کھلاڑی اگر اسٹرائکر کو اس طرح مارے جس سے تمام گوٹوں پر زد پڑ جائے تو ایسی مارکو شاہ ضرب (master stroke) کہتے ہیں۔ خدا پر عقیدہ بھی اسی قسم کا ایک ماسٹر اسٹروک ہے۔

خدا پر عقیدہ انسان کی پوری ہستی پر ضرب لگاتا ہے۔ وہ آدمی کی تمام قوتوں کو متحرک بنا دیتا ہے۔ خدا پر عقیدہ بظاہر ایک چیز ہے مگر وہ انسان کو ہر پہلو سے ایک اصلاح یافتہ انسان بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس کی ہستی کا جو پہلو بھی دنیا میں ظاہر ہو وہ درست شکل میں ظاہر ہو، فطرت کے سیدھے راستہ سے وہ کسی حال میں انحراف نہ کرے۔ انسان کا پورا وجود خدا کی پکڑ میں ہے اس لیے خدا کا عقیدہ انسان کے پورے وجود کو متاثر کرنے والا بن جاتا ہے۔

1۔ روح کو چھوڑ کر صرف جسم پر توجہ دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر متکامل شخصیت(integrated personality) نہیں پیدا ہوتی۔ اپنے اندر کمی کا احساس اس کو مستقل طور پر غیر مطمئن رکھتا ہے۔ وہ اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کو جو کچھ پانا چاہیے تھا وہ ابھی تک اس کو نہ پا سکا۔

یہ احساس محرومی اکثر حالات میں سماجی برائیوں کا سبب ہے۔ سماج کے اندر ظلم و فساد کی حقیقت دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بے چینی کو دوسرے کے اوپر انڈیل دینا چاہتا ہے۔ ایک آدمی اپنی محروم خواہشوں کی تکمیل کے لیے دوسرے کے استغلال کا منصوبہ بناتا ہے مگر جب خدا کا عقیدہ اس کے ذہن میں اتر جائے تو اس کے بعد اس کے اندر متکامل شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد روح (complex-free soul) بن جاتا ہے جس کو قرآن میں نفس مطمئنہ کہا گیا ہے۔ اس کے بعد اگر اس کے پاس کم ہو تو اس کے اندر احساس کمتری کی برائیاں پیدا نہیں ہوتیں۔ اس کے پاس زیادہ ہو تو وہ احساس برتری کے مرض میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وہ ہر حال میں ایک معتدل انسان بنا رہتا ہے۔ اور یقینی طور پر یہی وہ چیز ہے جو کسی شخص کو بہتر سماجی فرد بناتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ دوسری چیز احساس ذمہ داری ہے۔ احساس ذمہ داری ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ آدمی یہ محسوس کرے کہ اس کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے جو اس کو اپنی پکڑ میں لے سکتی ہے۔ خدا کو چھوڑنے کے بعد آدمی کے سامنے ایسی کوئی بلند تر طاقت باقی نہیں رہتی جس سے آدمی اندیشہ کرے اور جس کے سامنے جواب دہی کا احساس اس کو مجبور کرے کہ وہ سچائی پر قائم رہے۔

اس کے برعکس، جب آدمی قادر مطلق خدا کو مانتا ہے تو اس کے فوراً بعد اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ مجھے اس کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔ جواب دہی کا خیال اس کو اپنے قول و عمل میں بے حد حساس بنا دیتا ہے۔ یہ جذبہ اس کی پوری زندگی کو منظم کرتا ہے۔ وہ اس کے اوپر نگراں بن جاتا ہے۔ وہ اس کو ظلم اور استحصال(exploitation) کے راستوں سے بچاتا ہے اور ہمیشہ انصاف اور بھلائی کو اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مشہور انگریز جج سرمیتھیو ہیل(1609-1676) نے بجا طور پر لکھا ہے کہ’’یہ کہنا کہ مذہب ایک فریب ہے، ان تمام ذمہ داریوں اور پابندیوں کو منسوخ کرنا ہے جن سے سماجی نظم کو برقرار رکھا جاتا ہے۔‘‘

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Religion without Revelation, by Julian Huxley, p.155

کسی سوسائٹی کے بیشتر افراد جب اسلام کے تصور کے مطابق خدا کو اپنے عقیدے میں شامل کر لیں تو اس کے بعد اجتماعی معاملات میں زبردست تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ آدمی کا یہ احساس کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے اس کے اندر سے یہ مزاج ختم کر دیتا ہے کہ وہ اندر کچھ ہو اور باہر کچھ۔ ایسے لوگ دوسروں کا استغلال نہیں کرتے، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کا انہیں حساب دینا پڑے گا۔ ان کی زندگی خود رخی زندگی(self-oriented life) کے بجائے خدا رخی زندگی(God-oriented life) بن جاتی ہے۔

خدا پر ایمان لانا ایک ایسی ہستی پر ایمان لانا ہے جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ جو انسان کے دلوں تک کا حال جانتا ہے جو انسان سے اس کے تمام کھلے اور چھپے کا حساب لے گا۔ اس طرح خدا پر ایمان لانا آدمی سے اس کی خودی اور سرکشی کو چھین لیتا ہے۔ ایسا آدمی انتہائی سنجیدہ(sincere) اور کامل طور پر حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ یہی چیز ہر قسم کی اصلاح کا راز ہے۔ آدمی اگر سنجیدہ اور حقیقت پسند ہے تو وہ ہر کام کو صحیح طور پر انجام دے گا اور اگر وہ سنجیدہ اور حقیقت پسند نہ ہو تو جو کام بھی اس سے متعلق ہوگا اس کو وہ بگاڑ ڈالے گا— اسلام کے مطابق خدا کا عقیدہ آدمی کے اندر یہ سنجیدگی اور حقیقت پسندی پیدا کرتا ہے۔

ہماری دنیا میں جو انسان ہیں وہ سب برابر نہیں ہیں۔ یہاں کوئی طاقت ور ہے اور کوئی کمزور، یہی فرق ہر قسم کے ظلم و فساد پیدا کرتا ہے۔ جو شخص اپنے کو طاقت ور پاتا ہے وہ اس کے اوپر چڑھ دوڑتا ہے جس کو وہ بظاہر کمزور دیکھ رہا ہے۔

خدا پر ایمان برائی کی اس جڑ کو کاٹ دیتا ہے۔ خدا پر ایمان بتاتا ہے کہ اصل معاملہ انسان اور انسان کے درمیان نہیں بلکہ اصل معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہے۔ یہاں ایک طرف خدا ہے جس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں اور دوسری طرف انسان ہے جس کو خدا کے مقابلہ میں کوئی طاقت حاصل نہیں۔ گویا یہاں زیادہ طاقت اور کم طاقت کی تقسیم نہیں بلکہ طاقت اور بے طاقتی کی تقسیم ہے(فاطر، 35:15)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا پر ایمان آدمی کے ذہن کو یکسر بدل دیتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے معاملہ کو دوسرے انسانوں کی نسبت سے دیکھنے کے بجائے خدا کی نسبت سے دیکھنے لگتا ہے۔ کیونکہ بالآخر جس سے معاملہ پیش آنے والا ہے وہ خدا ہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی سے وہ تمام ظالمانہ خواہشیں حذف ہو جاتی ہیں جو اپنے معاملہ کو دوسرے انسانوں کی نسبت سے دیکھنے کی وجہ سے مصنوعی طور پر اس کے اندر پیدا ہوگئی تھیں۔ وہ اپنی حقیقی سطح پر آ جاتا ہے۔ وہ انسانِ اصلی (man cut to size) بن جاتا ہے۔

دو شخص یا دو قوم کے درمیان جب بھی نزاع پیدا ہو تو بیشتر حالات میں غلطی دونوں طرف ہوتی ہے۔ اب ایسے حالات میں اگر ایک فریق اپنے حصہ کی غلطی مان لے تو دوسرا فریق بھی بآسانی اپنی غلطی کو ماننے پر راضی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ایک فریق اپنے حصہ کی غلطی نہ مانے تو دوسرا فریق بھی اپنے حصہ کی غلطی ماننے پر راضی نہیں ہوتا۔ اس طرح جھگڑا بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

ایسے تمام معاملات میں اصل مشکل یہ ہوتی ہے کہ جھگڑا پیدا ہوتے ہی دونوں فریق اس کو اپنی عزت(prestige) کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ ہر فریق بخوبی جانتا ہے کہ غلطی کا ایک جزء اس کی طرف بھی ہے۔ مگر یہ خیال اس کو اعتراف سے روکے رہتا ہے کہ اگر میں نے اپنی غلطی مان لی تو میری بے عزتی ہو جائے گی۔ اس اندیشہ کی بنا پر دونوں میں سے کوئی فریق اپنی غلطی کے اعتراف کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

لیکن اگر دونوں میں سے کوئی ایک ایسا کرے کہ وہ پہل کرکے اپنے حصہ کی غلطی مان لے تو صورت حال فوراً بدل جائے گی۔ جو معاملہ پہلے عزت کا معاملہ تھا وہ اب توازن کا معاملہ بن جائے گا۔ اس کے بعد دوسرے فریق کے لیے اعتراف کرنا اپنے کو نیچا کرنے کے ہم معنی نہیں رہتا بلکہ وہی چیز کرنا بن جاتا ہے جو دوسرا فریق عملاً کر چکا ہے۔ گویا ایک فریق کا اعتراف دوسرے فریق کے اعتراف کو پیشگی طور پر متوازن کر دیتا ہے۔

یہی حقیقت پسندی زندگی کی اصلاح کا سب سے بڑا راز ہے۔ اور یہ حقیقت پسندی صرف خدا پرستی سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا پر ایمان دراصل خدا کو کبیر مان کر اپنے آپ کو صغیر کے مقام پر رکھنا ہے۔ یہ ایمان اس حال میں وقوع میں آتا ہے ہے کہ خدا اپنی کبریائی کو منوانے کے لیے ہمارے سامنے موجود نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے یہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی حقیقت پسندی ہے۔ اب جو شخص اس پر راضی ہو جائے کہ ساری بڑائی خدا کی طرف ہے اور ساری چھوٹائی میری طرف، وہ گویا اپنی’’کوتاہی‘‘ کو آخری حد تک تسلیم کر چکا ہے۔ اور جو شخص اپنی کوتاہی کو آخری حد تک تسلیم کر لے وہ کیسے کسی بات کو عزت کا مسئلہ بنائے گا۔ ایسے آدمی کے لیے ہر دوسرا اعتراف اسی چیز کو چھوٹی سطح پر ماننا ہے جس کو وہ زیادہ بڑی اور آخری سطح پر پہلے ہی مان چکا ہے۔

قدرت کا نظام توازن کے اصول پر قائم ہے۔ توازن کو قائم رکھنے میں قدرت جن تدبیروں سے کام لیتی ہے ان میں سے ایک تحویل(diversion) ہے۔ یعنی قوت کی فاضل مقدار کو دوسری طرف موڑ دینا۔ بارش کے موسم میں جو پانی برستا ہے اس کی ساری مقدار اگر کھیتوں اور آبادیوں میں رہ جائے تو زبردست نقصان ہو۔ ایسے موقع پر قدرت یہ کرتی ہے کہ پانی کی ضروری مقدار کھیتوں اور آبادیوں کو دے کر بقیہ تمام پانی دریائوں کی طرف محول(divert) کر دیتی ہے۔

اسی اصول تحویل کو انسان نے مصنوعی طور پر بند(dam) کی صورت میں اختیار کیا ہے۔ بند کا مقصد یہ ہے کہ دریا کے پانی کے بے روک ٹوک بہائو پر کنٹرول قائم کیا جائے۔ جب بھی ایسا ہو کہ پانی حد سے بڑھتا ہوا نظر آئے تو اس کے رخ کو موڑ کر دوسری طرف کر دیا جائے تاکہ وہ دریا میں داخل ہو کر طغیانی نہ لا سکے، بلکہ علیحدہ سے بنے ہوئے عظیم گڑھے میں جا کر گر جائے جس کو عام طور پر ذخیرہ آب(reservoir) کہا جاتا ہے۔ یہی اصول مشینوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاًا سٹیم انجن میں اسٹیم کی مقدار متعینہ حد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو اسٹیم کے رخ کو پھیر کر اسے باہر نکال دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کی اجتماعی زندگی کا بھی ہے۔ مختلف انسان جب مل جل کر رہتے ہیں تو ان کے درمیان بار بار شکایت کی باتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں تلخیاں ابھرتی ہیں۔ اگر اس شکایت اور تلخی کو بڑھنے دیا جائے تو اختلاف اور عناد اور مقابلہ کی نوبت آ جاتی ہے۔ انسانی جماعت یا انسانی معاشرہ کا درست طور پر کام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

ان حالات میں انسان کے لیے بھی ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جس کی طرف اس کے جذبات کے مضر اضافہ کو موڑا جا سکے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ زندگی میں یہی کام کرتا ہے۔ وہ اجتماعیت کو نقصان پہنچانے والے جذبات کو انسان کی جانب سے موڑ کر خدا کی طرف کر دیتا ہے۔

حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے آپ کو باپ سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے سگے بھائی بن یامین کے ساتھ بھی اسی قسم کا حادیہ پیش آیا۔ ان ناخوشگوار واقعات کے بعد قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے اندر شدید جذبات پیدا ہوئے۔ آپ اگر اپنے ان جذبات کا نشانہ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں کو بناتے تو زبردست انتشار اور اختلاف پیدا ہوتا۔ مگر آپ نے اپنے جذبات کے ہجوم کو خدا کی طرف موڑ دیا۔ آپ نے فرمایا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللهِ (12:86)۔ یعنی، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح عمر فاروقؓرضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسلامی جنرل خالد بن الولید کو معزول کر دیا۔ یہ خالد بن الولید جیسے شخص کے لیے زبردست جھٹکا تھا۔ مگر انہوں نے اپنے تمام جذبات کو یہ کہہ کر خدا کی طرف موڑ دیا إِنِّي لَا أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ عُمَرَ، وَلَكِنْ أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ رَبِّ عُمَرَ (میں عمر کے راستہ میں نہیں لڑتا بلکہ خدا کے راستہ میں لڑتا ہوں)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کسی انسانی معاشرہ کے لیے عقیدہ آخرت کی بہت بڑی دین ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی شکایات کی تلافی کے لیے خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس نے جو کچھ انسان سے نہیں پایا، اس کو وہ خدا سے پانے کی امید کرلیتا ہے۔ اس طرح خدا پرست آدمی کے منفی جذبات اپنے ہم جنسوں کی طرف رخ کرنے کے بجائے خدا کی طرف محول (divert) ہوتے رہتے ہیں۔ جو پانی سیلاب بن کر انسانی آبادی کو نقصان پہنچاتا وہdiversion poolمیں جا کر گر جاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content