موجودہ زمانہ میں تمام قومیں اجتماعی مسائل سے دو چار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا غیر ترقی یافتہ ممالک، ہر جگہ انسانی معاشرہ ظلم و فساد کا شکار ہے۔ ہر جگہ یہ سوال درپیش ہے کہ معاشرہ کی تنظیم کس طرح کی جائے کہ وہ بہتر انسانی معاشرہ بن سکے۔
انسانی مسائل پر غور کرتے ہوئے سب سے اہم بات جو سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہانسان ایک ایسی دنیا میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے سوال سے دو چار ہے جہاں بقیہ تمام چیزوں کے مسائل اول روز سے حل شدہ ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے کائنات کی شاہراہ چھوڑ رکھی ہے۔ اگر وہ خود بھی اسی شاہرہ پر آ جائے جس پر بقیہ تمام چیزیں چل رہی ہیں تو اس کے مسائل بھی اسی طرح حل ہو جائیں گے جس طرح بقیہ چیزوں کے مسائل حل ہو چکے ہیں۔
کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی آفاقی قانون میں جکڑی ہوئی ہیں۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ ہر ایک اپنے لیے الگ الگ راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز دوسروں کے لیے نفع بخش بن کر زندہ ہے۔ مگر انسان دوسروں کے استغلال پر اپنا مستقبل تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ کائنات میں اگر کوئی چیز بلند ہے تو وہ اپنا سایہ زمین پر ڈال کر تواضع کا اعتراف کرتی ہے۔ مگر انسان کو اگر کوئی بڑائی مل جائے تو وہ گھمنڈ کا اظہار کرتا ہے۔ کائنات میں ہر چیز صرف اپنے کام میں لگی ہوئی ہے، وہ کسی دوسرے سے نہیں ٹکراتی۔ مگر انسان دوسروں سے ٹکراتا ہے۔ وہ دوسرے کی تخریب پر اپنی تعمیر کا منصوبہ بناتا ہے۔ کائنات میں ایسے ’’سیلاب‘‘ آتے ہیں جن کو آزادانہ موقع دیا جائے تو وہ سخت تباہی پھیلائیں۔ مگر کائناتی نظام یہ کرتا ہے کہ ان کا رخ ندیوں اور سمندروں کی گہرائی کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس کے برعکس، انسانوں کے یہاں جب منفی جذبات کا طوفان اٹھتا ہے تو وہ اس کے رخ کو نہیں پھیرتے۔ یہاں ہر آدمی صرف یہ جانتا ہے کہ اپنی آفت کو دوسرے کے اوپر ڈال دے۔
معاشرہ کی اصلاح کے سلسلے میں اصل ضرورت یہ ہے کہ اس تضاد کو ختم کیا جائے۔ انسانی معاشرہ کو بھی اسی آفاقی نظام کا پابند بنایا جائے جس میں بقیہ تمام کائنات جکڑی ہوئی ہے۔ جس دن ایسا ہوگا اسی دن انسانی زندگی کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ جس قانون کو اختیار کرنے کے نتیجے میں بقیہ کائنات کے مسائل حل شدہ ہیں۔ اسی قانون کو اختیار کرنے سے انسانی زندگی کے مسائل کیوں کر حل نہ ہوں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.