Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Islam Aur Asr-e-Hazir
Islam Aur Asr-e-Hazir

خدا کا تصور مختلف مذاہب میں

Urdu · 6 min

آدمی کا یہ احساس عجز اس وقت تک تسکین نہیں پاتا جب تک اس کو’’خدا‘‘ فراہم نہ کر دیا جائے۔ بظاہر ہر مذہب انسان کو یہی خدا فراہم کر رہا ہے۔ مگر اسلام کے سوا جو مذاہب ہیں وہ سب تحریف اور الحاق اور ضیاع کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ خدا کا تصور ان کے یہاں اپنی صحیح شکل میں باقی نہیں رہا ہے۔ اس لیے وہ خدا تو پیش کرتے ہیں مگر ایسا خدا پیش کرتے ہیں جو واقعہ کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے انسان کو پوری تسکین نہ دے سکے۔

کیٹ اسٹیونس(Cat Stevens, b. 1948) بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پوپ موسیقی کے ماہر تھے۔ انہوں نے 1976ء میں مسیحی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا موجودہ نام یوسف اسلام ہے۔ انہوں نے اپنے قبول اسلام کی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ مسیحی چرچ ہم کو خدا پر عقیدہ رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ مگر خدا سے مربوط ہونے کا مسیحی طریقہ صرف حضرت عیسیٰ کی معرفت ممکن ہے۔ کوئی آدمی خدا سے براہ راست ربط قائم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی اہمیت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ایسے خدا سے متعارف کرتا ہے جو براہ راست اپنے بندوں سے باتیں کرتا ہے اور اس کی روح سے اتصال قائم کرتا ہے۔ اسلام میں ہر آدمی براہ راست اپنا ربط خدا سے قائم کر سکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Monthly Arabia, London, July 1983

انسان کی فطرت ایک ایسا خدا چاہتی ہے جس سے وہ براہ راست مربوط ہو سکے۔ مگر موجودہ مذاہب اس کو ایسا خدا دیتے ہیں جس سے وہ صرف بالواسطہ طور پرمربوط ہو سکتا ہے۔ تمام مذاہب میں صرف اسلام ہے جو انسان کو براہ راست خدا سے ملاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آج بھی اپنی اصل الہامی شکل میں باقی ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب انسانی ملاوٹ کی وجہ سے اپنی اصل الہامی صورت کو کھو چکے ہیں۔

تمام مذاہب اصلاً ایک تھے۔ مگر اب ان میں انسانی آمیزش کی وجہ سے فرق ہوگیا ہے(یونس، 10:19)۔ کوئی مذہب ایسا ہے جو کئی خدا پیش کر رہا ہے۔ مگر یہ انسانی طلب کے سراسر غیر مطابق ہے۔ کیوں کہ خدا کی طلب ایک ایسی ہستی کی طلب ہے جس کو آدمی اپنا مرکز توجہ بنا سکے۔ اور مرکز توجہ ہمیشہ کوئی ایک چیز بنتی ہے، نہ کہ کئی چیز۔ کوئی مذہب کسی انسان کو خدا کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ مگر انسان کو جس خدا کی تلاش ہے وہ وہی خدا ہو سکتا ہے جو اس کی اپنی ذات سے برتر ہو، ایسا خدا انسان کا معبود نہیں بن سکتا جو خود اس کے اپنے جیسا ہو۔ کوئی مذہب خدا کو محض ایک روح مجرد(vague spirit) کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ مگر انسان ایک دیکھنے اور سننے اور بولنے والے خدا کو چاہتا ہے۔ ایتھر یاقوت کشش جیسی کوئی مجرد چیز اس کی مانگ کو پورا نہیں کر سکتی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مشہور مفکر آرتھر کوئسلر (Arthur Koestler, b. 1905)کو عزت اور مرتبہ حاصل تھا۔ اس کے پاس تقریباً چار لاکھ پونڈ نقد موجود تھے۔ مگر تین شادیوں کے باوجود وہ بے اولاد تھا۔ نیز رعشہ اور خون کے کینسر نے اس کو سخت پریشان کر رکھا تھا۔ چنانچہ اس نے مایوسی کے عالم میں مارچ1983ء میں اپنے لندن کے مکان میں خودکشی کرلی۔ اس وقت اس کی عمر77 سال تھی۔

اس طرح ہر روز دنیابھر میں سینکڑوں آدمی خودکشی کرتے رہتے ہیں۔ خودکشی کے ان واقعات کی وجہ ہوتی ہے— موجودہ دنیا میں اپنی آرزئوں کی تکمیل سے مایوسی۔ مگر تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا پر سچا عقیدہ رکھنے والوں نے کبھی خودکشی کی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کا عقیدہ آدمی کو موجودہ دنیا کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں امید عطا کرتا ہے۔ کیوں کہ خدا کی اسکیم میں زندگی صرف موجودہ دنیا کی زندگی نہیں ہے۔ وہ موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ خدا پر یقین رکھنے والے کو اگر دنیا میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ آئندہ زندگی کے ساتھ لولگا لیتا ہے۔ وہ انسانوں کی دنیا سے مایوس ہو کر خدا کی دنیا کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیتا ہے۔ اس طرح سچے خدا پرست کی تمام پریشانیاں ایک صحت مند رجائیت (healthy optimism) میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content