انسان کی زندگی کچھ اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ وہ مستقل طور پر عجز (helplessness) کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ اس سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا۔
آدمی جسمانی اعتبار سے اتنا کمزور ہے کہ ایک معمولی حادثہ بھی اس کو زخمی کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس کو زندہ رہنے کے لیے ایک بے حد متوازن جغرافیہ درکار ہے۔ جغرافی توازن میں بگاڑ کو وہ برداشت نہیں کر پاتا۔ وہ جس کائنات میں ہے وہ اتنی زیادہ بڑی اور وسیع ہے کہ اس کے مقابلہ میں انسان اپنے آپ کو حددرجہ حقیر پاتا ہے۔ کوئی شخص علمی میدان میں تحقیق کر رہا ہو تو اس پر کھلتا ہے کہ حقائق اس سے زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہیں کہ اس کی محدود عقل ان کا احاطہ کر سکے۔ ایک آدمی جب کوئی کام کرتا ہے تو اس کو تجربہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات لامعلوم اسباب(unknown factors) حائل ہو کر اس کے کام کو بگاڑ دیتے ہیں۔ اور اگر بالفرض کوئی خوش قسمت آدمی ان تلخ تجربات سے بچ جائے تو موت سے وہ اپنے آپ کو نہیں بچا پاتا۔ موت کا حملہ بالکل یک طرفہ ہوتا ہے۔ موت آدمی کے گھروندہ کو اس طرح تہس نہس کر دیتی ہے جیسے ایک سخت زلزلہ کسی پررونق شہر کو اچانک ملبہ کا ڈھیر بنا دے۔
یہ احساس عجز ہر آدمی کا پیچھا کر رہا ہے۔ یہ چیز اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایک ایسا سہارا پکڑے جو اس سے زیادہ طاقت ور ہو۔ جو اس کے لیے اس کے عجز کی تلافی بن جائے۔ یہی احساس بے چارگی آدمی کو خدا کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کو ایک ایسا خدا چاہیے جس کے سامنے وہ اپنے جذبات شکر کو انڈیل سکے۔ جس کے اوپر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرے۔ جس کا عقیدہ اس کے لیے اس وقت بھی سہارا بنا رہے جب کہ بظاہر کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ جس سے وہ یہ امید کر سکے کہ وہ اس کی ہربربادی کے بعد اس کو آباد کرے گا۔ اور ہر مشکل کو اس سے رفع فرمائے گا۔ اسلام کا خدا ایسی ہی ایک ہستی ہے جو پورے معنوں میں حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ کامل بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.