مسلمانوں کے زوال کے بعد جب یورپ میں جدید تحقیق کا کام شروع ہوا تو ’’مسیحی علوم ‘‘ کی غلطی واضح ہونے لگی۔ جدید علما نے جب فلکیات اور جغرافیہ اور طبیعیات سے متعلق اپنی تحقیقات شائع کیں تو مذہبی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ مسیحی چرچ نے اولاً ان علما کی بےدینی کے فتوے دیے۔ جب اس سے لوگوں کی زبانیں بند نہیں ہوئیں تو پوپ کے حکم خاص سے احتساب کی عدالت(Inquisition) قائم ہوئی۔ اندازہ ہے کہ تقریباً تین لاکھ آدمیوں کو مسیحی احتساب کی عدالت میں کھڑا ہونا پڑا۔ ان کو سخت سزائیں دی گئیں۔ تقریباً30 ہزار آدمیوں کو زندہ جلا دیاگیا۔ ان سزا یافتگان میں گلیلیو اور برونو (Brunoe) جیسے لوگ بھی شامل تھے۔
اس کے نتیجہ میں چرچ اور سائنس کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو بالآخر علم اور مذہب کی جنگ بن گئی۔ مفروضہ مقدس عقائد پر بے جا اصرار کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں یہ خیال عام ہوگیا کہ علم اور مذہب دونوں ایک دوسرے کے ضد ہیں۔ ایک کی ترقی دوسرے کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ قرآن کے مطابق علم اللہ سے قریب کرنے والی چیز ہے(فاطر، 35:28)۔ مگر مسیحی تحریفات کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم لوگوں کو اللہ سے دورکرنے والا بن گیا۔
علم اور مذہب کا یہ تصادم تقریباً دو سو برس تک جاری رہا۔ یہاں تک 1859 میں چارلس ڈارون نے اپنی کتاب(Origin of Species) شائع کی۔ چرچ نے اس کی زبردست مخالفت کی۔ مگر اب چرچ کا زورگھٹ چکا تھا۔ بالآخر دونوں کے درمیان (secularism) کی صورت میں سمجھوتہ ہوگیا۔ مذہب اور علم کے دائرے ایک دوسرے سے الگ کر دیے گئے۔ مذہب کو شخصی دائرہ کی چیز قرار دے کر بقیہ تمام شعبوں میں انسان کے لیے آزادی کا حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ جو چاہے کرے اور جس طرح چاہے اپنی تحقیق چلائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔