مسیحیت جب شام اور فلسطین سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئی تو وہاں یونانی نظریات کا غلبہ تھا۔ مسیحی علما نے یہاں تبلیغی مصلحت کی خاطر وہ عمل کیا جس کو قرآن میں مضاہاۃ (التوبہ،9:30) کہا گیا ہے۔ انہوں نے مسیحیت کو لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اس کو مروجہ افکار کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ اس زمانہ میں زیوس(Zeus) یونانیوں کا سب سے بڑا دیوتا تھا جس کو خدا کا اکلوتا بیٹا سمجھتے تھے۔ اس کی نقل کرتے ہوئے وہ بھی حضرت مسیح کو خدا کا اکلوتا بیٹا کہنے لگے۔ اسی طرح اس زمانہ کے جغرافی اور طبیعی نظریات کو بھی انہوں نے کتاب مقدس کی تفسیر کے طور پر لے لیا اور اس کو اپنی مذہبی کتابوں میں اس طرح درج کر لیا جیسے کہ وہ بھی آسمان سے اترے ہوں۔
مسیحیوں کی خوش قسمتی سے اسی زمانہ میں رومی بادشاہ قسطنطین نے مسیحیت قبول کرلی۔ وہ306ء سے لے کر337ء تک عظیم رومی سلطنت کا شہنشاہ رہا۔ اس نے اپنے شاہی اثرات کے تحت تمام یورپ میں مسیحیت پھیلا دی۔ یہ لوگ جنہوں نے مسیحیت قبول کی انہوں نے کسی ذہنی اور فکری انقلاب کے ذریعہ مسیحیت نہیں قبول کی تھی بلکہ صرف حکومت کے زور پر قبول کی تھی۔ ان کا حقیقی ذہن اب بھی وہی رہا جو پہلے تھا۔ چنانچہ انہوں نے مسیحیت کو اپنے سابقہ خیالات کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ اس طرح بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسیحیت کے نام سے ایک ایسا مذہب وجود میں آگیا جس کا حضرت مسیح کی انجیل سے بہت کم تعلق تھا۔ یہ گویا رومی اور یونانی مذہب تھا جس کو مسیحیت کا نام دے کر اختیار کر لیا گیا۔ اڈولف ہارمک نے صحیح لکھا ہے کہ چوتھی صدی تک انجیل یونانی فلسفہ کے رنگ میں رنگ چکی تھی
By the fourth century the living gospel had masked in Greek Philosophy
مذہب میں جب کوئی چیز عرصہ تک جاری رہے تو وہ مقدس بن جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بدلی ہوئی مسیحیت چند سو سال کے بعد مقدس بن گئی۔ جو چیز ابتداء ً مصلحت کے تحت اختیار کی گئی تھی وہ مسیحیت کا حقیقی حصہ سمجھی جانے لگی۔ حتیٰ کہ یونانیوں کے بے اصل علوم مسیحی علوم کہے جانے لگے۔ مثلاً مسیحی جغرافیہ(Topography Christian) وغیرہ۔
Adalf Harmack, Outline of the History of Dogma.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔