عقیدۂ خدا اور اسلام
یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ عقیدۂ خدا کو صرف اصولی طور پر ثابت کر دینا کافی نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ایک عملی سوال بھی ہے۔ وہ یہ کہ خدا اگر ہے تو اس کے ساتھ ہمارا کیاتعلق ہے۔ انسان کے لیے خدا کو ماننے کی صحیح ترین صورت کیا ہے۔
یہاں ہمارے سامنے مختلف مذاہب آتے ہیں۔ اب کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے تمام مذاہب سچے ہیں، اس لیے تم خواہ جس مذہب کے مطابق خدا کو مانو تمہاری نجات ہو جائے گی۔ اس میں شک نہیں کہ تمام مذاہب جو خدا کی طرف سے آئے وہ سب یکساں تھے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ آج وہ ہمارے سامنے یکساں حالت میں موجود نہیں ۔ ایک اور دسرے مذہب میں آج کافی اختلافات پائے جاتے ہیں۔
ایسی حالت میں ایک سنجیدہ آدمی کے لیے صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ مختلف مذاہب کو تاریخی معیار پر جانچے۔ جو مذہب تاریخی طور پر معتبر اور مستند ثابت ہو اس کو لےلے اور جو مذہب اس تاریخی معیار پر پورا نہ اترے اس کو یہ سمجھ کر چھوڑ دے کہ وہ بعد کے زمانہ میں اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکا۔
جب ہم اس معیار کو تسلیم کرتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف ایک ہی مذہب ہے جو تاریخ کے اصولوں پر مستند ثابت ہوتا ہے اور وہ اسلام ہے۔ اب ہر سنجیدہ آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اسلام کو اختیار کر لے۔ کیوں کہ اسلام اس کے لیے کوئی الگ دین نہیں۔ یہ دراصل اس کا اپنا ہی مذہب ہے جو صحیح اور محفوظ حالت میں اس تک پہنچ رہا ہے۔ ({ FR 2139 })
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔