ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں تعصب کی کارفرمائی ہے۔ جہاں کسی بات کو قبول کرنے کے لیے طرح طرح کے جذبات حائل ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک ایسی دنیا میں کیوں کر یہ امید کی جا سکتی ہے کہ کوئی بات محض اس لیے قبول کر لی جائے گی کہ وہ دلیل سے ثابت ہو گئی ہے۔
تاریخ کا طویل تجربہ ہے کہ انسان کے رہنما اکثر اس کے جذبات رہے ہیں نہ کہ اس کی عقل۔ اگرچہ علمی اور منطقی طور پر عقل ہی کو بلند مقام دیا جاتا ہے۔ مگر عملاً زیادہ تر ایسا ہی ہوا ہے کہ عقل خود جذبات کی آلۂ کار بنتی رہی ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ عقل جذبات کو اپنے قابو میں کرنے میں کامیاب ثابت ہوئی ہو۔
عقل اکثر جذبات کے زیر اثر کام کرنے لگتی ہے۔ عقل نے ہمیشہ جذبات کے حق میں دلائل تراشے ہیں اور اس طرح ایک جذباتی رویہ کو عقلی رویہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ خواہ حقیقت واقعہ کاساتھ نہ دے رہی ہو مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے جذباتی رویہ سے لپٹا رہنا اپنے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
ہم کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارا معاملہ کسی مشین سے نہیں ہے جس کو چلانے کے لیے اتنا کافی ہو کہ اس کا بٹن دبا دیا جائے۔ مشین ہمارے اندازہ کے عین مطابق اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ ہمارا مخاطب انسان ہے۔ اور انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اسی وقت کسی بات کو مانتا ہے جب کہ وہ خود بھی ماننا چاہے۔ اگر آدمی خود ماننا نہ چاہتا ہو تو کوئی دلیل محض دلیل ہونے کی حیثیت سے اس کو قائل نہیں کر سکتی۔ دلیل کو برقی بٹن کا قائم مقام نہیں بنایا جا سکتا۔ اور بلاشبہ انسانی تاریخ کی یہ سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.