Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Hikmat-e-Ikhtilaf
Hikmat-e-Ikhtilaf

مینجمنٹ نہ کہ ردعمل

Urdu · 2 min read

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ سنتیں ایسی ہیں، جو آپ کے قول سے نکلتی ہے، اور کچھ سنتیں ایسی ہیں، جو آپ کے عمل سے اخذ ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہےعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملات کے درمیان اختیار دیا گیا، تو آپ نے ان دونوں میں سے آسان تر کا انتخاب کیا۔ اس حدیث رسول کی شرح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ اس دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ المَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2317)۔ یعنی آدمی کے اچھے اسلام میں سے یہ ہے کہ وہ اس کو چھوڑ دے، جو اس کے لیے بے نتیجہ ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ حدیث اجتماعی زندگی کے بارے میں ہے۔ اجتماعی زندگی، خواہ وہ گھریلو معاملات ہو یا وہ سوشل معاملات ہو،اس میں کام کے دو طریقے ہیں۔ اجتماعی معاملات میں جب کوئی مسئلہ پیش آئے، تو ایک طریقہ وہ ہے، جو مجرد ری ایکشن (reaction)ہو۔ مثلاً کسی نے آپ کی طرف پتھر مارا، تو آپ بھی اس کی طرف پتھر پھینکنا شروع کردیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ ٹھہر کر سوچیں، اور پلاننگ کے بعد نتیجہ خیز اقدام کا طریقہ اختیار کریں۔ اس طرح کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ طریقہ اختیار کیا جائے، جو نتیجہ خیز (result oriented) ہو۔

مثلاً مکہ میں آپ نے توحید کا مشن شروع کیا، تو اس وقت قدیم کعبہ میں بہت سے بت رکھے ہوئے تھے، یعنی بظاہر یہ صورتِ حال تھی کہ توحید کے مرکز کو بت پرستی کا مرکز بنادیا گیا تھا۔ لیکن رسول اللہ نے ردعمل (reaction) کا طریقہ نہیں اختیار کیا، بلکہ سوچ سمجھ کرکے پرامن تدبیر کا طریقہ اختیار کیا۔ اگر آ پ ردعمل کا طریقہ اختیار کرتے تو قدیم مکہ کے مشرکین سے ٹکراؤ شروع ہوجاتا۔ لیکن آپ نے خاموش منصوبہ بندی کے ذریعے غیر نزاعی پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ ایک نتیجہ خیز طریقہ تھا۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں کعبہ کی عمارت بتوں سے خالی ہوگئی، اور بتدریج دوبارہ توحید کا مرکز بن گئی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content