Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Hikmat-e-Ikhtilaf
Hikmat-e-Ikhtilaf

نزاع مینجمنٹ

Urdu · 2 min read

نزاع پیدا ہونے کے وقت کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتاہے فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْر(22:67)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے پس وہ امر میں ہرگز تم سے نزاع نہ کریں۔ لفظی طور پر دیکھیے تو بظاہر اس آیت میں فریقِ ثانی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہرگز تم سےنزاع نہ کرے۔ مگراس کا مطلب یہ نہیں ہے۔ بلکہ عربی اسلوب کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ فریق ثانی کو تم یہ موقع نہ دو کہ وہ تم سے نزاع کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی (وفات 1810ء) نے زجاج کا قول نقل کیا ہےقَالَ الزَّجَّاجُ مَعْنَى قَوْلِهِ ’’فَلَا يُنَازِعُنَّكَ‘‘ لَا تُنَازِعْهُمْ أَنْتَ، كَمَا يُقَالُ ’’لَا يُخَاصِمَنَّكَ فُلَانٌ‘‘ أَيْ لَا تُخَاصِمْهُ، وَهَذَا جَائِزٌ فِيمَا يَكُونُ بَيْنَ ٱثْنَيْنِ، فَلَا يَجُوزُ ’’لَا يَضْرِبَنَّكَ زَيْدٌ‘‘ تُرِيدُ لَا تَضْرِبْهُ، وَجَازَ ’’لَا يُضَارِبَنَّكَ زَيْدٌ‘‘ بِمَعْنَى لَا تَضْرِبْهُ، وَذَلِكَ لِأَنَّ ٱلْمُنَازَعَةَ وَٱلْمُخَاصَمَةَ لَا تَتِمُّ إِلَّا بِٱثْنَيْنِ، فَإِذَا تَرَكَ أَحَدُهُمَا ذَهَبَتِ ٱلْمُخَاصَمَةُ(تفسیر المظہری، جلد6، صفحہ346)۔ یعنی زجاج نے کہا بظاہر نزاع کی ممانعت مشرکوں کو ہے ،لیکن حقیقت میں ممانعت کا رخ رسول اللہ کی طرف ہے۔ عرب کہتے ہیں فلاں شخص تم سے جھگڑا نہ کرے ،یعنی تم اس سے جھگڑا نہ کرو۔ لیکن ایسا ان افعال میں ہوتا ہے جو طرفین سے صادر ہوں۔پس... لاَ یُضَارِ بَنَّکَ زَیْدٌ (زید تم سے مار پیٹ نہ کرے) کا مطلب یہ ہے کہ تم زید کو نہ مارو۔کیوں کہ مخاصمت اور نزاع دو آدمیوں کے درمیان ہوتا ہے۔جب ایک فریق نزاع ترک کر دے تو مخاصمت اپنے آپ باقی نہیں رہتا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس اصول کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتاہے کہ نزاع (controversy) پیدا ہو تو اس کو جوابی نزاع تک پہنچنے نہ دو۔بلکہ اس پر نزاع مینجمنٹ کے حکیمانہ اصول کو اپلائی کرتے ہوئے پہلے ہی مرحلے میں ختم کردیا جائے۔نزاع عملاً ایک فریق کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر فریقِ ثانی نزاع کو یک طرفہ طور پر ختم کردے تو نزاع عملاً باقی نہیں رہے گا۔ نزاع اگرچہ دوطرفہ عمل ہے، لیکن نزاع کو ختم کرنا،ہمیشہ ایک فریق کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content