Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Tauheed
Haqeeqat-e-Tauheed

توحید اور شرک کا فرق

Urdu · 4 min

قرآن کے مطابق شرک کا عقیدہ تمام انسانی برائیوں کی جڑ ہے۔ اس کے مقابلے میں توحید کا عقیدہ تمام انسانی خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ قرآن میں واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا ہے: "بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے"۔ لیکن اس کے علاوہ جو کچھ ہے، اس کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔

اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا، اس نے بڑا طوفان باندھا۔ النساء 48۔ توحید کا مطلب خالق کو پا لینا ہے، اور شرک کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مخلوقات میں اٹک کر رہ جائے۔ توحید حقیقت کی سطح پر جینے کا نام ہے، اور شرک کا مطلب توہمات کی سطح پر جینا۔

توحید اپنی فطرت کی دریافت کا نتیجہ ہے، اور شرک اپنی فطرت سے بے خبری کا نتیجہ۔ اہلِ توحید ہی اس دنیا کے مطلوب انسان کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہی لوگ ہیں جو خالق کی منشا کے مطابق ہیں۔ دنیا کے بنانے والے نے اس کو جس منصوبے کے تحت بنایا ہے، اہلِ توحید اس منصوبۂ الٰہی کی تکمیل کر رہے ہیں۔ وہ اس نقشے پر ہیں جس نقشے پر انسان کو ہونا چاہیے۔

اہلِ توحید خدا کے مطلوب انسان ہیں، وہ دنیا میں دنیا کے مالک کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔ شرک اور اہلِ شرک کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ شرک خدا کی دنیا میں ایک اجنبی تصور ہے۔ اہلِ توحید اگر اس دنیا میں مطلوب لوگ، یعنی وانٹڈ پیپل ہیں، تو اہلِ شرک اس کے برعکس غیر مطلوب لوگ، یعنی ان وانٹڈ پیپل۔

شرک کے عقیدے کو اس دنیا میں اس کے مالک کی سند حاصل نہیں۔ شرک کی روش اس دنیا میں ایک ایسی روش ہے جس کی اجازت دنیا کے مالک نے دنیا میں بسنے والوں کو نہیں دی۔ گول خانے میں کوئی چوکور چیز رکھی جائے تو وہ اس کے اندر فٹ نہیں بیٹھے گی، جبکہ گول خانے میں گول چیز بالکل فٹ بیٹھ جاتی ہے۔ یہی معاملہ توحید اور شرک کا ہے۔

انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے صرف توحید کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے توحید کا تصور یا موحدانہ زندگی اس کی فطرت کے عین مطابق ہے، جبکہ شرک کا عقیدہ یا مشرکانہ زندگی انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔ مشرک انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ غیر خدائی چیزیں اس کی توجہات کا مرکز بنی ہوئی ہوتی ہیں۔

اس لیے پیش آنے والے مختلف حالات میں اس کا رویہ بھی انہیں غیر خدائی ہستیوں کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی میں بھی انہی کی طرف دوڑتا ہے، اور ناکامی میں بھی وہ انہی کی پناہ تلاش کرنا چاہتا ہے۔ اس کی مفروضہ غیر خدائی ہستیاں ہی ہر صورتحال میں اس کے دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں۔ موحد انسان اگر اپنے تجربات سے توحید کی غذا پاتا رہتا ہے، تو مشرک انسان کے لیے اس کے تجربات مشرکانہ غذا کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.