Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Tauheed
Haqeeqat-e-Tauheed

توحید اور شرک—

Urdu · 5 min

قرآن کی سورہ نمبر 2 کی ایک آیت یہ ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ وَلَوْ يَرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ. البقرہ 165۔ یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں، وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔

اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جبکہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے، تو وہ سمجھ لیتے کہ سارا زور— وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کیا ہے: وہ یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا ند ٹھہرایا جائے۔ ند کے معنی مثل، یعنی equal کے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اس کا ند ٹھہرانا شرک ہے، خواہ وہ کلی معنی میں ہو یا جزئی معنی میں۔

اللہ کا ند ٹھہرانا کن پہلوؤں سے ہوتا ہے؟ مذکورہ آیت میں اس کے دو پہلو بیان کیے گئے ہیں: محبت اور قوت۔ قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق اس کا تیسرا پہلو خشیت، التوبہ 18 ہے۔ بنیادی طور پر یہی تین چیزیں ہیں جو شرک کی پہچان ہیں۔

مذکورہ تینوں معاملے میں جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کیا، اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے خود اپنے آپ کو اس قسم کا درجہ دیا، تو اس کا کیس بھی شرک کا کیس بن جائے گا۔ الجاثیہ 23۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے: توحید کا مطلب ہے ہر اعتبار سے صرف ایک اللہ کو اپنا واحد کنسن، یعنی sole consent بنانا۔

اور شرک کا مطلب ہے جزئی یا کلی طور پر کسی غیر اللہ کو اس کنسن میں شریک کرنا۔ جب کوئی شخص اللہ کو اس حیثیت سے دریافت کرے کہ یہ اللہ ہے جس نے اس کو عدم سے وجود بخشا، جس نے اس کو اعلیٰ درجے کی شخصیت عطا فرمائی، جس نے اس کو زمین جیسے نادر سیارے پر آباد کیا، جس نے اس کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام کیا، وغیرہ۔ اس طرح کا احساس آدمی کے اندر اللہ کے ساتھ بے پناہ تعلق پیدا کرتا ہے۔ وہ اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔

یہی اللہ کے ساتھ شدید محبت کی بنیاد ہے۔ پھر جب وہ اللہ کی اس حیثیت کو دریافت کرتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کا ایک طرفہ عطیہ ہیں، کسی بھی وقت اللہ اس کو چھین سکتا ہے، پھر یہ کہ ہر عطیے کے ساتھ جواب دہی، یعنی accountability، جڑی ہوئی ہے۔ یہ احساس اس کو مزید اس اندیشے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اگر میں نے ان عطیاتِ الٰہی کا حق ادا نہ کیا تو اللہ کے یہاں میری سخت پکڑ ہوگی۔ یہ احساسات آدمی کے اندر وہ کیفیت پیدا کر دیتے ہیں جس کو قرآن میں خوفِ شدید، التوبہ 18 کہا گیا ہے۔

اسی کے ساتھ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اس دنیا میں سارا اختیار صرف ایک اللہ کو حاصل ہے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو جزئی درجے میں بھی کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ ہی دینے والا اور اللہ ہی محروم کرنے والا ہے۔ یہ احساس اس کو اپنے عجزِ کامل کی یاد دلاتا ہے۔

وہ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں پاتا کہ وہ اللہ کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرنڈر کر دے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.