← Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018Hajj ka paighaam Khususi Shumara Al-Risala August 2018
حج کی معنویت
Urdu · 7 min
کچھ لوگ مجھ سے ملے، انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے دعا کیجیے۔ ہم نے بیسکل کے ذریعے حج کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس سے پہلے بھی حاجیوں کا کئی گروپ مجھ سے ملا ہے جو اسی قسم کی باتیں کرتا تھا، مثلاً کوئی بتاتا تھا کہ ہم اونٹ کے ذریعے حج کا سفر کرنے جا رہے ہیں، کوئی بتاتا تھا کہ ہم پیدل حج کا سفر کرنے جا رہے ہیں، وغیرہ۔ یہ لوگ حج کی صورت یعنی فارم کو جانتے ہیں، مگر وہ حج کی معنویت کو نہیں جانتے۔
قرآن میں آیا ہے کہ حج کے لیے سفر کرو اور اس کے منافع الحج سورہ نمبر 22 آیت 28 کو حاصل کرو۔ منافع کا لفظی مطلب ہے فائدہ، یعنی benefit، لیکن اس کا مطلب مادی فائدہ نہیں ہے، بلکہ معنوی فائدہ ہے۔ یعنی حج سے حکمت، یعنی wisdom کا سبق حاصل کرو۔ حج سے زندگی کی حکمتیں دریافت کرو۔
حج کی عبادت پر غور کر کے اس سے رازِ حیات کو جانو۔ مثلاً آپ حج کے لیے مکہ جائیں اور کعبے کا طواف کرتے ہوئے آپ دیکھیں کہ کعبے کی ابراہیمی عمارت اب وہاں موجود نہیں ہے۔ پیغمبر ابراہیم نے کعبے کو لمبی صورت میں بنایا تھا، جبکہ موجودہ کعبہ چوکور صورت میں ہے، جو کہ قدیم مکے کے لوگوں نے بطور خود تعمیر کیا تھا۔ قدیم کعبے کی تقریباً ایک تہائی جگہ حتیم کی صورت میں غیر مصقف پڑی ہوئی ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اسی کعبے کا طواف کیا۔ انہوں نے کعبے کو دوبارہ ابراہیمی صورت میں بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی ایک سنت وہ ہے جس کو status quism کہا جا سکتا ہے، یعنی موجود حالت پر تعمیر نو کی کوشش کرنا۔ گویا کہ موجود حالت کو بدلنے کی تحریک چلانا سنتِ رسول نہیں ہے، بلکہ سنتِ رسول یہ ہے کہ موجود حالت کو چھیڑے بغیر نئی تعمیر کا منصوبہ بنایا جائے۔
موجودہ زمانے کی مسلم تحریکیں سب کی سب اس کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ہر تحریک کے لیڈر یہ چاہتے ہیں کہ پہلے حالتِ موجودہ یعنی status quo کو بدلیں، اس کے بعد اپنے منصوبے کے مطابق تعمیر نو کا کام کریں۔ یہ طریقہ بلاشبہ سنتِ رسول کے خلاف ہے۔ اصل یہ ہے کہ ملت کی تعمیر نو کا کام، مکمل معنوں میں، ایک مثبت کام ہے۔
جب آپ دیکھیں کہ صورتِ موجودہ یہ ہے کہ ملت کے معاملات پر عملاً کسی گروہ کا قبضہ قائم ہے، تو ایسی حالت میں تعمیر نو کا منصوبہ کامیاب طور پر صرف اس وقت کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کو غیر نزاعی منصوبے کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ اگر نئے قائدین یہ چاہیں کہ پہلے قابض گروہ سے لڑ کر اس کو ہٹائیں، وہ پہلے status quo کو بدلیں اور اس کے بعد نئی تعمیر کا آغاز کریں، تو ایسا منصوبہ ہمیشہ ٹکراؤ سے شروع ہوگا۔ ایسے منصوبے کا آغاز تخریب سے شروع ہوگا، نہ کہ تعمیر سے۔ چنانچہ ایسا منصوبہ اپنے آغاز ہی میں نزاعی یعنی controversial بن جائے گا۔
لوگوں کی طاقت غیر ضروری قسم کے ٹکراؤ پر چلنے لگے گی۔ اس کے برعکس، اگر status quo کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام شروع کر دیا جائے تو نزاع کی نوبت نہیں آئے گی، بلکہ تعمیر کا کام اول دن سے تعمیر کے اصول پر جاری ہو جائے گا۔ اب ایک لمحہ بھی تخریب میں ضائع نہیں ہوگا۔ مکہ عرب کا مرکزی شہر تھا۔
قریش نے مکے میں دارالندوہ قائم کر رکھا تھا۔ دارالندوہ گویا قبائلی پارلیمنٹ تھی۔ یہاں تمام اہم امور کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ پیغمبر اسلام کے دادا عبدالمطلب دارالندوہ کے ممتاز ممبروں میں سے ایک تھے۔
عام رواج کے مطابق، ایک حوصلہ مند لیڈر کے لیے پہلا ٹارگٹ یہ تھا کہ وہ دارالندوہ کا رکن بننے کی کوشش کرے، جو گویا اس وقت کے عرب میں سیاسی طاقت کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے دارالندوہ میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں کی، حتیٰ کہ انہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ اپنے دادا عبدالمطلب کی خالی سیٹ انہیں دی جائے۔ دارالندوہ کے معاملے میں، پیغمبر اسلام نے وہ پرامن طریقہ اختیار کیا جس کو status quism کہا جاتا ہے، یعنی صورتِ موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ جو صورتِ موجودہ ہے اس کو علی حالہ قبول کر لینا۔ مگر پیغمبر اسلام کا status quism سادہ طور پر صرف status quism نہ تھا، بلکہ وہ مثبت status quism یعنی positive status quism تھا۔
یعنی وقت کے نظام سے ٹکراؤ کیے بغیر موجود مواقع کو دریافت کر کے اسے استعمال کریں۔ اس طریقہ کار کو فارمولے کی زبان میں اس طرح کہا جا سکتا ہے: ignore the problems, avail the opportunities۔