Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

جہاد کا مسئلہ

Urdu · 5 min

موجودہ زمانہ میں ایک نہایت اہم مسئلہ جہاد کی تعبیر کا ہے۔ جہاد کو عام طور پر جنگ کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے مگر یہ صحیح نہیں۔ جہاد کے معنی وہی ہیں جس کو ہم اپنی زبان میں جدوجہد (struggle) کہتے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ ہر جگہ دینی جدوجہد یا دعوتی جدوجہد کے معنی میں ہے۔ جنگ کے لیے قرآن میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ قتال ہے، نہ کہ جہاد۔

جہاد جب سادہ طور پر دینی کوشش یا دینی جدوجہد کے معنی میں ہو تو حالات کے اعتبار سے اس کاانطباق صرف ایک نہیں رہے گا، بلکہ فطری طور پر متعدد ہو جائے گا۔ مثلاً حدیث میں اپنے نفس سے لڑ کر اسے زیر کرنے کو جہاد کہا گیا ہے (الْمُجَاهِدُ ‌مَنْ ‌جَاهَدَ ‌نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللهِ)مسند احمد، حدیث نمبر 23958 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کا ایک پہلو نفسیاتی جہاد ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں دعوت اسلامی کی فکری توسیع کی کوششوں کو جہاد کہا گیا ہے  وَجاهِدْهُمْ ‌بِهِ ‌جِهاداً كَبِيراً (25:52)۔یعنی، اور اس (قرآن)کے ذریعہ سے ان کے ساتھ بڑا جہاد کرو۔ اس سے معلوم ہواکہ دعوتی جہاد بھی جہاد ہے ، بلکہ قرآن کے الفاظ میں ، وہ جہاد کبیر ہے۔ وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم اہل فکراٹھے جنھوں نے دور جدید کے لحاظ سے جہاد کی تعبیر پیش کی۔ مثلاً 1857ء کے بعد سرسید احمد خاں نے ہندستان کے مسلمانوں سے یہ کہاکہ تم لوگ تعلیمی جدوجہد کرو یہی اس وقت کرنے کا سب سے بڑا کام ہے۔ اگر تم تعلیم یافتہ ہو گئے تو تمہارے تمام دینی اوردنیوی مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح 1912ء میں علامہ سید رشید رضا (صاحب المنار) دیوبند آئے۔ اس وقت ہندستان کے علما انگریزوں کے خلاف سیاسی جہاد میں مشغول تھے۔ سید رشید رضا نے کہا کہ اس وقت کرنے کا اصل کام سیاسی جہاد نہیں ہے بلکہ دعوتی جہاد ہے۔ آپ لوگ اسلام کے پرامن دعوتی مشن کو لے کر اٹھیے۔ اس طرح آپ زیادہ بہتر طور پر اس مقصد کو حاصل کر لیں گے جس کو آپ مسلّح جہاد کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سرسید احمد خاں اور سید رشید رضا کی یہ رائیں مجتہدانہ رائیں تھیں۔ اور بعد کے نتائج بتاتے ہیں کہ وہ بلاشبہ صحیح اجتہاد تھا۔ اگرچہ اس اجتہاد کو اس وقت قبول عام نہ مل سکا اور امت زیادہ بڑے پیمانہ پر اس راہ پر نہ چل سکی۔ اگر اس اجتہاد کو اس وقت قبول عام حاصل ہو جاتا تو یقینی طور پر آج مسلمانوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جس کو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

سرسید فارمولا اور رشید رضا فارمولا کو اگر الفاظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ تھاکہ— سیاسی مسائل کو نظرانداز کرو اور تعلیمی اور دعوتی مواقع کو استعمال کرو

opposing viewA view stated in order to be argued against

Ignore the political problems. And avail the opportunities available in the fields of education and Da'wah.

میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے لحاظ سے یہ ایک صحیح اجتہاد تھا۔ اس میں مومنامہ بصیرت کی وہ روح پوری طرح شامل تھی جس کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ  أَنْ يَكُونَ ‌بَصِيرًا ‌بِزَمَانِهِ(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی، مومن کو چاہیے کہ وہ زمانہ کو جاننے والا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content