اسی طرح ایک اور معاملہ سیکولرزم کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مشترک سماج کے لیے سیکولرزم کو حکومت کا سب سے بہتر فارم تسلیم کیا جاتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں کا نظام اسی کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کچھ ایسے مسلمان اٹھے جنھوں نے سیکولرزم کی سخت مخالفت کی اور اس کو ایک اینٹی اسلام نظریہ بتایا۔ مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ مگر یہ صرف ایک انتہا پسندانہ ردعمل تھا۔ اس کو کوئی سوچا سمجھا مثبت ردعمل نہیں کہا جا سکتا۔
اس معاملہ میں زیادہ صحیح رائے کچھ دوسرے لوگوں نے پیش کی۔ مثلاً مولانا سعید احمد اکبر آبادی (1908-1985ء) وغیرہ۔ اس سلسلہ میں مولانا اکبر آبادی کا ایک مضمون تین قسطوں میں ماہنامہ برہان، دہلی کے شمارہ مئی ، جون ، جولائی 1962ء میں چھپا تھا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ موجودہ ہندستان کے لیے سب سے بہتر نظام وہی مشترک نظام ہے جس کوسیکولر نظام کہا جاتا ہے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ
حکومت کی ایک قسم سیکولر ہے۔ اور سیکولر کی تعریف— یہ ہے کہ تمام مذاہب آزاد ہوں گے اور ریاست کے ہر شخص کو یکساں شہری حقوق حاصل ہوں گے (صفحہ 323)۔ انھوں نے لکھا تھاکہ ہندستان کے موجودہ حالات کے اعتبار سے یہاں کے لیے سب سے زیادہ بہتر اور قابل عمل نظام صرف سیکولر نظام ہے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ یہی ملکی حالات کا تقاضا ہے۔ مزید یہ کہ اسلام میں اور سیکولر نظام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
یہ ایک مجتہدانہ رائے ہے اور وہ ایک صحیح اجتہاد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیکولرزم بجائے خود کوئی آئیڈیل نظام حکومت ہے۔ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ مشترک سماج میں صرف وہی قابل عمل ہے۔ اس کی اہمیت عملی اعتبار سے ہے، نہ کہ خالص نظریاتی اعتبار سے۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ— ذاتی معاملہ میں آئیڈیلسٹ بنو، اور اجتماعی معاملات میں پریکٹیکل ۔
اس کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دورمیں ملتی ہے۔ مدنی دور کے دو بڑے حصے ہیں۔ پہلا دور، جب کہ مدینہ میں تین قسم کے گروہ موجود تھے— مسلمان ، یہود اور مشرکین۔ دوسرے دور میں یہ فرق ختم ہو گیا اور مدینہ کے تمام باشندے اسلام میں داخل ہو گئے۔
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں جب ہم مدینہ کے دوراول کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چارٹر جاری فرمایا تھا جس کو عام طور پر صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ یہ اس پہلے دور کی ریاست کا گویا دستور تھا۔ اس میں آپ نے مقرر فرمایا تھا کہ ہر گروہ کے مذہب یا قبائلی روایات کے مطابق ان کا جو دین ہے، وہ اس پر عمل کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔ کسی گروہ کے مذہب یا ان کی روایات میں ریاستی مداخلت نہیں کی جائے گی (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 503)۔
یہی ریاستی عدم مداخلت سیکولرزم کی اصل روح ہے۔ سیکولرزم کے کچھ پرجوش شارح اس کی جو کلی تشریح کرتے ہیں وہ ایک نظریاتی انتہا پسندی ہے ، اور اس قسم کی انتہا پسندی ہر فکری نظام میں پائی جاتی ہے۔ اس سے قطع نظر ، عملی سیکولر زم صرف اس کا نام ہے کہ حکومت کا تعلق مشترک مادی امور سے ہو، اور مذہبی معاملات میں وہ عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی پر کاربند رہے۔ کسی مشترک سماج میں یہی واحد قابل عمل طریقہ ہے، اورمتعلقہ حالات میں یہی اسلام کا تقاضا بھی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔