Maulana Wahiduddin Khan
48 min left
0:00

← Fikr-e-Islami
Fikr-e-Islami

ابتدائیہ

Urdu · 48 min

تعارفِ مسئلہ

دورِ جدید میں مسلمانوں کے لیے جو مسائل پیدا ہوئے ، ان میں سب سے پہلا اور سب سے اہم مسئلہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید تھا۔ یعنی دور جدید کی واقعی نوعیت کو متعین کرنا اور پھر اسلام کے ساتھ اس کے مثبت یا منفی تعلق کو واضح کرنا۔ اس کام کی اولین اہمیت اس لیے تھی کہ اس کے بغیر دور جدید میں اسلامی عمل یا ملت کے احیاء نو کی جدوجہد صحیح اورموثر طور پر شروع ہی نہیں کی جا سکتی۔

مگر یہ کام بروقت نہ کیا جا سکا۔ اس کا مہلک نقصان یہ ہوا کہ دور حاضر میں مسلمانوں کو اپنے عمل کا صحیح رخ (line of action) ہی نہیں ملا۔ مختلف سمتوں میں غیر متعلق کوششیں کر کے وہ اپنی حاصل شدہ طاقت کو ضائع کرتے رہے۔

اس غلطی کی غالباً ایک وجہ یہ تھی کہ مصر اور ترکی اور ہندستان وغیرہ میں جو لوگ ابتداًء اس کام کے لیے اٹھے وہ سب کے سب ریفارمسٹ تھے۔ وہ خود اسلام میں نظرثانی کی دعوت دے رہے تھے۔ اس کا ایک نمونہ مسٹر فیضی(1899-1981) کی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے

A.A.A. Faizi, A Modern Approach to Islam

یہ انداز اسلام کی روح کے مطابق نہ تھا، چنانچہ وہ ملت مسلمہ میں قبولیت حاصل نہ کر سکا۔ اس نوعیت کی تحریکیں صرف بحث و نزاع کا شکار ہو کر رہ گئیں۔

ریفارمیشن کی تحریک سولہویں صدی کے یورپ میں مسیحیت کے درمیان اٹھی۔ یہ اصلاح مذہب کی تحریک تھی۔ اس کے نتیجہ میں عیسائیوں میں ایک نیا فرقہ وجود میں آیا جس کو پروٹسٹنٹ کہا جاتا ہے۔ پروٹسٹینٹزم(Protestantism)کیا تھی۔ وہ دراصل منظم چرچ کے خلاف فطرت انسانی کی بغاوت تھی۔ کیتھولک سسٹم کے مطابق، ایک انسان کا ربط خدا سے صرف چرچ کی معرفت قائم ہو سکتا تھا۔ جب کہ انسان چاہتا تھاکہ وہ اپنے خدا سے براہ راست مربوط ہو سکے۔ اس تضاد نے مسیحیت میں ریفارمیشن کی تحریک پیدا کی (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، 1984، جلد15، صفحہ99 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسرے تمام مذاہب میں بعد کو عملاً یہی صورت پیش آئی۔ مرور زمانہ سے ان میں تبدیلی اور تغیر واقع ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ مذاہب اپنی اصل ابتدائی صورت پر باقی نہ رہے۔ وہ اپنی مروجہ صورت کے اعتبار سے انسانی فطرت کے لیے غیر مطابق ہو گئے۔

اس عام تجربہ کی بنا پر جدید طبقہ کی طرف سے یہ مانگ شروع کر دی گئی کہ اسلام میں بھی ریفارم لاؤ، تاکہ اس کو بدلے ہوئے زمانہ کے مطابق بنایا جا سکے۔ مگر یہ قیاس مع الفارق ہے۔ دوسرے مذاہب تغیرات کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ اس بنا پر ان میں ریفارم کے عمل کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ ان کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق بنایا جائے۔

مگر اسلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے ، وہ اب بھی اپنی اصل ابتدائی حالت پر باقی ہے۔ اس لیے اسلام ابدی قدر کا حامل ہے۔ اسلام اسی طرح ہر زمانہ میں اپنی معنویت کو برقرار رکھتا ہے جس طرح قدرت کے دوسرے قوانین ابدی طور پر اپنی معنویت کو مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام آج بھی فطرت انسانی کے ساتھ اتنی ہی مطابقت رکھتا ہے جتنا کہ اول دن وہ اس سے مطابقت رکھتا تھا۔

مثال کے طور پر بعض مذاہب میں اونچی ذات(upper cast) اور نیچی ذات (lower cast) کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ فرق معاشی یا تعلیمی حالت پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ وہ پیدائش پر مبنی ہے۔ یعنی ان مذہبوں کے روایتی عقیدہ کے مطابق ، آدمی جنم ہی سے اونچا اور جنم ہی سے نیچا ہوتا ہے۔ ان مذاہب کے قوانین کے مطابق ، نیچی ذات کے آدمی کے لیے امید کی ایک ہی صورت ہے اور وہ موت ہے 

The legal condition of the Sudra left him only death as a means of improving his condition.

(Encyclopedia Britannica, 1984, vol. 16, p. 858(

اس قسم کا عقیدہ قدیم دنیا میں قابل قبول ہو سکتا تھا۔ مگر آج کی دنیا میں وہ نہیں چل سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس میں ریفارم لایا جائے اور اس کو عصر حاضر کے مانے ہوئے تصور کے مطابق بنایا جائے۔ مگر اسلام کے لیے اس قسم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ کیوں کہ اسلام میں اول دن سے انسانی برابری کا تصور موجود ہے۔ اسلام کے تصور انسانیت میں اور عہد جدید کے تصور انسانیت میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔

تاہم زمانی تبدیلی کا ایک اور مسئلہ ہے۔ وہ عین فطری ہے اور وہ اسلام میں بھی بار بار پیش آتا ہے۔ مگر یہ اصلاح یا تبدیلی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ ازسرنو تطبیق کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کا حل اصلاح نہیں ہے بلکہ اجتہاد ہے۔ اصلاح خود اصل مذہب میں ترمیم کے لیے ہوتی ہے۔ جب کہ اجتہاد کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے ابدی احکام کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے اس کو سمجھا جائے اور پھر اس کو اس کی اصل اسپرٹ کے ساتھ نئے حالات پر ازسرنو منطبق کیا جائے۔ ریفارم اگر نظرثانی (revision) کا نام ہے تو اجتہاد تطبیق نو (re-application) کا نام۔

نئے پیدا ہونے والے مسائل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک جزئی نوعیت کے مسائل ، اور دوسرے کلی نوعیت کے مسائل ۔ اگرچہ دونوں ہی قسم کے مسئلوں میں اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

جزئی نوعیت کے مسائل پہلے بھی بار بار پیش آئے اور آج بھی وہ بار بار پیش آ سکتے ہیں۔ مثلاً قدیم عرب میں تحریری ریکارڈ رکھنے کا رواج نہ تھا۔ تمام معاملات سادہ طور پر یادداشت کے تحت انجام دیے جاتے تھے۔ چنانچہ حدیث کی کتابوں میں کتاب الصوم کے تحت آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم امی لوگ ہیں۔ ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں  إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسِبُ (صحیح البخاری،حدیث نمبر1913)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت میں اس وقت کے متمدن ممالک اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان لوگوں کے یہاں حساب و کتاب کے لیے باقاعدہ رجسٹر ہوتے ہیں۔ خلیفہ دوم کے حکم سے تحریری ریکارڈ کا یہ نظام پوری طرح اسلام میں اختیار کر لیا گیا۔ اسلامی تاریخ میں اس کو دیوان کہا جاتا ہے۔ یہ واضح طور پر اجتہاد کی ایک مثال تھی۔ اگر وہ اجتہاد سے کام نہ لیتے تو لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسِبُ کو بالکل لفظی معنی میں لے کر اپنی سابقہ حالت پر قائم رہتے اور غیر مسلم قوموں کے رواج کے مطابق اپنے یہاں دفاتر کا وہ نظام قائم نہ کرتے جس کی تفصیل مولانا شبلی نعمانی نے اپنی کتاب الفاروق کی جلد دوم میں جمع کی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ میں بھی اس نوعیت کے بہت سے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ مثلاً زراعت الاعضاء یا اعضاء کی منتقلی (organ transplants) کا مسئلہ۔ اس قسم کے مسائل پر علما نے اجتہاد و قیاس کے ذریعہ فتوے دیے ہیں (العالم الاسلامی، مکہ ،5-11رجب 1416ھ)۔ یہ جزئی اجتہاد کی ایک مثال ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر کبھی حالات میں کلی نوعیت کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ اس وقت کلی نوعیت کے اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس دوسری نوعیت میں اجتہاد کی ضرورت اول الذکر قسم سے بھی زیادہ ہے۔ اول الذکر نوعیت کے مسائل میں اجتہاد نہ کرنے سے اگر جزئی نقصان کا اندیشہ ہے تو ثانی الذکر نوعیت کے مسائل میں اجتہاد نہ کرنے سے کلی نقصان کا اندیشہ۔

موجودہ زمانہ غیر معمولی تبدیلیوں کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں بہت سے ایسے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں جو قدیم زمانہ میں موجود نہ تھے۔ ضرورت ہے کہ آج کلی نوعیت کے اجتہاد سے کام لیا جائے۔ بصورت دیگر ، ملت اسلام موجودہ زمانہ میں اپنا مقام حاصل نہ کر سکے گی اور اپنا کردار ادا کرنے میں بھی ناکام رہے گی۔

اس طرح کے معاملہ میں مجتہدانہ بصیرت کا فقدان کتنا تباہ کن ہو سکتا ہے ، اس کی ایک مثال لیجئے۔ قدیم زمانہ میں توحید کے داعیوں نے جب توحید کی دعوت دی تو حکومت وقت نے ان کو ظلم کا نشانہ بنایا۔ مگر آج ایسا نہیں ہوتا۔ اس فرق کو دیکھ کر کچھ لوگوں نے یہ رائے قائم کر لی کہ آج دعوت اسلام کا جو کام ہے وہ غلط تصور اسلام پر قائم ہے۔ یہ لوگ اصل اسلام کی دعوت نہیں دیتے ، اس لیے لوگوں کے ساتھ ان کا ٹکراؤ بھی پیش نہیں آتا۔ اگر وہ صحیح اسلام کی دعوت دیتے تو ضرور ایسا ہوتا کہ انھیں ستایا جاتا اور ان کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس مفروضہ کو لے کر انھوں نے بطور خود اسلام کی ایسی سیاسی اور انقلابی تعبیر کی کہ اسلام حکمراں طبقہ کا مدمقابل بن گیا۔ انھوں نے کہا کہ توحید سے مراد سیاسی توحید ہے۔ اس کا مطلب ایک خدا کے سوا تمام حاکموں کی سیاسی بغاوت ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسانی حاکموں سے لڑ کر انھیں اقتدار سے بے دخل کیا جائے اور خلیفۃ اللہ کی حیثیت سے ساری دنیا پر مسلم حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بہت سے مسلم نوجوان اسلام کی اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہوئے۔ اور پھر انھوں نے انسانی حاکموں کا باغی بن کر ساری دنیا میں گن اور بم کا کلچر چلا دیا۔ اب ہر جگہ حکمرانوں کی طرف سے ان نئے ’’داعیان اسلام‘‘ پر تشدد کیا جانے لگا۔ یہ دیکھ کر مذکورہ مفکرین نے اعلان کر دیا کہ دیکھو، یہ ہے اصل اسلام۔ چنانچہ جو لوگ اس کے لیے کھڑے ہوئے ان کے ساتھ بھی حکومت وقت کی طرف سے وہی تشدد کیا جانے لگا جو ماضی کے داعیوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔

مگر یہ اجتہادی صلاحیت کے فقدان کا نتیجہ تھا ، وہ صحیح اسلام کے لیے کھڑے ہونے کا نتیجہ نہ تھا۔ یہ جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے وہ تمام تر خود ساختہ سیاسی بغاوت کی بنا پر ہے، نہ کہ حقیقتاً اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھنے کی بنا پر۔ یہ مفکرین دراصل مجتہدانہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے قدیم و جدید کے فرق کو سمجھ نہ سکے اور انھوں نے انتہائی غیر ضروری طور پر جدید مسلم نسلوں کو تشدد کے غار میں دھکیل دیا۔

اصل یہ ہے کہ دوراول کے اسلامی انقلاب کے بعد تاریخ انسانی میں ایک نیا عمل جاری ہوا۔ یہ جمہوریت اور آزادی کا عمل تھا۔ یہ اس دور کو ختم کرنے کا عمل تھا جس کے تحت ملک کے ہر فرد کے لیے حکمرانوں کے مذہب کو ماننا ضروری تھا۔ جو آدمی حکمراں کے مذہب کو نہ مانے اس کو مذہبی تعذیب (religious persecution) کا شکار ہونا پڑتا تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں صرف موحدین ہی حکمرانوں کے ظلم کا شکار نہیں بنے بلکہ ہر اس مذہب کے ماننے والوں کو اقتدار کی طرف سے ظلم کا نشانہ بنایا گیا جو ان سے الگ اپنا کوئی مذہبی عقیدہ رکھتا تھا۔ مثلاً شام و فلسطین کے علاقہ میں یہودی حاکموں نے عیسائیوں پر ظلم کیا۔ اس کے بعد عیسائی بادشاہوں نے یہودیوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح ہندستان میں مشرک راجاؤں نے بدھوں پر زبردست مظالم کیے، وغیرہ

Religious persecutions have affected members of all the major religions.

)Encyclopedia Britannica, 1984, vol. VII, p. 888(

اسلام کے دور اول میں جو عظیم انقلاب آیا اس نے اصولی طور پر اس مذہبی تعذیب کا خاتمہ کر دیا۔ تاہم اس قسم کی عمومی برائی کبھی یک لخت ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ تدریج کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔ چنانچہ اسلامی انقلاب نے جب اس کے خاتمہ کا اصولی اعلان کیا اوراس کی بنیاد پر اپنے دائرہ میں ایک عملی نظام بھی بنا دیا تو اس کے بعد یہ ہوا کہ وہ خود تاریخ انسانی میں ایک عملی پراسس کے طور پر شامل ہو گیا۔ یہ پراسس مسلسل چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں یہ تاریخی عمل اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔

چنانچہ اب ساری دنیا سے قدیم طرز کے مذہبی ظلم کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اب اسلام کا قافلہ مذہبی آزادی کے دور میں ہے۔ اب وہ قدیم مذہبی تعذیب کے دور سے مکمل طور پر باہر آچکا ہے۔

یہ انقلاب اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم انعام تھا۔ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ابلاغ کے جدید ذرائع انسان کے اوپر کھول دیے۔ دوسری طرف مکمل مذہبی آزادی کو عالمی سطح پر انسان کا مطلق حق تسلیم کر لیا گیا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار داعیان توحید کو یہ موقع حاصل ہو گیا کہ وہ خدا کے پیغام کو بلا روک ٹوک ساری دنیا میں پہنچا سکیں۔

مگر عین اسی وقت اسلام کی خود ساختہ سیاسی اور انقلابی تعبیر کا فتنہ ظاہر ہوا۔ اس نے انتہائی غیر ضروری طور پر داعی اور مدعو کے درمیان وہ بے فائدہ جنگ برپا کر دی جو خدا نے سینکڑوں سال کے عمل کے بعد بالکل ختم کر دی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دعوت حق کے تمام جدید امکانات تباہ ہو کر رہ گئے۔ مدعو انتہائی غیر واقعی طور پر داعی کا حریف بن گیا۔ دونوں کے درمیان داعیانہ تعلق ایک خود پیدا کردہ حریفانہ تعلق میں تبدیل ہو گیا۔

عصر حاضر میں اسلامی فکر کی تشکیل نو کا کام جتنا ضروری ہے اتنا ہی زیادہ وہ مشکل بھی ہے یہ ایک ایسا کام ہے جس میں ایک طرف اگر عصر حاضر کا گہرا مطالعہ ضروری ہے تو اسی کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ آدمی کو اسلام کی تعلیمات اور اس کی روح سے کامل درجہ کی واقفیت حاصل ہو۔ اس دوطرفہ شرط میں ادنیٰ کمی بھی بھیانک غلطی تک پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس کی ایک مثال’’امامت اقوام‘‘کا وہ جدید نظریہ ہے جس کو کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کی انقلابی تعبیر کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، مسلمان سارے عالم کے قائد اور حاکم ہیں۔ مسلمانوں کو خدا کی طرف سے یہ منصب عطا کیا گیا ہے کہ وہ ’’انسانی حاکموں‘‘ کو بزور تمام دنیا میں اقتدار سے ہٹائیں اور انسانوں کے اوپر خدا کی حکومت (عملی طور پر خود اپنی حکومت) قائم کر دیں۔

اس نام نہاد انقلابی نظریہ کے لیے قرآن یا حدیثِ رسول میں کوئی دلیل نہیں۔ اس کی دلیل عہد صحابہ کے ایک واقعہ سے نکالی گئی ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں جب ایرانی حکومت سے مسلمانوں کا ٹکراؤ ہوا۔ تو اس دوران مسلم لشکر کے سردار سعد بن ابی وقاص نے گفت و شنید کے لیے کچھ وفد ایرانی حکمرانوں کے یہاں بھیجے۔ ان میں سے ایک ربعی بن عامر تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ربعی بن عامر جب ایرانی سپہ سالار رستم کے دربار میں پہنچے تو رستم سے ان کی لمبی گفتگو ہوئی۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا قَالَ رُسْتُمُ مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالَاللہ ‌ابْتَعَثَنَا، وَاللهُ جَاءَ بِنَا ‌لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللهِ (تاریخ الطبری، جلد3، صفحہ 520)۔ رستم نے پوچھا کہ تم کس لیے ہمارے ملک میں آئے ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو اللہ نے بھیجا ہے۔ اور ہم کو اللہ لے آیا ہے تاکہ وہ جس کو چاہے اس کو ہم بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحابی کی اس تقریر سے مذکورہ سیاسی نظریہ نکالنا بلاشبہ ایک نامحمود جسارت ہے۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کی تصویر کو بگاڑنے کے ہم معنی ہے۔ صحابی کے مذکورہ قول میں اسلام کی توسیعی انسانیت (extended humanity)کو بتایا گیا ہے۔ مگر عدم واقفیت کی بنا پر غلط تعبیر کر کے اس کو اسلام کی توسیعی سیاست (extended politics) کے معنی میں لے لیا گیا۔ یہ یقینی طور پر صحابی کے ایک قول کی نہایت غلط توجیہ ہے۔

یہ صحیح ہے کہ اس وقت ایرانی حاکموں اور اہل اسلام کے درمیان جنگ پیش آئی۔ لیکن جنگ کی حیثیت پورے معاملہ میں محض اضافی یا اتفاقی تھی۔ وہ اس کا اصل مطلوب نہ تھی۔

اس زمانہ میں ساری دنیا میں انسانیت اونچے اور نیچے طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ کچھ لوگوں کے صرف حقوق ہی حقوق تھے ، اور کچھ لوگوں کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں۔ کچھ لوگ خدا کے نمائندہ بن کر دوسروں کو اپنا غلام بنائے ہوئے تھے۔ عمومی مساوات کا تصور دنیا سے ختم ہو گیا تھا۔ خود ایران کے حکمراں اپنے آپ کو مالک اور دوسروں کو اپنا مملوک سمجھ رہے تھے۔

اس وقت اصحاب رسول اور اہل ایمان انسانیت کا پیغام لے کر اٹھے۔ وہ تمام انسانوں کی محبت میں سرشار تھے اور دوسروں کو بھی یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ وہ تمام انسانوں سے محبت کریں۔ وہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے اخوت اور مساوات کا پیکر بن چکے تھے، اور اب چاہتے تھے کہ دوسرے انسان بھی اسی طرح اخوت اور مساوات کے رنگ میں رنگ جائیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ لوگوں کے درمیان انسانیت کی ٹھنڈی ہوائیں چلانے کے لیے اٹھے تھے نہ کہ گن کلچر چلا کر لوگوں کے اوپر اپنی سیاسی حکمرانی قائم کرنے کے لیے۔

اسلام کی تشریح نوعملی اعتبار سے نہایت مشکل ہے۔ یہ ایک اجتہادی نوعیت کا کام ہے۔ چنانچہ لوگوں کو وہ ہمیشہ ایک نیا کام دکھائی دیتا ہے۔ یہ کام جب بھی کیا جائے گا وہ اس عوامی نفسیات کا شکار ہو گا جس کو عربی مقولہ میں الناس اعداء ماجہلوا کہا گیا ہے۔ یعنی لوگ اس چیز کے دشمن بن جاتے ہیں جس کو وہ نہ جانتے ہوں۔ اس نفسیاتی کمزوری کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اسلام کی تشریح نو کو لوگ نیا دین سمجھ لیتے ہیں ۔ اور اس کو مٹانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ رکاوٹ انتہائی غیر معمولی ہے۔ کیوں کہ وہ اپنوں کی طرف سے پیش آتی ہے۔ اس دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ اغیار کی مخالفت آدمی کو ہیرو بناتی ہے اور اپنوں کی مخالفت آدمی کو زیرو بنا دیتی ہے۔ اس لیے اس مشکل کام کو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو غیر معمولی یقین اور غیر معمولی جرأت کا سرمایہ اپنے پاس رکھتے ہوں۔

اس معاملہ کی ایک سادہ مثال لیجئے۔ میری گفتگو ایک مسلم دانشور سے ہوئی۔ انھوں نے شکایت کی کہ آپ اپنی تحریروں میں ہمیشہ ایک طرفہ بات کرتے ہیں۔ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور تعصب ہو رہا ہے۔ مگر آپ کبھی اس کے خلاف نہیں لکھتے۔ مجھے تو آپ کی باتیں خیالی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے سرسید احمد خاں کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ اس دور میں سرسید ہی ایک ایسے شخص تھے جنھوں نے مسلمانوں کی سچی رہنمائی کی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آپ ہمارے پیغام کونہیں سمجھے۔ مزید یہ کہ آپ سرسید کی تعریف کرتے ہیں۔ مگر آپ سرسید کو بھی نہیں سمجھ سکے۔ آپ جانتے ہیں کہ سرسید کا زمانہ وہ ہے جب کہ انگریز اس ملک پر حکومت کرتا تھا۔ اس زمانہ کے بیشتر لیڈر انگریزوں کو اسلام کا اور مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک بتاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انگریزوں نے مسلمانوں کو ہر اعتبار سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ انگریزوں کو اس ملک سے نکالا جائے۔ اس سیاسی مسئلہ کو حل کیے بغیر مسلمانوں کی تعمیر وترقی کا کوئی کام نہیں ہو سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر سرسید نے ان صحیح یا غلط مظالم کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ انگریزوں کے خلاف انھوں نے کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلائی ، حتیٰ کہ انگریزوں کو ملک بدر کرنے کی تحریک میں بھی وہ شریک نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف توجہ دلائی۔ سرسید کی ترجمانی کرتے ہوئے حالی نے اپنی مسدس میں یہ شعر کہا 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں

اس وقت کے حالات کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اگرچہ ہندستان میں انگریزی حکومت کے پیدا کردہ مسائل ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ اور اسی وقت یہاں مواقع کار بھی موجود ہیں۔ تم لوگ مسائل کو نظر انداز کرو، اور عمل کے مواقع کو استعمال کر کے ترقی حاصل کرو۔

آپ سرسید کی شخصی تعریف کر رہے ہیں۔ مگر سرسید کے پیغام اور اس کے طریق کار کو دوبارہ زندہ کرنے کے مخالف ہیں۔ آپ کا یہ تضاد بھی کیسا عجیب ہے۔ یہی عام انسانی حالت ہے۔ لوگ ماضی کی ’’تحریکِ سرسید‘‘کی تعریف کرتے ہیں، مگر وہ حال کی ’’تحریکِ سرسید‘‘ کے مخالف بن جاتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ میں اسلام کے خلاف زبردست غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ دین رحمت لوگوں کی نظر میں دین تشدد بن گیا ہے۔ پیغمبر اسلامؐ نے اپنے بارے میں فرمایا کہ میں نبی رحمت (نَبِيّ الرَّحْمَةِ) ہوں(مسند احمد، حدیث نمبر 23443)۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کی جو نمائندگی کی ہے ، اس کے مطابق آپ لوگوں کو تشدد کے پیغمبر (نَبِيّ ‌العُنْف)دکھائی دینے لگے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو اسلام کے خلاف سازش یا دشمنوں کا پروپیگنڈا کہنا شروع کر دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سنگین مسئلہ کا بھی نہایت گہرا تعلق اسلام کی تشریح نو سے ہے۔ یہ مسئلہ خود مسلمانوں کی متشددانہ تعبیرات کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔ جب تک مجتہدانہ انداز میں اسلام کی ازسر نو تشریح نہ کی جائے ، نہ مسلمانوں کا متشدانہ عمل ہو گا اور نہ ایسا ہو گا کہ اسلام کے خلاف لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔

اس مسئلہ کا گہرائی کے ساتھ نیز منصفانہ انداز میں مطالعہ کیجئے تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی سازش کی بنا پر نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ اس کی پیدائش کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی جو تشریح نو درکار تھی اس کو پیش کرنے میں ہمارے علما و مفکرین ناکام رہے۔ اسلام جو دین حق اور دین فطرت ہے ، اس کے خلاف موجودہ منفی پروپیگنڈا دراصل خود مسلم علما اور مفکرین کی کوتاہیوں کی قیمت ہے، نہ کہ مفروضہ اعداء اسلام کی کوئی سازش۔

اس کی ایک مثال لیجئے۔ 27 نومبر 1995 کو ہمارے دفتر میں دہلی کے دو تعلیم یافتہ اصحاب آئے۔ ایک مسٹر نسیم نقوی (Tel. 528099) اور دوسرے مسٹر ارن کمار (Tel. 6851387) جو مسٹر نسیم نقوی کے گہرے دوست ہیں۔ اتفاق سے اس وقت میرے سامنے مسٹر ارن شوریٰ کی تازہ کتاب ورلڈ آف فتوی (The World of Fatwas) رکھی ہوئی تھی۔ چنانچہ ’’فتویٰ‘‘ کے موضوع پر گفتگو شروع ہو گئی۔

میں نے کہا کہ مسٹر ارن شوری نے اپنی اس کتاب میں فتوی کو شریعت کی عملی صورت (Shariah in Action) کہا ہے۔ یہ بات سراسر غلط ہے۔ فتوی شریعت کی عملی صورت نہیں ہے۔ وہ کسی جزئی معاملہ میں ایک عالم کی رائے (opinion) ہے، جو صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ شریعت مقدس ہے مگر فتویٰ مقدس نہیں، خواہ وہ کتنے ہی بڑے عالم کا فتویٰ کیوں نہ ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام شافعیؒ کا قول فتویٰ کی حیثیت کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ، اور دوسروں کی رائے خطا ہے احتمال صحت کے ساتھ( رَأیُنَا صَوَابٌ يَحْتَمِلُ ‌الْخَطَأَ وَرَأْيُ غَيْرِنَا خَطَأٌیَحْتَمِلُ الصَّوَابَ، وَمَنْ ‌جَاءَنَا بِأَفْضَلَ ‌مِنْهُ قَبِلْنَاهُ)۔مثال کے طور پر امام ابو حنیفہ نے فتویٰ دیاکہ ایک غیر عربی داں ایرانی نو مسلم نماز میں سورہ فاتحہ فارسی زبان میں پڑھ سکتا ہے۔ صاحبین (قاضی ابو یوسف ، امام محمد) نے اس سے اختلاف کیا۔ بعد کو امام ابو حنیفہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا (النفحۃ القدسیۃ في أحكام قراءة القرآن وكتابته بالفارسية للشرنبلالي، بتحقیق د. اسامہ الحیانی، 2015،صفحہ 139)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب یہ ہے کہ فتویٰ اپنے آخری درجہ میں پہنچ کر بھی صرف ایک انسانی رائے ہے، وہ کسی بھی درجہ میں مقدس شریعت کا کوئی لازمی حصہ نہیں۔شریعت کی حقانیت کو جانچنے کا معیار خدا و رسول کا کلام ہے۔ کوئی انسانی کلام اس کا معیار نہیں بن سکتا، کیوں کہ انسان کا کلام ایک اضافی کلام ہے، وہ غلط بھی ہو سکتا ہے اور درست بھی۔

مسٹر ارن کمار نہایت شریف اور بے تعصب آدمی ہیں۔ وہ کسی بھی درجہ میں اسلام کے معاند نہیں۔ مگر انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو میرے لیے سخت حیرت ناک تھی۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے تو فتویٰ کا کچھ اور ہی مطلب بتایا۔ ہم تو اب تک یہ سمجھتے تھے کہ فتویٰ کا مطلب سزائے موت (death sentence) ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسٹر ارن کمار جیسے مسلم دوست کو اتنی بڑی غلط فہمی کیسے ہوئی کہ انھوں نے فتویٰ کو سزائے موت کا حکم سمجھ لیا۔ اس کا واحد سبب سلمان رشدی کے خلاف آیت اللہ خمینی (وفات 1989)کا فتوی (1985) تھا۔ سلمان رشدی کی کتاب (سیٹنک ورسسز) کی اشاعت کے بعد ایران کے آیت اللہ روح اللہ خمینی نے یہ فتویٰ دیا کہ رشدی شاتم رسول ہے، اس کو قتل کر دیا جائے۔ اس فتوے کی اشاعت کے بعد ساری دنیا کی میڈیا (اخبار، ریڈیو ، ٹی وی) نے اس کو خوب خوب پبلسٹی دی۔ ساری دنیا میں اس کا چرچا ہونے لگا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام یا پیغمبر اسلامؐ کے خلاف کچھ لکھے یا بولے تو اس کو فوراً قتل کر دو، اس کو ہرگز زندہ نہ چھوڑو۔ مزید یہ کہ کسی کو مجرم بتا کر اس کو قتل کرنے کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اس قسم کا ایک فتویٰ کسی عالم کی طرف سے جاری کر دیا جائے۔

بے شمار غیر مسلم اس واقعہ سے پہلے ’’ فتویٰ ‘‘ کے لفظ سے ناآشنا تھے، اب انھوں نے بار بار ان باتوں کو سنا۔ ایک طرف فتویٰ ، اوردوسری طرف شاتم کے لیے قتل کی سزا۔ وہ سمجھے کہ فتویٰ سے مراد قتل کی سزا ہے۔ جب کسی کو موت کی سزا دینا ہو تو اسلام میں اس کے خلاف ایک حکم جاری کیا جاتاہے جس کا نام فتویٰ ہے۔ اور جب کسی کے خلاف فتویٰ جاری ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ جہاں پائیں اس کو قتل کر ڈالیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فتویٰ کا یہ تصور احمقانہ حد تک بے بنیاد ہے۔ مگر خود مسلم نمائندوں کی غلط نمائندگی سے یہ بات ساری دنیا میں مشہور ہو گئی۔ موجودہ زمانہ میں جن چیزوں نے اسلام کو لوگوں کی نظر میں دین رحمت کے بجائے دین تشدد بنا دیا ہے ، ان میں بلاشبہ سرفہرست یہی واقعہ ہے۔

فتویٰ کا دائرہ نہایت محدود دائرہ ہے۔ فتویٰ شریعت کے جزئی یا غیر منصوص امور میں صرف ایک عالم کی رائے (opinion) کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں اس چیز کا قائم مقام نہیں ہے جس کو قضا کہا جاتا ہے۔

ایک ایسا جرم جس کی سزا شریعت میں موت مقرر کی گئی ہو، اس کا تعلق یقینی طور پر عدالت سے ہے، نہ کہ فتویٰ سے۔ ایسے معاملہ میں فتویٰ جاری کرنا ایک مجرمانہ جسارت کے ہم معنی ہے۔ جب کسی شخص سے ایک ایسا جرم سرزد ہو جو سزائے موت کو مستلزم ہو تو اس کا معاملہ باقاعدہ اور بااختیار عدالت میں لایا جائے گا۔ وہاں گواہیاں پیش ہوں گی۔ شخص ماخوذ کو اپنی صفائی کا موقع دیا جائے گا۔ اس قسم کی تمام ضروری شرائط کو پورا کرنے کے بعد صرف بااختیار عدالت کو یہ حق ہے کہ دلائل وشواہد کی روشنی میں وہ جو فیصلہ مناسب سمجھے اس کا اعلان کرے۔

ایران کے آیت اللہ روح اللہ خمینی نے جب اس قسم کا فتویٰ جاری کیا تو تمام دنیا کے علما پر فرض تھاکہ اس کی تردید میں وہ متفقہ بیان شائع کریں۔ وہ اعلان عام کے ذریعہ لوگوں کو بتائیں کہ سزائے موت کا تعلق فتویٰ سے نہیں ہے بلکہ قضا (عدالت) سے ہے۔ اسلام میں ہرگز اس کی گنجائش نہیں کہ ایک شخص محض اپنے فتوے کے ذریعہ کسی کے قتل کا حکم جاری کر دے۔ کوئی مجرم قتل کی سزا کا مستوجب صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ اسلامی عدالت میں تمام ضروری کارروائی کے بعد اس کا جرم پوری طرح ثابت ہو جائے۔ اور ایک بااختیار قاضی اس کے معاملہ میں اپنے فیصلہ کا اعلان کر د ے۔

مگر علما نے یا تو مذکورہ فتوے کی تائید کی یا اس کے بارے میں وہ خاموش رہے۔ اور یہ دونوں فعل یکساں طور پر شریعت کے خلاف تھا۔ برائی کی حمایت اگر براہ راست طور پر اس کی تائید ہے تو اس کے علم کے باوجود اس پر چپ رہنا بالواسطہ طور پر اس کی تائید۔

موجودہ زمانہ کے مسائل میں ایک قسم ان مسائل کی ہے جو صرف زمانہ کے حالات سے متاثر ہو کر پیدا ہوئے اور بعد کو وہ اسلام کا حصہ سمجھ لیے گئے۔ حالاں کہ ان کا اصل اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ حقیقتاً زمانی تاثر کی پیداوار تھے نہ کہ اسلامی تعلیمات کی پیداوار۔

انھیں میں سے ایک مسئلہ قومیت(nationality)کا مسئلہ ہے۔ اگرچہ عملی طور پر یہ صورت حال ہے کہ ہر مسلمان جب وہ پاسپورٹ بنواتا ہے تو اس کے فارم پر قومیت کے خانہ میں وہ اپنے آپ کو انڈین(یا جرمن یا فرنچ یا امریکن) لکھتا ہے۔ اس میں کسی بھی طبقہ کے مسلمان کا کوئی استثنا نہیں۔ مگر ذہنی طور پر یہ چیز ابھی تک اس کے شعور کا حصہ نہ بن سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان (بشمول انڈیا) اس تضاد کا شکار ہیں جس کو ایک مصری نژاد امریکن نے تشخیص کا بحران(crisis of identity)سے تعبیر کیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں(سیاسی ضرورت کے تحت، نہ کہ شرعی تقاضے کے تحت )ساری مسلم دنیا میں ایسی تحریکیں اٹھیں جنھوں نے مسلمانوںکو یہ ذہن دیا کہ اسلام ایک عالمی قومیت ہے ، اور مسلمان اس عالمی قومیت کے بین الاقوامی شہری ہیں۔ پان اسلام ازم ، خلافت تحریک ، عالمی حکومت الٰہیہ، خدام کعبہ، الاخوان المسلمون تحریک پاکستان، وغیرہ، سب نے کسی نہ کسی اعتبار سے مسلمانوں کے اندر اسی قسم کا ذہن بنایا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کا ذہن آج شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی ہے۔

مگر یہ فکر واضح طور پر جدید تصور قومیت سے ٹکراتا ہے۔ جدید دور میں قومیت کا تعلق وطن(homeland)سے مانا جاتا ہے۔ جب کہ مسلمان، دور جدید کی مسلم تحریکوں کے زیر اثر، اپنی قومیت کو اپنے مذہب سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ اس تضاد نے جدید دور کے مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک برائی کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ یا تو وہ اپنے ملک میں باغی بن کر رہیں۔ کیوں کہ وطنی قومیت کو نہ ماننا اہل ملک کی نظر میں بغاوت کے ہم معنی ہے۔ دوسرا بدل ان کے لیے یہ ہے کہ وہ منافقانہ روش اختیار کر لیں۔ یعنی دل کے اندر تو وطنی قومیت کے منکر بنے رہیں، مگر عملی زندگی میں ہر جگہ اپنی قومیت وہی ظاہر کریں جو ملکی حالات کا تقاضا ہے۔

غیر مسلموں کی طرف سے یہ مسئلہ بار بار مختلف صورتوں میں اٹھایا گیا ہے۔ انگلش میگزین سنڈے(19-25 نومبر 1995ء )میں مسٹر ارن شوری کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے یہ کہا ہے کہ ایک شخص اگر گڈ مسلم (Good Muslim)ہے تو وہ گڈ انڈین (یا گڈ فرنچ، گڈ جرمن) نہیں ہو سکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

28 نومبر 1995ء کو میں نے یہ انٹرویو پڑھا۔ اس کے فوراً بعد میں نے مسٹر ارن شوری کو ٹیلی فون کیا۔ میں نے کہا کہ یہ کیسی بات آپ نے کہہ دی۔ آپ کی تعریف کے مطابق، میں گڈ مسلم ہوں۔ مگر اسی کے ساتھ میں ایک گڈ انڈین بھی ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر میں گڈ انڈین نہیں ہوں تو سارے ملک میں کوئی بھی شخص گڈ انڈین نہیں۔ حتیٰ کہ میں کہوں گا کہ اگر کوئی شخص مجھ کو گڈانڈین نہ مانے تو اس کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مہاتما گاندھی بھی گڈ انڈین نہیں تھے۔

مسٹر ارن شوری نے فوراً اس کی تردید کی۔ انھوں نے کہا کہ میں تو آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ آپ پورے معنوں میں ایک گڈ انڈین ہیں۔ میں نے اپنے انٹرویو میں آپ کا نام لے کر آپ کی بہت تعریف کی تھی۔ مگر میگزین والوں نے میرا پورا انٹرویو نہیں چھاپا۔

مگر سوال کسی ایک فرد کے گڈ انڈین ہونے کا نہیں ہے بلکہ اصول کا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک شخص اچھا مسلمان ہوتے ہوئے کیا اچھا انڈین یا اچھا فرنچ بن سکتا ہے یا نہیں۔

اس معاملہ میں میں ارن شوری جیسے لوگوں سے زیادہ ان مسلم مفکرین (مثلاً علامہ اقبال، سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ) کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں جنھوں نے غلط طور پر اپنے خود ساختہ افکار کو اسلام کی طرف منسوب کیا۔ اس معاملہ میں وہی بات درست ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے کہی تھی۔ 1947ءسے پہلے انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’’اس زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں‘‘ (شرح ارمغانِ حجاز، یوسف سلیم چشتی،1982، نئی دہلی، صفحہ 272)۔یہی اسلام کا صحیح نقطۂ نظر ہے۔ عصر جدید میں اسلام کی تشریح نو کا ایک کام یہ بھی ہے کہ اس اصول کو دلائل و حقائق کی روشنی میں مرتب کر کے لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ یہ انسان کا بے حد کمتر اندازہ ہو گا اگر یہ سمجھا جائے کہ دو خوبی (goodness) بیک وقت ایک انسان میں جمع نہیں ہو سکتی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ کتاب میں اسی قسم کے مباحث پر اصولی حیثیت سے کلام کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو وہ مجتہدانہ روش دکھائی جائے جس کے ذریعہ سے وہ عصر حاضر کو اور اسلام کے جدید تقاضوں کو سمجھیں۔ وہ ان غلطیوں سے بچیں جس نے موجودہ زمانہ میں ان کی تمام کوششوں اور قربانیوں کو حبط اعمال کے خانہ میں ڈال دیا ہے۔

تاہم زیرِ نظر مجموعہ کی حیثیت ایک ابتدائی کوشش کی ہے۔ وہ زیر بحث مسئلہ پر ہر پہلو سے کوئی جامع کتاب نہیں۔ وہ صرف اس لیے ہے تاکہ اس موضوع کی خصوصی اہمیت کو لوگوں کے سامنے نمایاں کیا جا سکے۔ وہ آغاز کلام ہے، نہ کہ خاتمۂ بحث۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content