Maulana Wahiduddin Khan
27 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

May 1989

English · 27 min read

یکم مئی 1989

اخباری خبروں کے مطابق ، آجکل بنگلہ دیش کے ہندوؤں میں ایک نئی تحریک ابھری ہے ۔ اس کا نام " بنگو بھومی" بتایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کے بعض علاقے جہاں ہندووں کی تعداد زیادہ ہے۔ وہاں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس کو بقیہ ملک سے الگ کر کے اس کو ہندوؤں کا ہوم لینڈ بنا دیا جائے تاکہ ہندوؤں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے۔

other sourceWords of another person or source

مسلمانوں کے اخبارات اس تحریک کو "سازش" قرار دے کر اس کے خلاف لفظی بیانات دینے میں مصروف ہیں۔اس سلسلہ میں قابل لحاظ بات یہ ہے کہ ٹھیک اسی قسم کی علٰیحدگی پسندی کی سیاست خود مسلمان بہت سے ملکوں میں چلا رہے ہیں۔ جس ملک میں بھی اس کے کسی حصہ میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، وہاں علیحدہ مسلم ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ مثلا اریٹریا ، لبنان، برما، فلپائن ، موزمبیق، وغیرہ۔

مسلم اخبارات ان ملکوں میں مسلمانوں کی علیحدگی پسندی کی تحریک کو آزادی کی تحریک قرار دے کر ان کی حمایت کرنے میں مصروف ہیں۔ اور بنگلہ دیش میں اسی قسم کی تحریک کو تقسیم ملک کی گھناؤنی سازش قرار دے کر اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا یہی تضاد ہے جس نے ان کی تمام کوششوں کو بے ثمربنا رکھا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2 مئی 1989

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ فلاں شخص کا انتقال ہوگیا۔ یہ سن کر میں چپ ہوگیا اور دیر تک چپ رہا۔ انھوں نے چپ ہونے کا سبب پوچھا۔ میں نے کہا کہ یہ خبر ہر ایک کو معلوم ہے کہ فلاں شخص کا انتقال ہوگیا مگر یہ خبرکسی کومعلوم نہیں کہ میرا انتقال ہونے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جاننے والے بھی نہیں جانتے۔ سننے والوں نے بھی ابھی تک نہیں سنا۔

3 مئی 1989

مولانا امیراللہ خان صاحب (محبوب نگر) رمضان کے دنوں میں کراچی گئے تھے۔ وہ وہاں ایک مہینہ گزار کر واپس آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اخلاقی اعتبار سے پاکستان کی حالت اتنی زیادہ گر چکی ہے کہ اس کے مقابلہ میں ہندستان جنت معلوم ہوتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے بہت سی مثالیں ہیں۔ مثلا انھوں نے کہا کہ یہاں سے جاتے ہوئے انھوں نے دہلی ریلوے اسٹیشن سے دہلی سے اٹاری کے لئے ٹکٹ لیا جس کی قیمت فی ٹکٹ 59 روپے تھی۔ چار ٹکٹ لے کر وہ آگے بڑھے تو ایک آدمی دوڑ کر آیا کہ ٹکٹ بابو آپ کو بلا رہے ہیں۔ وہ واپس ہو کر دوبارہ کھڑکی پر گئے تو انھوں نے چار روپیہ لوٹایا کہ آپ اس کو لینا بھول گئے۔ دوسری طرف لاہور اسٹیشن پر وہ لاہور سے ملتان کا ٹکٹ لینے کے لئے ایک کھڑکی پر گئے اور کلرک کو 45 روپیہ دیا۔ اس نے پہلے روپیہ لے لیا۔ اس کے بعد یہ کہہ کر اس کولوٹا دیا کہ یہ فرسٹ کلاس کے ٹکٹ کی کھڑکی ہے سکنڈ کلاس کا ٹکٹ بازو کی کھڑکی سے ملے گا۔ انھوں نے اپنے روپیہ کوگنا تو اس میں دس روپیہ کم تھے ۔ کلرک نے 45 روپیہ لے کر صرف 35 روپیہ لوٹائے تھے ۔

مولانا امیراللہ خاں صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے ہر نوٹ پر لکھا ہوتا ہے :" حصول رزق حلال عین عبادت ہے " ۔ یہی جملہ سرکاری دفتر کی دیواروں پر بھی لکھا ہواہے۔ مگر عین اسی نوٹ سے اور عین اسی دفتر میں رشوت کا کاروبار اتنے بڑے پیمانے پر جاری ہے کہ اس کے مقابلہ میں ہندستان کے کرپشن کی کوئی حقیقت نہیں۔ پاکستان میں ہر کام کے لئے رشوت اس طرح مطالبہ کر کے لے جاتی ہے جس طرح کوئی دکاندارچیزوں کی قیمت گاہک سے مانگ کر وصول کرتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پاکستان کا نعرہ ، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ، اسلام پسند رہنماؤں کی نصف صدی کی جد و جہد ، جنرل ضیاء الحق کا ساڑھے گیارہ سال کا اسلامائزیشن ، سب نے صرف الٹا نتیجہ برآمد کیا۔

4 مئی 1989

جنوری 1977 میں مسلم یونیورسٹی میں ایک سمینار تھا۔ اس سلسلہ میں علی گڑھ گیا ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہاں یونیورسٹی کے مہمان خانہ میں میری ملاقات جماعت اسلامی کے ایک رکن ڈاکٹر عبدالحق صاحب سے ہوئی ۔ ان کو جماعت اسلامی سے میری علیحدگی پر اختلاف تھا۔ انھوں نے کہا کہ میرے یا آپ کے اندر مولانا ابوالاعلی مودودی والی صلاحیت تو ہے نہیں ، میں یا آپ خود کوئی مشن کھڑا نہیں کرسکتے۔ اس بنا پر ہمارے لئے صحیح یہ ہے کہ ہم جماعت اسلامی کی تحریک سے وابستہ رہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جماعت اسلامی سے وابستگی کے بارہ میں میں ان کی رائے سے متفق نہ تھا۔ مگریہ میرا بھی احساس تھا کہ میں تو کوئی مشن برپا نہیں کر سکتا۔ جس وقت علی گڑھ میں یہ بات ہورہی تھی اس وقت اگر چہ الرسالہ کا اجرا عمل میں آچکا تھا۔ مگرمیری ذات سمیت کوئی بھی شخص یقین نہیں رکھتا تھا کہ وہ چند مہینے سے زیادہ مدت تک باقی رہ سکے گا۔

مگر الرسالہ نکلتا رہا۔ آج الرسالہ ساری دنیا میں پڑھا جا رہا ہے۔ وہ دوسری مطبوعات کے ساتھ مکمل معنوں میں ایک مشن بن چکا ہے۔ 1976 سے اب تک اس سلسلہ میں اللہ تعالی کی بہت سی غیرمعمولی نصرتیں مجھے حاصل ہوئی ہیں جن کی وجہ سے الرسالہ ایک مشن بن سکا۔ ان میں بھی ایک بے حد خاص نصرت میری وہ لڑکی ہے جس کا نام فریدہ خانم ہے۔فریدہ خانم نہ صرف میرے اردو کے کاموں میں مسلسل معاون رہی ہے، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ تنہا اسی کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا کہ فروری 1984 میں الرسالہ کا انگلش اڈیشن جاری ہوا۔ وہ تمام تر اسی کا کارنامہ ہے جو اب تک انگریزی الرسالہ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس درمیان میں میری جن کتابوں کے انگریزی ترجمے شائع ہوئے ہیں ، وہ تمام تر اس کی تنہا کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ میرا احساس یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اگر فریدہ خانم کے ذریعہ میری نصرت نہ فرمائی ہوتی تو نا ممکن تھا کہ میں میں انگریزی شعبہ کھولوں اور اس کو کامیابی کے ساتھ چلا سکوں۔

5 مئی 1989

افغان باغیوں نے عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے مگر ابھی ان کے پاس افغانستان میں کوئی جگہ نہیں جہاں وہ اپنی حکومت کا مرکز بنا سکیں۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے جلال آباد کو چنا۔ پندرہ ہزار مجاہدین نے جلال آباد پر حملہ کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ 9 مارچ تک وہ جلال آباد پر قبضہ کر لیں گے ۔ مگر مارچ اور اپریل، دو مہینے کی کوشش کے با وجود وہ اب تک اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔

یہ ایک سوال ہے کہ وہ مجاہدین جنھوں نے روسی فوجوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا، وہ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد جلال آباد پر قبضہ کیوں نہ کر سکے ۔ قومی آواز (4 مئی 1989) کی ایک رپورٹ کے مطابق ، فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جلال آباد میں افغان باغیوں کو اس وجہ سے شکست ملی ہے کہ پہلی بار انھوں نے گوریلا جنگ ترک کر کے براہ راست حملہ کیا جس کی ان میں نہ صلاحیت تھی اور نہ سکت۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک اعتبار سے اگر آدمی کی مہارت ثابت ہوجائے تو ضروری نہیں کہ دوسرے اعتبار سے بھی وہ ضرور مہارت رکھنے والا ہوگا۔

6 مئی 1989

اجودھیا کی بابری مسجد کے نام پر اٹھائی جانے والی تحریک آندھی کی طرح اٹھی اور غبارہ کی طرح پھٹ کرختم ہوگئی۔ بابری مسجد تحریک کے نام نہاد لیڈر اب خود نجی مجلسوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ بابری مسجد دوبارہ مسلمانوں کو ملنے والی نہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم یہ تحریک اسلامی مرکز کے لئے ایک نعمت ثابت ہوئی ہے۔ راقم الحروف 1968 سے الجمعیتہ ویکلی کے ذریعہ ہندستانی مسلمانوں کو یہ سبق دیتا رہا ہے کہ ہندومسلم معاملات میں وہ ٹکراؤ اور ایجی ٹیشن کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ صبرو اعراض اور حکیمانہ تدبیر کے طریقہ پرمسائل کو حل کریں ۔ 20 سال کوشش کے باوجود بہت کم مسلمانوں کو یہ پیغام متاثر کرسکا تھا مگر بابری مسجد کے ناکام تجربہ نے مسلمانوں کے ذہن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جو بات وہ دلیل سے سمجھ نہیں پا رہے تھے ، اس کو انھوں نے حالات کے دباؤ کے تحت قبول کر لیا ہے۔

اس سلسلہ میں بار بارمثالیں سامنے آرہی ہیں۔ تازہ مثال سہسوان کی ہے۔ قومی آواز (6 مئی 1989) میں سہسوان کے بارہ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پشت والی دیوار کی اوٹ سے ایک سور کے بچے کو عین اس وقت مسجد کے اندر پھینکا گیا جب کہ مسجد کے اندر کچھ نمازی عبادت میں مشغول تھے .... سہسوان کی سب سے اہم مسجد میں ایک سور کے چھوٹے بچے کو پیچھے سے پھینکا گیا، اس پر مسلمان چراغ پا بھی ہوئے مگر سنجیدہ لوگوں نے بیچ میں پڑ کر حالات پر قابو پا لیا۔ واقعہ کی اطلاع مقامی کوتوالی میں کی گئی اور پولیس حرکت میں آگئی ... معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

7 مئی 1989

دنیا کی لذتیں انتہائی ناقص اور انتہائی محدود ہیں۔ اس لئے وہ انسان کا مقصود نہیں بن سکیں ۔ انسان فطری طور پر کامل اور لامحدود لذت چاہتا ہے۔ پھر ناقص اور محدود لذت کیوں کر اسے تسکین دے سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی لذتیں انسان کی طلب کا جواب نہیں ہیں اور نہ ہوسکتی ہیں۔

البتہ دنیا کی لذتوں کا ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔ وہ آخرت کی عظیم لذتوں کا ابتدائی تعارف ہیں۔ محدود لذت کا موجود ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ لامحدود لذت کی موجودگی بھی ممکن ہو سکتی ہے ۔ اس طرح دنیا کی جنت آخرت کی جنت کے امکان کو ثابت کرتی ہے۔ کیوں کی علمی اور عقلی اعتبار سے کسی چیز کا ممکن ثابت ہونا ہی اس کی موجودگی کا ثابت ہوجانا ہے۔

9 مئی 1989

مولانا عبد المتین بنارسی سے گفتگو کرتے ہوئے صحیح مسلم کی اس روایت کا ذکر آیا جو تابیرنخل کے بارہ میں ہے اور جس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : انتم اعلم بامورد نیاکم

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ یہ حدیث مذہب کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب کو بتارہی ہے ۔اصل یہ ہے کہ انسانی معاملات دوقسم کے ہیں۔ ایک معاملات کا اخلاقی پہلو ۔ دوسرا وہ جس کو معاملات کا ٹکنکل پہلو کہہ سکتے ہیں۔ مذکورہ حدیث نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ اخلاقی پہلو کو خدائی ہدایت کا پابند بتاتے ہوئے ٹکنکل پہلو کے بارہ میں کہ دیا کہ اس کو تحقیق اور تجربہ کی بنیاد پر قائم کرو۔ گویا دینی مطالعہ کو سائنسی ریسرچ سے جدا کر دیا گیا۔

دوسرے مذاہب اپنی موجودہ شکل میں ان دونوں پہلووں کے درمیان فرق نہیں کرتے ۔ انھوں نے ٹکنکل پہلو کوبھی مذہبی عقائد کے تابع کر رکھا ہے۔ مثلا ہندو مذہب میں گائے کے گوشت کو طبی تحقیق کے بجائے مذہبی عقیدہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے ۔ عیسائی مذہب میں سورج اور زمین کی گردش کے معاملہ کو مذہبی عقیدہ کی حیثیت دے دی گئی ۔ وغیرہ

ٹکنکل پہلو کو اس طرح مذہبی عقیدہ کے ماتحت کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ درخت کے پھل کی پیداوار کم ملے گی ۔ انسان قیمتی گوشت کے فائدے سے محروم رہے گا۔ کائنات کے حقائق انسان کے اوپر ظاہر نہیں ہوں گے ۔ وغیرہ ۔ مذکورہ طریقہ کی بنا پر دوسرے مروجہ مذاہب سائنسی تحقیق اور ترقی کا دروازہ بند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام نے سائنسی اور ترقی کا دروازہ آخری حد تک کھول دیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

10 مئی 1989

احمد دیدات (جنوبی افریقہ) کا ایک مختصرانٹرویو اخبار العالم الاسلامی (مکہ) کے شمارہ 18 رمضان 1409ھ (24 اپریل 1989 ) کے صفحہ اول پر چھپا ہے۔ بظاہراس پر الدعوة الاسلامیہ کا عنوان قائم کیا گیا ہے۔ مگر حقیقتہً وہ مناظرہ کے بارہ میں ہے۔

احمد دیدات کہتے ہیں کہ جو مناظرے میں نے کئے ان کے سلسلہ میں میرا تجربہ مجھے یہ ماننے پرمجبور کرتا ہے کہ فتح ہمیشہ مجھ کو حاصل ہوگی ۔ کیونکہ مسیحیت کے بارہ میں میری معلومات خود مسیحیوں کی اپنی معلومات سے زیادہ ہوتی ہیں (عربی عبارت۔ ص 88-89)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

احمد دیدات صاحب میرے نزدیک ایک مناظر ہیں نہ کہ داعی۔ ان کا انداز کلام مناظرانہ ہوتا ہے نہ کہ داعیانہ ۔ مناظرہ ایک قسم کی لفظی جنگ ہے۔ اس کا مقصد فریق ثانی کے اوپر فتح حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دعوت خیرخواہی کا ایک عمل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے دل میں اسلام کی سچائی کو اتارا جائے اور اس کو خدا کے دین رحمت کے سایہ میں لایا جائے مناظر دنیوی فتح شکست کی اصطلاحوں میں سوچتا ہے ، داعی اخروی جنت اور جہنم کی اصطلاحوں میں۔

11 مئی 1989

مسٹر پرمود کمار بترا ایک بڑے ہندو افسر ہیں۔ انھوں نے امریکہ سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لی ہے۔ آج ایک ملاقات میں انھوں نے کہا کہ پچھلے چند سالوں سے ٹیلی ویژن پر رامائن پر جو سیریل دکھائے جارہے ہیں، وہ بہت زیادہ انقلابی اثرات کے حامل ہیں ۔ انھوں نے ہندوؤں کے اندر ایک نئی جاگ پیدا کی ہے۔ ہندو اپنی ویلوز سے ازسرنو واقف ہوئے ہیں۔ یہ بالکل ایک نیار یولیوشن ہے ۔

یہ محض خوش فہمی کی باتیں ہیں کیوں کہ سماجی حالات کو دیکھا جائے تو ہندوسوسائٹی مسلسل بگاڑ کی طرف جا رہی ہے۔ کرپشن میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ ہوم افیرس کے اسٹیٹ منسٹر مسٹر پی چدمبرم نے 8 مئی 1989 کولوک سبھا میں بتایا کہ دہلی میں جہیزکی موتوں Dowry deaths) ) میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 1987 میں 59 نوجوان عورتوں کو ان کے سسرال میں جلا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ 1988 میں اس طرح جلائی جانے والی نوجوان عورتوں کی تعداد 71 تک پہنچ گئی (ٹائمس آف انڈیا 9 مئی 1989) کی یہ تمام کی تمام عورتیں ہندوتھیں۔ اور صرف دہلی کی بات ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمان بھی اسی قسم کی خوش فہیوں میں مبتلا ہیں۔ ہندواورمسلمانوں میں آجکل اس قسم کے پروگرام بہت سے چلائے جارہے ہیں۔ ان پروگراموں سے جو چیز پیدا ہوئی ہے وہ صرف قومی فخر ہے ، اور اسی قومی فخر کو دونوں فرقے غلطی سے قومی ترقی کے ہم معنی سمجھ رہے ہیں ۔

12 مئی 1989

آج پاکستانی سفارتخانہ (نئی دہلی) کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ میری کتاب پیغمبر انقلاب ( انگریزی ) پر حکومت پاکستان نے پہلا انٹر نیشنل انعام دیا ہے۔ اس کے سلسلہ میں سفارت خانہ کی طرف سے یہ تقریب ہوئی۔ دہلی کا پاکستانی سفارتخانہ 10 ایکڑ رقبہ میں قائم ہے۔ اس میں تقریباً 200 آدمی کا اسٹاف ہے۔

تقریب سے واپس آنے کے بعد میں نے سوچا کہ اگر میں یہ کہوں' جس طرح دنیا میں حکومت پاکستان نے میری کتاب کو قابل انعام قرار دیا ہے، اسی طرح انشاء اللہ آخرت میں وہ خدا کے یہاں بھی قابل انعام قرار پائے گی '۔ تو یہ جملہ بظاہر گرامر کے لحاظ سے صحیح ہوگا۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے بلاشبہ وہ سراسر غلط ہے۔ دنیا میں انسان کا معاملہ انسان سے ہے۔ آخرت میں انسان کا معاملہ خدا سے ہوگا۔ بندوں کی نسبت سے ایک کتاب کی کوئی قیمت ہوسکتی ہے ، مگر خدا کی نسبت سے کسی کتاب کی کوئی قیمت نہیں۔

13 مئی 1989

پاکستان کے ایک تعلیم یافتہ بزرگ سے ملاقات ہوئی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا اس لئے یہاں اسلام کا نظام قائم ہونا چائیے مگر بد قسمتی سے آدھی صدی کے قریب کا عرصہ گزر گیا اور اب تک یہ کام نہ ہوسکا۔ میں نے کہا کہ اپنے بیان میں اگر آپ صرف ایک لفظ کی تبدیلی کر دیں تو آپ کو موجودہ صورت حال پر افسوس کی ضرورت نہ ہو گی۔ معمولی لفظی تبدیلی کے ساتھ آپ اس طرح کہیں کہ پاکستان اسلام کے نعرہ پربنا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آدھی صدی سے نعروں کی سیاست جاری ہے ۔ میں نے کہا کہ پاکستان اگر واقعتہ اسلام کے نام پر بنتا تو 1947 میں پاکستان بننے کے بعد ہی وہاں اسلام آجاتا ۔ حقیقت یہ ہے پاکستان اسلام کے نعرہ پر بنا۔ اس لئے بالکل فطری ہے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں نعروں کی سیاست کا زور ہو جائے۔ چنانچہ ایسا ہی پیش آیا ۔ پاکستان آج دنیا کا سب سے زیادہ نعرہ باز ملک ہے۔ اس میں نہ کوئی تعجب کی بات ہے اور نہ افسوس کی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

14 مئی 1989

دھولیہ (مہاراشٹر) میں مارچ 1989 میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ اس کے بارہ میں ایک مختصر مضمون الرسالہ (ستمبر 1989) میں انشاءاللہ شائع ہوگا۔ دھولیہ کے دو آدمیوں نے بتایا کہ ہولی کے موقع پر ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر پانی پھینکا تھا۔ مگرجب دونوں فرقوں میں جھگڑا ہوگیا تو مسلمانوں نے معاملہ کو بھیانک بنانے کے لئے خود رات کے وقت مسجد کی دیواروں پررنگ ڈال کر اس کو رنگین کر دیا تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ ہندووں نے مسجد کی دیوار پر ہولی کا رنگ ڈالا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ میں اپنی رپورٹ میں یہ بات لکھ دیتا ہوں ۔ مگر دھولیہ والوں نے سخت اختلاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری تمام رپورٹیں، تمام کاغذات اور مقدمہ کے بیانات، سب میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہندووں نے رنگ پھینکا۔ اب اگر آپ لکھ دیں کہ ہندوؤں نے پانی پھینکا تھا اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے رنگ ڈال دیا تو ہمارا کیس بگڑ جائےگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ ہندستانی مسلمانوں کا یہی مزاج ہے جس نے انھیں خدا کی مدد سے محروم کر رکھا ہے اور وہ مسلسل بربادی کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کی مدد ہمیشہ سچ پر آتی ہے ۔ جھوٹ پر کبھی خدا کی مدد نہیں آتی، آپ لوگ جھوٹ پر خدا کی مدد اتارنا چاہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک آپ کے اوپر نہیں اتری۔

15 مئی 1989

پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے انجمن خدام القرآن قائم کی ہے، اس کے آرگن کے طور پر ماہنامہ میثاق نکلتا ہے ۔ اس کے شمارہ مئی 1989 میں صفحہ 73 پر ایک مضمون کا عنوان ہے :

بھارت میں دعوت رجوع الی القرآن کا ایک نیا مرکز ۔ یہ کلیان اسمبلی کے معین الدین ڈون کا خط ہے ۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ آپ کے تین رسالہ (میثاق ، حکمت قرآن ، ماندا) باقاعدگی سے مل رہے ہیں۔ نوجوانان ہند ، جن کی جذباتی وابستگی پاکستانی مسلمانوں سے آج بھی جوں کی توں برقرار ہے کے لئے یہ ایک انمول تحفہ ہے۔ ہم نے ہر سال اپنی جانب سے کم از کم پانچ سوروپے انجمن خدام القرآن لاہور تک پہنچانے کی ذمہ داری لی ہے، وغیرہ ۔

other sourceWords of another person or source

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور ان کا ادارہ مسلح تصادم Armed conflict) ) کے ذریعہ ساری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے علمبردار ہیں۔ ایسی حالت میں ہندستانی مسلمان کا انھیں مذکورہ انداز کا خط لکھنا اور اس کا پاکستانی ماہنامہ میں نمایاں طور پر چھاپنا اشتعال انگیز حد تک غلط ہے ۔ اس کی غلطی اس طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ پاکستان کا ایک ہندو اگر ہندستان کی تنظیم آرایس ایس کو خط لکھے جو اکھنڈ بھارت کی علم بردار ہے، اس خط میں پاکستانی ہندو لکھے کہ پاکستان کے ہندو نوجوان بھارت کے ساتھ زبردست جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور ہم یہاں سے آر ایس ایس کومستقل سالانہ مدد پہنچائیں گے تو ڈاکٹر اسرار سمیت تمام پاکستان کے مسلمان غصہ سے بھر جائیں گے اور پاکستانی ہندوؤں کو غدار سے کم کوئی لقب نہیں دیں گے ۔ میرے نزدیک یہ کمینہ پن ہے کہ آدمی اپنے لئے کچھ پسند کرے اور دوسرے کے لئے کچھ ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

16 مئی 1989

آج ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ آئے: قیامت میں جب دوسرے لوگ ناز بے گناہی کے ساتھ پہنچیں گے ، یہ عاجز اور حقیر بندہ احساس گنہ گاری کے ساتھ آہستہ قدموں کے ساتھ چلتا ہوا آئے گا۔

17 مئی 1989

میرے خلاف آجکل تنقیدوں کا سیلاب آیا ہوا ہے ۔ لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔ پولنے والے بول رہے ہیں۔مگرسب کا خلاصہ صرف ایک ہے۔ یہ تمام لوگ میری تنقیدوں سے برہم ہیں۔ عثمان غنی عادل صاحب نے اخبار انقلاب ( بمبئی) میں کئی قسطوں میں ایک مضمون شائع کیا ہے ، اس میں لکھتے ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

" صاحب الرسالہ کے عتاب کا نشانہ زمانہ بعید اور زمانہ قریب کی بے شمارشخصیتیں بنتی رہی ہیں ۔ صاحب الرسالہ کی اعلی اور روشن تحریروں کا یہی ایک کمزور پہلو ہے جوان کے مثبت پہلوؤں کی قدر بھی گھٹا دیتا ہے " ۔

میرے ناقدین کا حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے اب تک میرے نقطہ نظر کو دلیل سے رد نہیں کیا۔ ان کی تمام تحریریں الزام بازی ، استہزا اور اظہار غضب کا مجموعہ ہوتی ہیں ۔ جب کہ میری تنقیدیں دلیل پر مبنی ہوتی ہیں کیسی عجیب بات ہے کہ لوگوں نے خود اپنے لئے تو تنقیص تک کو جائز ٹھہرا رکھا ہے، مگر مجھے علمی تنقید کی بھی اجازت نہیں۔

18 مئی 1989

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے بارہ میں میرا احساس یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا مذہب شخصیت پرستی ہے نہ کہ خدا پرستی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا کے خلاف روزانہ بے شمارلٹریچرچھپ رہے ہیں، مگر اس کو دیکھ کرمسلمانوں میں کوئی جذبہ نہیں بھڑکتا۔ وہ ٹھنڈے ذہن کے تحت ان کو برداشت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے انسانی اکابر پرتنقید کر دیجئے تو وہ آخری حد تک بھڑک اٹھیں گے ۔

مسلمانوں کے ہر گروہ نے کسی نہ کسی کو اپنا بڑا بنا رکھا ہے۔ وہ سب کچھ سن سکتا ہے مگر اپنے بڑے کے خلاف کچھ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ اسی کا نام شخصیت پرستی ہے،اور شخصیت پرستی ایک قسم کا شرک ہے۔

19 مئی 1989

مسٹرایس ایس بھٹناگر (غازی آباد) کائستھ ہیں۔ وہ اچھی اردو جانتے ہیں اور الرسالہ کے قاری ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوؤں میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو اردو سیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے غازی آباد کے کئی ہندوؤں کے نام اور پتے بتائے جو بھٹناگر صاحب کے ذریعہ اردوزبان پڑھ رہے ہیں۔

اردو کی اصل کمی یہ نہیں ہے کہ اس ملک میں اردو کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے۔ اردو کی اصل کمی یہ ہے کہ اس میں تخلیقی اور صحت بخش لڑیچر نہیں۔ اگرمسلم علماء اور دانشور محنت کر کے ایسی کتابیں لکھیں جو اسلام کے آفاقی اور ان انسانی پہلوؤں کو اعلیٰ اسلوب میں پیش کرتی ہوں تو نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی اس کو ضرور پڑھیں گے۔

ہندوؤں کی اصل مشکل رسم الخط کا مسئلہ ہے ۔ ہندو عام طور پر اردو زبان سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ اس کو پڑھ نہیں پاتے۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ عام دل چسپی کے مضامین پر معیاری قسم کے کیسٹ تیار کئے جائیں اور ان کو ہندوؤں میں بڑے پیمانہ پر پھیلایا جائے ۔ یہ اردو کوزندہ رکھنے کی سب سے طاقت ورضمانت ہے۔

20 مئی 1989

آج صبح فجر سے پہلے نیند کھلی۔ بستر پرلیٹا ہوا اپنا احتساب کر رہا تھا۔ اپنے اعمال نامہ میں مجھے صرف غلطیاں نظر آئیں ۔ کوئی ثواب کا کام دکھائی نہیں دیا۔ میری زبان سے نکلا : لوگ اپنے آپ سے خوش اور ساری دنیا سے خفا ہوتے ہیں۔ میرا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ میں ساری دنیا سے خوش اور صرف اپنے آپ سے خفا ہوں۔

21 مئی 1989

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ رجال کو حق سے پہچانا جاتا ہے ،حق کو رجال سے نہیں پہچانا جاتا ( انما يعرف الرجال بالحق ولا يعرف الحق بالرجال)

hadithQuotes a hadith

موجودہ زمانہ کے مسلمان اس قول کے بالکل برعکس ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کے نزدیک حق کی پہچان یہ ہے کہ ان کے مفروضہ اکابر اس کی تصدیق کرتے ہوں ۔ ان کے اکابران کے لئے حق کا معیاربن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اکابرپر تنقید کو بالکل برداشت نہیں کرتے ۔ حق کا مجروح ہونا انھیں گوارا ہے، مگرانھیں یہ گوارا نہیں کہ ان کے اکابر کی شخصیتیں مجروح ہوں۔

22 مئی 1989

ولیم چاننگ Wiliam ) ( Channing کا قول ہے کہ غلطی ایک طریقہ ہے جس ذریعہ ہم ترقی کرتے ہیں :

other sourceWords of another person or source

Error is the discipline through which we advance.

اس میں شک نہیں کہ غلطی آدمی کونے نئے راستے دکھاتی ہے ، وہ آدمی کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر غلطی کا یہ فائدہ اس وقت ہے جب کہ غلطی کا اعتراف کیا جائے۔ اعتراف نہ کرنے کی صورت میں غلطی صرف نقصان ہے۔ مگر اعتراف کرنے کی صورت غلطی ترقی کا زینہ بن جاتی ہے ۔

24 مئی 1989

ایک صاحب کو ہم مرکز میں بطور کارکن بلانا چاہتے تھے ۔ اس سلسلہ میں ان سے خط و کتابت ہوئی ۔ ہم نے یہ کہا کہ فی الحال ہم آپ کو ایک ہزار روپیہ مہینہ دے سکتے ہیں ۔ ان کا اصرار یہ تھا کہ ان کا مشاہرہ دو ہزار روپیہ مہینہ ہونا چاہئے۔ زیادہ تنخواہ پر وہ اتنا زیادہ مصر رہے کہ انھوں نے ہماری پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آج ان سے ملاقات ہوئی گفتگو کے دوران انھوں نے اپنی بعض تقریروں کاخلاصہ بتایا۔ اپنی ایک تقریر کی روراد بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ آدمی کو اصول کے معاملہ میں حساس ہونا چاہئے اور مادی چیزوں کے بارے میں غیر حساس۔

اس سلسلہ میں انھوں نے اپنی تقریر میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی لڑکیوں نے اپنے باپ سے شکایت کی کہ آجکل انھیں صرف پیاز اور مسور کی دال کھانے کو مل رہی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا کہ تم لوگ اس کو پسند کرتی ہو کہ پیاز اورمسور کی دال کھاؤ اور مرنے بعد جنت میں جاؤ یا کہ عمدہ قسم کے کھانے کھاؤ اور مرنے کے بعد تمہیں جہنم میں داخل کیا جائے۔(اوکماقال)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے کہا کہ میری تقریر لوگوں نے بہت پسند کیا۔ میں نے کہا کہ مگر مجھے آپ کی تقریر پسند نہیں۔ آپ اپنے لئے کچھ پسند کرتے ہیں اور دوسروں کے لئے کچھ ۔ آپ دوسروں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ "پیاز اور مسور کی دال" پرقناعت کرو اور خود اپنے لئے اس کے برعکس دسترخوان کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے کے مسلم مقررین کا عام طور پر یہی حال ہے ، ان کا عمل کچھ ہے اور ان کی تقریر کچھ ۔ یہی وجہ ہے کہ جلسوں اور تقریروں کی دھوم کے باوجود اس کا کوئی اسلامی فائدہ نہیں ہوتا۔

25 مئی 1989

20 مئی کی شام کو میں میوات گیا تھا۔ چند دن ٹھہرکر آج واپس آیا۔ میوات میں موٹی روٹی پکائی جاتی ہے جو اکثر کچی ہوتی ہے۔ میں یہ روٹی کھاتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میرا پیٹ بالکل خراب ہو گیا۔ پیٹ کا یہ حال ہو گیا کہ جیسے اس نے ہضم کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر کھودی ہو۔ سخت کمزوری آ گئی۔ آج دہلی واپس آکر دوا کھائی۔ تشخیص بالکل صحیح تھی چنانچہ چند گھنٹے کے اندر اس سے کنٹرول ہوگیا۔ اور پیٹ کی حالت درست ہوگئی ۔

حدیث میں آیا ہے کہ ہر بیماری کے لئے دوا ہے(لکل داء دواء) اس دنیا میں ایک طرف مرض ہونا اور دوسری طرف اس کی دوا ہونا ، ایک طرف مضر چیزوں کا ہونا اور دوسری طرف ایسی چیزوں کا ہونا جو ضرر کا ازالہ کرنے والی ہوں، یہ بتاتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ایک صاحب شعور خالق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں صرف ایک چیز پائی جاتی۔ اس کی مناسبت سے دوسری چیز کا وجود نہ ہوتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

26 مئی 1989

اسلامی شاعر حسان بن ثابت الانصاری کا ایک شعر ہے۔ اس کے آخری مصرعہ میں وہ کہتے ہیں کہ میں اس چیز کا بہت زیادہ چھوڑنے والا ہوں جس کا میں عادی نہ بنا ہوں :

وإنى لتارك لما لم أعود

اس شعر میں اعود کا لفظ غالبا ضرورت شعری کی بنا پر ہے۔ دوسرا کوئی لفظ یہاں زیادہ پر معنیٰ ہو سکتا تھا۔ تاہم اس سے قطع نظر ، شاعر اس میں جو بات کہنا چاہتا ہے وہ بہت اہم ہے۔ یعنی آدمی اپنے آپ کو اسی کام میں ڈالے جس کی واقعی استعداد اس کے اندر موجود ہو۔ جس کام کی استعداد آدمی اپنے اندر نہ پائے وہ اس کے اندر داخل ہونے سے آخری حد تک پر ہیز کرے۔

27 مئی 1989

فتنہ ابن الزبیر(73ھ) کے زمانہ میں حضرت عبداللہ ان عمرخانہ نشیں ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ اس جہاد میں حصہ کیوں نہیں لیتے ۔ جب کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے لڑو ، یہاں تک فتنہ باقی نہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرنے کہا کہ اس آیت کا تعلق اسلام اور شرک کی لڑائی سے ہے نہ کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائی سے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ آیتوں اور حدیثوں کو جانتا ہو ۔ اسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ وہ آیت اور حدیث کے موقع و محل سے واقف ہو۔ بصورت دیگر وہ آیت اور حدیث کا حوالہ دے گا، مگر وہ اس سے ایسا مطلب نکال رہا ہوگا جس کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں۔

28 مئی 1989

امریکہ میں ہائی وے پر گاڑی چلانے کی آخری حد رفتار 55 میل فی گھنٹہ ہے۔ اس حد بندی کے دومقاصد ہیں۔ انتہائی تیز رفتاری کے باعث پٹرول کے ضیاع کو روکنا ۔ اور حادثہ کے امکان کو کم کرنا ۔ یہاں سڑک کنارے ہر ایک سو گز کے فاصلہ پر رفتار چیک کرنے والے خاص راڈار (RADAR) نصب کئے گئے ہیں۔ اس کے نیچے جلی حرفوں میں یہ عبارت درج رہتی ہے :

آپ کی رفتار راڈار کے ذریعہ چیک کی جارہی ہے ۔ محتاط رہئے۔

اگر آدمی کے اندر خدائی احساس زندہ ہو تو وہ سٹرک کی اس وارننگ میں زندگی کی وارنگ پڑھ لے گا۔ وہ دنیا کے واقعہ میں آخرت کی حقیقت کو پا جائے گا۔

29 مئی 1989

ٹائم میگزین (29 مئی 1989 ) کے صفحہ 3 پر نہایت نمایاں انداز میں آسکر وائلڈ (Oscard Wilde) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ یہ دراصل شخصیتیں ہیں نہ کہ اصول جو زمانہ کو حرکت دیتے ہیں

other sourceWords of another person or source

It is personalities, not principles that move the age.

میں سمجھتا ہوں کہ یہ نصف صداقت ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ طاقت ور شخصیتیں ہی کوئی بڑا انقلاب لاتی ہیں ۔ مگر خود طاقت ور شخصیتوں کی طاقت بھی اصول اور نظریہ ہی ہوتا ہے ۔ جس آدمی کے پاس کوئی طاقت ور نظریہ نہ ہو ، وہ کوئی طاقت ور واقعہ بھی ظہور میں نہیں لاسکتا۔

30 مئی 1989

مسٹرایم جے اکبر کی کتاب جواہرلال نہرو کے بارہ میں چھپی ہے ۔ اس کے 609 صفحات ہیں، اور اس کا نام ہے:

Nehru: The Making of India

اس کتاب میں ہندستان کی تقسیم کا تفصیلی تذکرہ ہے۔ اس سلسلہ میں وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ ہندستان کا اتحاد کیوں اسلام کے نام پر برباد کیا گیا تھا۔

I needed to know why the unity of India had been destroyed in the name of Islam.

یہ صحیح ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود پاکستان میں اسلام نہ آسکا۔ ایم جے اکبر کو اس پر تعجب ہوتا ہے مگر مجھے اس سے بھی زیادہ تعجب ان مسلمانوں کی عقل پر ہے جنھوں نے یہ سمجھا کہ نعرہ بازی کی سیاست کے ذریعہ وہ ایک "اسلامستان" قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

31 مئی 1989

سہ روزه دعوت (یکم جون 1989) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ "27 مئی 1989 کولندن کے ہائیڈ پارک میں مسلمانوں نے رشدی کی کتاب شیطانی آیات کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا جو پوری دنیا میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا"۔

other sourceWords of another person or source

اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ' اطلاعات کے مطابق ' ہفتوں کی تیاریوں کے باوجود مظاہرہ میں خاطر خواہ نظم وضبط نہیں تھا ۔ اور جلسہ وجلوس ایک حد تک بد نظمی کا شکار رہا۔ ایک اطلاع کے مطابق ایک مرحلہ میں ایرانی اور عراقی مظاہرین کے درمیان تصادم بھی ہوگیا۔

other sourceWords of another person or source

قومی آواز (29 مئی 1989) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ تقریبا 20 ہزار مسلمانوں نے لندن میں مظاہرہ کیا۔ مظاہرین ابتداء ہائیڈ پارک میں جمع ہوئے جہاں مقررین نے پرجوش تقریریں کہیں۔ اس کے بعد وہ جلوس کی شکل میں وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کی رہائش گاہ کی طرف چلے۔ رہائش گاہ کے قریب پہنچ کر مظاہرین تشدد پر اتر آئے۔ انھوں نے پولیس پرسنگ باری کی اور پولیس کی گاڑی کو الٹنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں پولیس نے جلوس کے اوپر لاٹھی چارج کیا۔

other sourceWords of another person or source

اس قسم کی خبریں پڑھ کر مجھے بے حد دکھ ہوتا ہے ۔ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان انگلینڈ میں عزت کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اب وہ اس ملک میں ذلیل بن کر رہنے پر مجبور ہوں گے۔ اسلامی دعوت کے مواقع کی بربادی اس کے علادہ ہے۔ بظاہر یہ کام رسول اللہ کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ لیکن رسول اللہ آج اگر زندہ ہوں تو وہ ان مسلمانوں پرلعنت ہیں اور ان سے اپنی برات کا اظہار کریں۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
other sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or source