Maulana Wahiduddin Khan
30 min left
0:00

← Diary 1989-1990
Diary 1989-1990

April 1989

English · 30 min read

یکم اپریل 1989

کانسٹی ٹیوشن کلب میں صوفیا کے سماجی رول کے موضوع پر ایک سیمینار تھا ۔ منتظمین کی دعوت پر میں بھی شریک ہوا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کی تاریخ میں ایک رول ماڈل حسن بن علی کا ہے جو رضا کارانہ طور پر حق خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ دوسرا رول ماڈل حسین بن علی کا ہے جو خلافت کے لئے لڑے۔

میں نے کہا کہ اسلام کی بعد کی ہزار سالہ تاریخ میں امت کے نمائندہ افراد حسن کے رول ماڈل پر چلے۔ انھوں نے حکمرانوں سے ٹکراؤ کے بجائے حکومت و سیاست سے الگ رہ کر اپنے لیے تعمیری میدان میں کام تلاش کر لیا۔ صوفیاء بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھے ۔ صوفیاء نے حکمرانوں سے ٹکراؤ کو اوائڈ کرتے ہوئے اصلاح کا کام کیا۔

میری تقریر میں چوں کہ حسین کے رول ماڈل کو غیر مرجح قرار دیا گیا تھا، ایک شیعہ ڈاکٹر اس پر بگڑ گئے۔ میں نے غور کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ حسن اورحسین دونوں ہی نواسہ رسول ہیں۔ مگرشیعہ حضرات حسن کو بالکل نظرانداز کرتے ہیں ، اور حسین کے کردار کو مبالغہ آمیز حد تک نمایاں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعیت کا اصل عقیدہ یہ ہے کہ رسول کے بعد خلافت کا حق اہل بیت کو ہے۔ اس پر شیعی مذہب کھڑا ہوا ہے ۔ حسین کے رول ماڈل کو عظمت دینے سے ان کے مذہب کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے بر عکس اگر وہ حسن کو نمایاں کریں تو ان کا مذہب بالکل منہدم ہو جائے گا۔ کیوں کہ حسینیت اگر دعوائے خلافت کا نام ہے تو حسنیت خلافت کے دعویٰ سے دستبرداری کا ۔

2 اپریل 1989

مسٹرایس ایم جوشی (1904-1989) کے انتقال پرٹائمس آف انڈیا (2 اپریل 1989) میں ان کے بارہ میں جو رپورٹ چھپی ہے اس کا عنوان ہے :

The Majesty that was Islam.

یہ کتاب اگر چہ اسلام کی تعریف پر ہے، مگر اس کا نام سخت مغالطہ آمیز ہے۔ اس نام کو دیکھ کر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ اسلام اپنی ساری عظمتوں کے با وجود، ماضی کی چیز تھا ، وہ مستقبل کی چیز نہیں۔

مصنف نے کتاب کے پانچویں باب میں فلکیات کے عنوان کے تحت لکھا ہے فلکیات عربوں کے لئے ایک عملی سائنس تھی ۔ کیوں کہ ان کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ ہر اسلامی شہر سے مکہ کے رخ کو جانیں تاکہ نمازوں کے وقت اپنے چہرہ کا رخ اس کی طرف کر سکیں ۔

Astronomy was a practical science for the Arabs...because they had to know the direction of Mecca from every Islamic city, in order to face in this direction in their prayers. (p. 228)

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے عبادتی اعمال نا قابل فہم رسوم نہیں ہیں بلکہ ان کا رشتہ پختہ انسانی علوم سے جڑا ہوا ہے ۔ نماز کا تعلق سمتوں کے علم سے ہے۔ اسی طرح روزوں کا تعلق کلنڈر سے، زکوۃ کا تعلق علم الحساب سے ، حج کا تعلق علم جغرافیہ سے ۔ وغیرہ

4 اپریل 1989

آجکل میرے اوپر موت کا خیال اتنا زیادہ چھایا ہوا رہتا ہے کہ میں اوپر جانے کے لئے سیڑھی پر چڑھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خدا کی طرف چڑھ رہا ہوں۔ اور جب سیٹرھی سے نیچے اترتا ہوں تب بھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں خدا کی طرف اتر رہا ہوں ۔ ایسا لگتا ہے کہ اب زندگی کی کشتی ساحل کے قریب پہنچ گئی۔ اب جلد ہی غالبا میرے اوپر وہ وقت آجائے گا جو دوسرے تمام لوگوں پر گزر چکا ہے۔

5 اپریل 1989

ایک نومسلم نوجوان ملاقات کے لئے آئے۔ ان کا سابقہ نام شیام پرتاپ سنگھ گوتم تھا۔ موجوده نام محمد عمر ہے ۔ وہ 1964 میں فتح پور (الٰہ آباد) میں پیدا ہوۓ ۔ 1983 میں اسلام قبول کیا۔ پہلے انھوں نے بی ایس سی کیا تھا۔ اب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کر رہے ہیں۔ وہ ہندوں میں تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ پر تقریبا دس ہندو اسلام قبول کر چکے ہیں۔

وہ ہندی اور سنسکرت دونوں زبانیں جانتے ہیں۔ انھوں نے گیتا ، رام چرت مانس، اور اور ویدوں کو پڑھا تھا۔ انہیں ہندوازم پر اطمینان نہ ہوسکا۔ چنانچہ انھوں نے تقابلی مطالعہ شروع کیا۔ آخر اسلام پرمطمئن ہوکر اسلام قبول کر لیا۔

انھوں نے بتایا کہ اللہ نے اپنے آپ ان کا دل بدل دیا۔ وہ موت کے بارہ میں بہت زیادہ سوچتے تھے۔ مرنے کے بعد آدمی کی روح کہاں جاتی ہے۔ عمل کیا ہے۔ انسان کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے ۔ ان کے اندر تلاش حق کا جذبہ ابھرا۔ چنانچہ راتوں کو اکثر وہ رویا کرتے تھے۔ رات رات بھر نیند نہ آتی ۔ ان کے دوست ان کو پاگل کہنے لگے۔ انھوں نے قرآن کا ہندی ترجمہ پڑھا۔ اس سے ان کے دل کو اطمینان ہوا۔ آخر کار انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ کچھ ہندوؤں نے انہیں مسلمانوں کے غلط کر دارکو بتا کر انھیں اسلام سے پھیرنا چاہان تو انہوں نے کہا : میں اللہ کا مسلمان ہوں ، میں مسلمانوں کا مسلمان نہیں ہوں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6 اپریل 1989

پیارے لال بھون (نئی دہلی) کے ایک اجتماع میں شریک ہوا اورمنتظمین کی دعوت پر مختصر تقریر کی۔ یہ اجتماع ایک انگریزی کتاب کے اجراء (Release) کی تقریب پر کیا گیا تھا۔ یہ کتاب ڈاکٹر ماجد علی خاں نے The Satanic Verses کے جواب میں لکھی ہے۔ اور اس کا نام The Holy Verses ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میرا تاثر یہ تھا کہ کوئی شخص بھی سنجیدہ نہیں۔ نہ سننے والے اور نہ سنانے والے جوصاحب اس اجتماع کے چیف گیسٹ تھے ، انھوں نے اپنی تقریر میں سلمان رشدی کا نام نہیں لیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس ملعون کا نام لے کر اپنی زبان کوگندا کرنا نہیں چاہتا۔ ان کے اس جملہ پرزوردار تالیاں بجائی گئیں۔ مگر جب وہ اپنی تقریر کو مکمل کر کے واپس آئے تو میں نے سنا کہ سب سے پہلے انھوں نے سلمان رشدی کا نام لیا، میرے اور مذکورہ چیف گیسٹ کے درمیان صدر صاحب بیٹے ہوئے تھے۔ انھوں نے صدر صاحب سے کہا میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس شخص نے اپنا نام رشدی کیوں رکھا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنا ذہنی رشتہ ابن رشد سے جوڑتا ہے ، کیوں کہ وہ بھی ایک گمراہ آدمی تھا۔

8 اپریل 1989

ام درداء سے روایت ہے کہ ابوالدرداء گھر میں آئے وہ غصہ میں بھرے ہوئے تھے میں نے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم میں آج کل کے مسلمانوں میں محمد کے دین کی کوئی چیز اس کے سوا نہیں دیکھتا کہ وہ ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں (عن ام الدرداء قالت دخل على ابوالدرداء مغضبأ فقلت له مالك فقال والله مااعرف فيهم شيأ من أمر محمد الا انهم يصلون جميعاً، (رواه البخاری)

quoted sourceQuoted from another author or source

دور اول میں جب کہ ابھی اصحاب رسول زندہ تھے ، اس وقت لوگوں کا یہ حال ہو چکا تھا تو آج 1400 سال بعد ان کا حال کیا ہوگا، مذکورہ حدیث سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ دینداری اس کا نام نہیں کہ نماز ، روزہ کا ڈھانچہ مسلمانوں میں موجود ہو یا اسلام کے نام پر جلسہ ، جلوس یا تقریروں اور تحریروں کے ہنگامے جاری ہوں۔ دیندار انسان در اصل وہ ہے جس کے اندر اللہ کا ڈر ایک نفسیاتی زلزلہ پیدا کر دے اور آخرت کی فکراس کی پوری زندگی کو دنیا رخی کے بجائے آخرت رخی بنا دے۔ یہی وہ دین ہے جو حضرت ابوالدرداء کو بعد کے زمانہ میں بہت کم دکھائی دیتا تھا، اور موجودہ زمانہ میں تو وہ صفر کے درجہ میں غیرموجود ہوچکا ہے۔

9 اپریل 1989

ڈینیل ویبسٹر Daniel Webster) ) کا قول ہے کہ جبر وتشد د انقلاب کا بیج ہے:

other sourceWords of another person or source

Repression is the seed of revolution.

"انقلاب" کو عام طور پر تبدیلی احوال کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو تبدیلی حکومت کے معنی میں لیا جائے تو یہ قول بالکل درست ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام نام نہاد انقلاب اور نام نہاد لیڈر جبر وتشدد کی زمین پرابھرے ہیں۔ ایک حکومت اقتدار کے گھمنڈ میں ظلم کرتی ہے۔ اس ظلم کو کچھ لوگ مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں۔ اور پھران کے گرد عوام کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ حکمراں گروہ کے خلاف ایک سیاسی ہنگامہ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پرانے حکمراں ہٹ جاتے ہیں اور نئے افراد ان کی جگہ پر سیاسی کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔

اسی سیاسی واقعہ کا چھوٹا نام انقلاب ہے۔ مگر باعتبار حقیقت یہ افراد کی تبدیلی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں نظام کی تبدیلی نظام کی تبدیلی پورے سماج میں ذہنی اور شعوری تبدیلی سے آتی ہے نہ کہ محض چند افراد کی سیاسی اور حکومتی تبدیلی سے ۔

10 اپریل 1989

ٹائم (20 مارچ 1989 ) کی کور اسٹوری ڈی این اے (DNA) کے بارہ میں تھی جس کا عنوان تھا ـــــــ وراثتی رازوں کو حل کرنے کی کوشش :

other sourceWords of another person or source

۔ Solving the mysteries of heredity

مضمون سے ظاہر ہوتا تھا کہ ڈی این اے کے بارہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، وہ ارتقائے حیات کے قدیم تصور سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

اس مضمون کے بارے میں کچھ خطوط ٹائم اپریل 1989 میں شائع ہوئے۔ ٹائم کے ایک ریڈر مسٹر بیورلی کورو (Beverely Chorro) نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ جو شخص ان مضامین کو پڑھے اور اب بھی اس کی یہ خواہش ہو کہ وہ تخلیق کا کریڈٹ خدا کے بجائے ارتقاء کر دینا چاہے تو وہ یا تو بے عقل ہے یا اتنا زیا دہ مغرور ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنا نہیں جانتا:

other sourceWords of another person or source

Whoever reads these articles and still has the gall to credit evolution, rather than God, for our remarkable DNA is an idiot or too proud to admit he is wrong.

11 اپریل 1989

سوڈان کے شمالی حصہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔خرطوم اسی میں شامل ہے۔ جنوبی سوڈان کے نسبتا چھوٹے علاقہ میں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ اس علاقہ کی عیسائی آبادی اس کی خود مختاری کی جد و جہد کر رہی ہے۔1989 کے آغاز میں انھوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے مسلح بغاوت کر دی۔

ٹھیک یہی کام دنیا کے مختلف ملکوں (مثلا لنکا، فلپائن، اریٹیریا ، برما) وغیرہ میں مسلمان کر رہے ہیں ۔ انہیں جہاں کہیں علاقائی اکثریت حاصل ہے، وہ وہاں مسلح یا غیرمسلح تحریک چلا رہے ہیں کہ اس حصہ کوالگ کر کے وہاں انہیں آزادمسلم حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔

نام نہاد مسلم پریس ان دونوں قسم کے واقعات کو بیان کرتا ہے ، تو اس کے لئے اس کے پاس دو زبان ہوتی ہے ۔ عیسائی علیحدگی کی تحریک کو وہ بغاوت قرار دیتا ہے ، اور مسلم علیحدگی کی تحریک کو جہاد آزادی ۔ میرے نزدیک یہ اسلام نہیں۔ یہ قومی سرکشی ہے۔ جو لوگ ایسی سرکشی کریں ، وہ خوداپنے عمل سے اپنے آپ کو بے قیمت کر رہے ہیں۔

12 اپریل 1989

18 اپریل 1989 کو رمضان 1409ھ کی پہلی تاریخ تھی۔ کویت کے ماہنامہ الوعی الاسلامی (رمضان 1409ھ اپریل 1989ء) میں روزہ سے متعلق حدیثیں پڑھتے ہوئے یہ حدیث سامنے آئی : رب صائم حظه من صيامه الجوع والعطش (رواه ابن ماجه ، والنسائي ،والحكم )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یعنی بہت سے روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزہ سے بھوک اور پیاس حاصل ہوتی ہے ۔

میں سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہے کہ ایک آدمی روزہ کے نام پر سارے دن بھوکا پیاسا رہے ، اس کے باوجود اس کے حصہ میں روزہ نہ آئے بلکہ صرف بھوک پیاس آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانا پینا بند کرنا یہ روزہ کی شکل ہے۔ یہی روزہ کی اصل حقیقت نہیں ہے، روزہ کی اصل حقیقت نفسیاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تقوی اور شکرکی کیفیت ابھرے۔ بھوک پیاس سے اگر یہ ربانی کیفیت ابھرے تو آدمی کا روزہ صحیح معنوں میں روزہ بن گیا۔ اور جس کے اندر یہ ربانی کیفیت نہ ابھرے تو یہی وہ شخص ہے جس کو کھانا اور پینا چھوڑنے سے بھوک پیاس کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔

13 اپریل 1989

مجھے اپنی زندگی میں بعض ہندؤوں کی طرف سے تلخ تجربات پیش آئے ہیں۔ اس وقت فوری طور سے سخت رد عمل ہوتا ہے۔ مگر جلد ہی سوچنے لگتا ہوں کہ اس قسم کا، بلکہ بعض اوقات اس سے شدید تجربہ مجھے مسلمانوں کی طرف سے بھی ہورہا ہے۔ یہ دوسرا احساس پہلے احساس کی کمی کو گھٹا دیتا ہے۔ جس تلخ تجربہ کوفوری رد عمل کے تحت میں ہندو کے ساتھ جوڑ رہا تھا ، زیادہ غوروفکر کے بعد وہ تجربہ زندگی کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔

1947 سے پہلے جن مسلمانوں نے تقسیم ہند کی تحریک چلائی ، ان کا معاملہ یہی تھا کہ انھوں نے پہلی حقیقت کو جانا مگر وہ دوسری حقیقت کو نہ جان سکے ۔ اگر وہ وسیع دائرہ میں سوچتے تو وہ جان لیتے کہ جن مسائل کی بنا پر وہ "ہندو انڈیا" سے بھاگنا چاہتے ہیں ، وہ مسائل "مسلم انڈیا" (پاکستان) میں بھی باقی رہیں گے۔ جیسا کہ وہ فی الواقع وہاں باقی رہے ۔

بیشتر انسان معاملات کو صرف سطحی طور پر دیکھ پاتے ہیں۔ وہ اپنی کم فہمی کی بنا پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کے لئے انتخاب برائی (EVIL اور بے برائی No Evil) کے درمیان ہے ۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انتخاب ہمیشہ چھوٹی برائی Lesser evil) ) اور بڑی برائی Greater evil) ) کے درمیان رہتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اس راز کو پالیں۔ جو لوگ اس راز کو نہ پائیں، وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ ناکام اور برباد رہیں گے۔ وہ کبھی کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔

14 اپریل 1989

سہ روزه دعوت (یکم اپریل 1989) میں افغانی مجاہدین کے لیڈرصبغتہ اللہ مجددی (62) سال کا مفصل انٹرویو شائع ہوا ہے۔ وہ جامعہ ازہرقاہرہ کے تعلیم یافتہ ہیں اورمجاہدین کی آئندہ بننے والی حکومت میں ان کو" سربراہ مملکت " کی حیثیت سے منتخب کیاگیا ہے۔

انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ " امریکہ نے بھی جہاد میں ہماری امداد کی" اور بیشتر اسلحہ ہمارے پاس امریکہ ہی سے آئے تھے" ۔ دوسری طرف اسی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ " بالفعل عرب بھائیوں کی کوئی امداد گزشتہ دس سالوں میں ہم تک نہیں پہنچی" صفحہ 2

other sourceWords of another person or source

مسلمانوں کے اخبارات (بشمول دعوت) یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ افغانی مجاہدین کی جنگ اس دور کا سب سے بڑا اسلامی جہاد ہے۔ دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔اب یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو قوم اسلام کی سب سے بڑی دشمن ہے، وہی سب سے بڑے اسلامی جہاد کی سب سے بڑی مددگار بھی ہے ۔ خوش فہمی کیسے کیسے تضادات کو بیک وقت اپنے ذہن میں جمع کرلیتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

15 اپریل 1989

آجکل ہندستان میں عربی پرچوں کی بہتات ہے۔ اکثر مسلم اداروں نے ایک نہ ایک عربی پرچہ نکال رکھا ہے۔ یہ تمام کے تمام عربی پرچے غیرمعیاری ہیں۔ وہ زبان اور بیان دونوں اعتبار سے ناقص ہیں۔ کچھ پرچوں کے نام یہ ہیں :

1۔ البعث الاسلام لکھنؤ

2۔ الرائد لکھنؤ

3۔ الکفاح دہلی

4۔ الدعوة دہلی

5۔۔ الداعی دیوبند

6۔ صوت الامۃ بنارس

7 ۔ نشرۃ بنارس

8۔ صوت الحق ترکیر

9 ۔ الصحوۃ الاسلامیہ حیدرآباد

10۔ مجلۃ الرشاد اعظم گڑھ

11 ۔ صوت الاسلام غازی پور

ان غیرمعیاری عربی جرائد کی کثرت کا رازمیری سمجھ میں اس وقت آیا جب مذکورہ جریدہ نمبر 9 پر تبصرہ میں نے البعث الاسلامی (مئی 1989 ، شوال 1409 ھ) میں دیکھا ۔ تبصرہ نگار نے لکھا ہے کہ ہندستان میں بہت سے مجلات اور صحف عربی زبان میں نکل رہے ہیں۔ اس قسم کے اسلامی پرچوں کا خاص مقصد یہ ہے کہ ہندستانی مسلمانوں اور عالم عرب کے مسلمانوں کے درمیان وہ ربط وتعلق کا ذریعہ بنیں (ان الھدف الرئيسي من مثل هذة المجلات الاسلامية التي تصدر باللغة العربية ان تكون همزة وصل بين الهندالاسلامية والعالم الاسلامي العربي ، صفحہ 99 )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسلمانوں اور ہندوؤں میں دعوتی ربط قائم کرنے کے لئے ہندی پرچہ یا مسلمانوں اور عیسائیوں میں دعوتی ربط قائم کرنے کے لئے انگریزی پرچہ کسی ادارہ نے نہیں نکالا البتہ مسلمانوں اور عربوں کے درمیان ربط قائم کرنے کے لئے ہرادارہ نے تیسرے درجہ کا ایک عربی پرچہ ضرور نکال رکھا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ اتنی واضح ہے کہ اس کو لفظوں میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

16 اپریل 1989

پاکستان کی جماعت اسلامی کے موجودہ امیر قاضی حسین احمد صاحب کا ایک مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان ہے " عالم اسلام کے مسائل اور ان کا حل " ۔ اس مضمون میں افغانستان کے بارہ میں گفتگو کرتے ہوۓ یہ سطریں درج ہیں :

" افغانستان کی سرزمین پر مجاہدین کی آخری مکمل فتح کا آغاز ہو چکا ہے۔ روسی فوج کی افغانستان سے واپسی ایک نئے دور کی ابتدا ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ پر منتج ہوسکتا ہے۔ اہم ترین چیز یہ ہے کہ افغان جہاد محض جنگ آزادی نہیں۔ یہ اسلام کو عملا اللہ کی سرزمین پر نافذ کرنے کی جدوجہد ہے، اور یہی اس جدوجہد کاطرۂ امتیاز ہے۔ افغان جہاد کی کامیابی محض مسلمانوں کی قوت وشوکت نہیں، دور جدید میں ایک خالص اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنے کا تاریخ ساز واقعہ ہے: روزنامہ وفاق ، لاہور ،

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

19 اپریل 1989

یہ بیان احمقانہ حد تک بے معنی ہے۔افغانستان کی جنگ بلاشبہ ایک قومی جنگ ہے۔ اس کا آخری انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک جنگ ختم ہو کر دوسری جنگ شروع ہوجائے ۔ جو لوگ اس جنگ کے نتیجہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ ،اور خالص اسلامی حکومت کا خواب دیکھ رہے ہیں ، وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ سوچنے کی صلاحیت سے بالکل محروم ہیں۔

تاہم ایک اور کام کے لئے یہ لوگ بے حد ہوشیار ہیں آئندہ جب افغانستان میں " خالص اسلامی حکومت " قائم نہ ہو سکے گی توفورا ان کا زرخیز دماغ کچھ ایسی بیرونی سازشیں دریافت کر لے گا جس نے سارا نقشہ بگاڑ دیا اور اسلامی حکومت بنتے بنتے رہ گئی ۔ گویا حق کے عوامل کمزور ہیں اور باطل کے عوامل اس سے زیادہ طاقتور۔

17 اپریل 1989

حضرت عمربھی صحابی تھے اور حضرت بلال بھی صحابی تھے۔ مگر دونوں کے یہاں بعض بڑے عجیب فرق پاۓ جاتے ہیں ۔ حضرت بلال مرض الموت میں مبتلا ہوۓ تو ان کی شدید تکلیف کو دیکھ کر ان کے اہل خانہ کی زبان سے نکلا : واکرباہ ( ہائے تکلیف ) حضرت بلال نے اس کو سنا تو انھوں نے کہا کہ نہیں ، بلکہ ہاۓ خوشی۔ کل کے دن میں اپنے دوستوں سے ملوں گا،محمد سے اور ان کے ساتھیوں سے ( واطرباہ، غدا القى الأحبه محمد وصحبه) العبقريات الاسلامیہ صفحہ 182

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عمر کا واقعہ اس سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ حضرت عمر پر ابولولو فیروز ایرانی نے عین اس وقت حملہ کیا جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے کئی خنجر مار کر آپ کو زخمی کر دیا۔ زخم اتنا شدید تھا کہ موت یقینی ہوگئی۔ اس وقت آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اگر میرا معاملہ برابر ہوجائے، نہ مجھے کوئی سزا ملے اور نہ کوئی جزا،تویقینا میں ایک خوش قسمت انسان ہوں گا ( و ان نجوت كفافأ فلا وزر ولا اجر انى لسعيد) صفحہ 537

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دو صحابی کے آخری کلمات میں یہ فرق دراصل معرفت کا فرق ہے۔ حضرت عمر کا فقرہ ان کی معرفت کی گہرائی کا ترجمان ہے۔ اس کے مقابلہ میں حضرت بلال کا فقرہ معرفت کی سادگی کا ترجمان۔

18 اپریل 1989

" عالمی زبان " اسپرانتو( Esperanto) میں ہالینڈ سے ایک رسالہ شائع ہوتا ہے۔ اس کا نام ہے اونو کالے فی یعنی یو این او اور ہم ۔ یہ رسالہ یو این او کے ذیلی ادارہ یونیسکو کے تعاون سے شائع ہوتا ہے۔ اس رسالہ کے شمارہ نمبر 21 (1981 ) میں زبان کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ 1987 میں کون سی زبان ساری دنیا کی زبانوں کی فہرست میں کس درجہ پر تھی مضمون میں جن زبانوں کے بارہ میں معلومات دی گئی ہیں ان میں سے تین زبانوں کی فہرست یہ ہے :

درجہ زبان بولنے والوں کی تعداد

1 چینی 863 ملین

2 انگریزی 350 ملین

3 ہندستانی 230 ملین

اس فہرست میں بظاہر چینی زبان نمبر ایک پر ہے اور ہندستانی زبان ، جو دراصل ہندی اور اردو کا مشترک نام ہے ، انگریزی کے بعد صرف تیسرے نمبر پر لیکن تقسیم خالص علمی اعتبار سے صحیح نہیں۔

چینی زبان زیادہ تر صرف ایک ملک میں بولی جاتی ہے ۔ ہندستانی زبان اگرچہ کئی ملکوں میں رائج ہے مگر یہ سب پسماندہ ممالک ہیں۔ بولنے والوں کی گنتی کے اعتبارسے چینی اور ہندستانی زبان کو ضرور پہلا اور تیسرا درجہ مل رہا ہے۔ لیکن اگر زیادہ گہرائی سے دیکھا جائے تو انگریزی زبان نہ صرف چینی اور ہندستانی بلکہ تمام دوسری زبانوں سے بالا تر نظر آئے گی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزی زبان پوری دنیا میں بیشتر پڑھے لکھے لوگوں کی قابل فہم زبان ہے۔ وہ واحد زبان ہے جس کو انٹرنیشنل زبان کا درجہ دیا جاسکتا ہے ۔ نیز انگریزی زبان میں ہر قسم کا وسیع لٹریچر موجود ہے۔ گنتی کے اعتبار سے دوسری زبانوں کو اوپر کا درجہ مل سکتا ہے مگر اہمیت کے اعتبار سے انگریزی نمبر ایک حیثیت رکھتی ہے۔

19 اپریل 1989

دورجدید میں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اٹھنے والا پہلا ممتازنام غالباسید جمال الدین افغانی کا ہے۔ ان کی مزید خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کو دو ایسی قابل شخصیتیں ملیں ، جنھوں نے ان کی تحریک کو ان کے بعد پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھا۔ اس طرح جمال الدین افغانی سمیت تین اعلی افراد کے ذریعہ ، یہ مشن پوری ایک صدی تک مسلسل جاری رہا۔

جمال الدین افغانی 1897 1838

مفتی محمد عبده 1905 1849

محمد رشيد رضا 1935 1856

ملت کے انتہائی قیمتی افراد کے ذریعہ جاری رہنے والی اس سوسالہ جد و جہد کا کوئی حقیقی نتیجہ آج دیکھنا چاہیں تو وہ کہیں نظر نہیں آئے گا۔ ان کی تمام کوششیں ان کی زندگی میں پرشور الفاظ کی صورت میں گونجتی رہیں اور بالآخر ختم ہوکر رہ گئیں۔

ان مصلحین کے ذریعہ جو کام تقریبا سو سال تک جاری رہا ، اس کومختصر طور پرانی شقوں میں بیان کیا جاتا ہے ؛

1 مسلمانوں کے ذہن وفکر کی اصلاح

2 مسلم ملکوں کے حکام کی اصلاح

3 سامراجی طاقتوں کی سازشوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف دنیا کے مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنا۔

جمال الدین افغانی اور ان کے ساتھی اگر اپنی ساری توجہ صرف پہلے کام پر لگاتے اور دوسرے اور تیسرے کام میں اپنے کو نہ الجھاتے تو یقینا ان کی کوششیں نتیجہ خیز ہوسکتی تھیں کیوں کہ پہلا کام ہی اصل کام ہے۔ پہلے کام کے ساتھ دوسرے کاموں کو چھیڑ نا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ دونوں میں سے کوئی ایک بھی انجام نہ پائے ۔

20 اپریل 1989

اسلامی فقہ کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ مصالح کے حصول پر مفاسد اور خرابیوں کو دور کرنا مقدم ہے ( درء المفاسد مقدم على جلب المصالح )

یہ ایک نہایت اہم اصول ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں پیشگی طور پر خیر کی طرف رجحان موجود ہے ۔ اگر ماحول سے غلط محرکات کا خاتمہ کر دیا جائےتو انسان خود اپنی اندرونی فطرت کے زور پر خیر کو اختیار کرنے لگے گا۔ پانی نہیں رکا ہوا ہو تو رکاوٹ کو دور کرنا کافی ہے ،اس کے بعد پانی اپنے آپ بہنے لگتا ہے ۔

21 اپریل 1989

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب (لاہور) کا ایک رسالہ حکمت قرآن ہے ۔ اس کا شمارہ مارچ اپریل 1989 میں انھوں نے 26 صفحات کا ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے ،واما بنعمة ربك فحدث۔ اس مضمون کے آغاز میں ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ راقم اللہ کا جتنا بھی شکر کرے کم ہے کہ اس نے قرآن کے ضمن میں اس کی مساعی کو اس درجہ بار آور کیا کہ اس کے نام کو دنیا بھرمیں کم از کم اردو بولنے والوں کی حد تک دعوت رجوع الی القرآن کے جلی عنوان کی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ اس کے بعد انھوں نے ربع صدی کے دوران اپنی کوششوں کا تفصیلی تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ بحمد اللہ دل کو یہ گہرا اطمینان حاصل ہے کہ : جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہے :" کے مصداق عمر کے بہتر اور بیشتر حصے کے دوران جسم و جان کی بہتراور بیشتر توانائیاں نوید نبوی : خيركم من تعلم القرآن وعلمہ " کے مطابق بہترین کام میں صرف ہوئی ہیں۔ گویا شکر صد شکر کہ جمازہ بمنزل رسید ! اس کے ساتھ ہی دل میں اس امید کا چراغ بھی روشن ہے کہ جب اللہ تعالی نے خود ہی اس کی توفیق عطا فرمائی تو لغزشوں ،خطاؤں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے ہوئے شرف قبول بھی ضرور عطافرمائے گا۔ حکمت قرآن اپریل 1989

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں میرے احساسات ڈاکٹر صاحب سے بالکل مختلف ہیں ۔ اگرچہ بظاہرمیرے کام کی نوعیت بھی وہی ہے جو ڈاکٹر صاحب کے کام کی ہے۔ مگر میں ایک تنکے کے بقدر بھی اپنے کاموں کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا۔ میری دعا ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ میرا عمل ، خواہ وہ برا ہویا بظاہر اچھا ، ان سب کو خدا میرے نامہ اعمال سے حذف کر دے، اور مجھے صرف اپنے رحم وکرم سے بخش دے " شکر کہ جمازہ بمنزل رسید" کے بجائے میری زبان پر اکثر یہ شعر رہتا ہے۔

صبح گزری شام ہونے آئی میر تو نہ چیتا اور بہت دن کم رہا

22 اپریل 1989

نئی دہلی کے جس مکان میں میں رہتا ہوں، وہ دومنزلہ ہے۔ نیچے سے اوپر تک اس کی 36 سیڑھیاں ہیں۔ آج رمضان 1409ھ کی 15 تاریخ تھی۔ رات کو سحری کے لئے اوپر جانے لگا۔ تقریبا 30 سیڑھیاں طے کی تھیں کہ اچانک موت کا خیال آگیا۔ میری عمراب 65 سال ہو چکی ہے۔اب میں زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہوں۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ ایسا محسوس ہوا گویا کہ میں دنیا سے آخرت کی طرف جا رہا ہوں۔ یہ سوچ کر دل بھر آیا۔ زبان پریہ الفاظ آ گئے

" زندگی کی بیشتر سیڑھیاں چڑھ چکا ، اب آخری چند سیڑھیاں باقی ہیں " ۔

23 اپریل 1989

اپریل کا پورا مہینہ کشمیر کے لئے تشدد کامہینہ تھا۔توڑ پھوڑ ،گولی اور بم ۔ یہ سب وہاں سے مسلم نوجوان کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں ایک کشمیری حسین اختر (فتح کدل ، سری نگر) کامراسلہ قومی آواز 24 اپریل 1989 میں شائع ہوا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کوکس چیز نے شرپسندی پر اکسایا: اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ دہشت گرد اور تخریب کارحکومت سے مندرجہ ذیل مطالبے کر رہے ہیں ۔

1۔ غیرکشمیریوں کو باہر نکال دیا جائے۔

2۔ جمعہ کے دن عام تعطیل کی جائے

3۔ ریستوران وبار رمضان کے مہینہ میں بند رکھی جائیں۔

4۔ عورتیں پردے میں رہ کر باہر نکلیں ۔

ہرسال موسم سرما میں لاکھوں کشمیری تجارت اور روزگار کے لئے پورے بھارت میں جاتے ہیں۔ اگر " ہندستانیوں" کے لئے کشمیر کا دروازہ بند کر دیا جائے تو کشمیریوں کے لئے ہندستان کا دروازہ کس منطق سے کھلا رہے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کشمیر میں مسلمانوں کے لئے یہ خصوصی سہولت ہے کہ وہاں جمعہ کے دن نماز کے لئے دوگھنٹے کی چھٹی دی جاتی ہے۔ اتوار کی چھٹی اس کے علاوہ ہے۔ ایسی حالت میں اگر اتوار کی چھٹی کو ختم کر کے جمعہ کے روز چھٹی دی جانے لگے تو اس سے کشمیریوں کو کیسا فائدہ ہوگا۔

کشمیرمیں 80 فیصد سے زیادہ ہوٹل مسلمانوں کے ہیں۔ اور وہاں کی بیشتر آبادی بھی مسلمان ہے۔ ایسی حالت میں مسلمان اگر روزہ کی پابندی کریں تو ان کے ہوٹل اپنے آپ ہند ہو جائیں گے۔ یہ مطالبہ مسلمانوں سے کیا جانا چاہئے نہ کہ موجودہ سیکولرحکومت سے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کشمیرکی 90 فیصد آبادی مسلمان ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں کی آبادی میں 90 فیصد مسلمان عورتیں ہیں ۔ اگر مسلمانوں کے درمیان پردے کا رواج ہو تو چوتھا مطالبہ اپنے آپ حاصل ہو جائے گا۔ یہ کام بھی خود مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اس کا ہندستان کی سیکولر حکومت سے کیا تعلق۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

24 اپریل 1989

آسکر وائلڈ Oscar Wilde) ) نے کہا کہ عدم قناعت ترقی کا پہلا زینہ ہے، ایک فرد کے لئے بھی اور ایک قوم کے لئے بھی :

other sourceWords of another person or source

Discontent is the first step in the progress of a man or nation.

آدمی کے اندر ہر قسم کی صلاحیتیں پیدائشی طور پرموجود ہیں مگرعام حالت میں وہ سوئی ہوئی رہتی ہیں۔ جب کوئی ٹھیس لگتی ہے یا کوئی محرومی پیش آتی ہے تو اس کے نتیجے میں آدمی کے اندر عدم قناعت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی سوئی ہوئی طاقتیں جاگ پڑتی ہیں۔ اس وقت وہ ایسے کام کر گزرتا ہے جو وہ عام حالت میں نہیں کر سکتا تھا۔

آدمی اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو جائے تو وہ جہاں ہے وہیں پڑا رہے گا۔ اور جب وہ اپنی حالت پر مطمئن نہ ہو تومزید آگے بڑھنا چاہے گا۔ اس طرح عدم قناعت آدمی کے لئے محرک عمل کا کام کرتی ہے۔

25 اپریل 1989

عربی میں جس چیز کے لئے "لا الحب على بل لبغض معاوية “ کی مثل ہے ، اس کو اردو میں کہا جاتا ہے ۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔

مجھے اپنی زندگی میں اس کی ایک مثال مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ان کے حلقہ کی صورت میں نظر آئی۔ مولاناموصوف میری بعض تنقیدوں کی وجہ سے مجھ سے خفا ہیں، چنانچہ آجکل وہ میرے "دشمن" محمد ہاشم قاسمی کے دوست بن گئے ہیں جنھوں نے ہمارے مرکز کی بلڈنگ حیدرآباد پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور مرکز کے اکاؤنٹ میں خیانت کر کے اس کو اپنی ملکیت بنالیا ہے۔

مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ان کا حلقہ آجکل محمد ہاشم قاسمی کی زبردست پذیرائی کر رہا ہے۔ محمد ہاشم قاسمی صاحب نے عرب کا ایک سفرکیا۔ اس کے سفر نامہ میں وہ لکھتے ہیں کہ سعودی عرب کا یہ سفر مولانا ابوالحسن علی ندوی کے مخلصانہ تعاون سے کامیابی سے ہم کنار ہوسکا ( الفیصل اگست 1988 )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا ابوالحسن علی ندوی حیدرآباد کے سفر پر تھے۔ اس سلسلہ میں وہ محمد ہاشم قاسمی کی دعوت پریکم جنوری 1989 کو ہمارے مرکز کی مغضوبہ بلڈنگ میں بھی گئے۔ اس طرح گویا انھوں نے محمد ہاشم قاسمی کے غصب اور خیانت کی تصدیق فرمائی ( تعمیر حیات ، 10 مارچ 1989 صفحه4 )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا ابوالحسن علی ندوی کے حلقہ کے ایک خاص بزرگ مولانا عبد اللہ عباس ندوی ہیں۔ محمد ہاشم قاسمی نے مولانا عبداللہ عباس ندوی کا مغضوبہ مرکز میں استقبالیہ دیا۔عبد اللہ عباس صاحب اپنے پرچہ ذکر و فکر میں سفر نامہ کے ذیل میں لکھتے ہیں۔ " مولانا ہاشم القاسمی کے ادارہ میں استقبالیہ تھا۔ عصرانہ پر تکلف تھا۔ خلوص اور ذوق کے ساتھ کس طرح کام کیا جائے، یہ ادارہ اس کا اچھا نمونہ ہے ، (ذکر وفکر1989 ، صفحہ 10ـــ 9) یہ مضمون دوباره تعمیرحیات 10 مئی 1989 میں نقل کیاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعات بتاتے ہیں کہ ان لوگوں میں ان کی ناراضگی کا اتنا بھی خوف نہیں ہے جتنا کہ کسی عرب شیخ کی ناراضگی کا۔ مولاناعلی میاں ایسا نہیں کر سکتے کہ وہ سعودی عرب کے دشمن کو اپنا دوست بنائیں ، مگر وہ وحید الدین خان کے دشمن کو اپنا دوست بنارہے ہیں۔ یہ فرق واضح طور پر اس کا ثبوت ہے کہ مولانا موصوف کو سعودی عرب کا خوف ہے مگرانھیں اللہ کا خوف نہیں۔

26 اپریل 1989

میری زندگی کا تلخ ترین تجربہ یہ ہے کہ آدمی کے اوپرجب تک تجربات کارولر نہ چلے، وہ کسی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ انسان کو عقل دی گئی ہے۔ اس اعتبار سے انسان کو چاہئے تھا کہ وہ نظری دلیل کو مان کر حقیقت کا اعتراف کرلے ۔ مگرکم از کم میرے تجربہ میں اب تک کوئی ایسا انسان نہیں آیا۔ میں نے جن انسانوں کو سنا یا جانا ، وہ سب وہی تھے جن کو حالات کا دباؤ تو منوا سکتا تھا مگر نظری دلیل کی طاقت ان کے لئے بالکل غیر موثر تھی۔

مجھے نہیں معلوم کہ باعتبارحقیقت ایسے انسانوں کا درجہ کیا ہے۔ مگر میرے خیال کے مطابق تو یہ زندگی کی حیوانی سطح ہے نہ کہ زندگی کی انسانی سطح۔

27 اپریل 1989

آج صبح فجر کی نماز کے لیے کالی مسجد ( نظام الدین ) جا رہا تھا ۔ راستہ میں ایک جگہ سڑک پر نیم کی پتیاں پڑی ہوئی نظر آئیں۔ میں نے سوچا کہ نیم کی یہ پتیاں کس قدر خوش قسمت ہیں۔ کچھ دن دہ درخت پر سرسبنر حالت میں رہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی شاخوں سے ٹوٹ کر سڑک پر پڑی ہوئی ہیں۔ یہاں وہ مسافروں کے قدموں کے نیچے پامال ہوتی رہیں گی۔ یہاں تک کہ مٹ کرختم ہوجائیں گی۔

ان کے مقابلہ میں انسان کا معاملہ کتنا سخت ہے۔ انسان بھی زندگی کی شاخ پر کچھ دن ہرا بھرا رہتا ہے۔ اس کے بعد موت آتی ہے اور اس کو شاخ سے جدا کر دیتی ہے۔ مگر یہ جدا ہونا اس کے لئے مٹنے کے ہم معنی نہیں ہوتا۔ بلکہ عالم الغیب کے سامنے حساب کے لئے حاضری کے ہم معنی ہو تاہے ۔ پتی کا معاملہ کتنا زیادہ آسان ہے، اور انسان کا معاملہ کتنا زیادہ مشکل۔

28 اپریل 1989

آج 21 واں روزہ ہے۔ رمضان سے پہلے میں کسی قدر ترد میں تھا۔ مگر رمضان آیا تو 21 روزے اتنی تیزی سے گزر گئے کہ کچھ احساس ہی نہیں ہوا۔ البتہ کمزوری بڑھ گئی ہے۔ آجکل روزانہ ایک دو بار چکر آجاتا ہے ۔

آج دوپہر کے وقت آخرت کی باتیں سوچتے ہوئے خیال آیا کہ ساری زندگی میں نے سب سے زیادہ جنت کی تمنا کی ، لیکن اگر اعمال کو دیکھوں تو اپنے اعمال کی بنا پر میں کسی بھی درجہ میں اپنے آپ کو جنت کا مستحق نہیں سمجھتا ۔ جنت میری سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے، مگر جنت ہی وہ چیز ہے جو میرے لئے سب سے زیادہ مشتبہ ہے۔ کاش اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت سے وہ چیز دے دیں جس کا میں اپنے اعمال کے اعتبارسے مستحق نہ تھا۔

29 اپریل 1989

او ایس مارڈن (O.S. Marden) کا قول ہے کہ ـــــــ پرامید شخص وہاں کامیابی کو دیکھ لیتا ہے جہاں دوسرے لوگ ناکامی دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ وہاں روشنی دیکھتا ہے جہاں دوسرے لوگوں کو صرف تاریکی اور طوفان نظر آتا ہے:

other sourceWords of another person or source

The hopeful man sees success where others see failure, sunshine where others see shadows and storm.

30 اپریل 1989

رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام پڑھتے ہوئے مسلمان جو الفاظ آپ کے لئے بولتے ہیں ، ان میں سے ایک " شفیع المذنبین" (گنہ گاروں کی شفاعت کرنے والے) بھی ہے ۔ یہ لفظ آپ کے لئے قرآن وحدیث میں کہیں نہیں آیا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے لئے قرآن میں غافر الذنب (المومن 3 ) کا لفظ آیا ہے ، یعنی گناہ بخشنے والا ۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال بھی عجیب ہے۔ وہ شفیع المذنبین سے واقف ہیں، جس کا ذکر قرآن وحدیث میں کہیں موجود نہیں۔ مگروہ غافرالمذنبین سے واقف نہیں ، جس کا ذکر قرآن میں صراحتہ ًموجود ہے۔ کیسا عجیب ہے ان کا جاننا ،اور کیسا عجیب ہے ان کا نہ جاننا۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or source