← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
قائد اتحاد
Urdu · 7 min
نبوت سے پہلے جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ابھی35 سال تھی، مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ کعبہ کی تعمیر نو کا مسئلہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کعبہ کی جو تعمیر کی تھی، وہ زمانہ گزرنے کی وجہ سے بوسیدہ ہوگئی تھی۔ چنانچہ قریش کو خیال ہوا کہ اس کو ازسرنو تعمیر کیا جائے۔
پہلا مسئلہ قدیم دیوار کو توڑنے کا تھا۔ اب تمام لوگ ڈر گئے۔ ہر ایک اس اندیشہ میں تھا کہ اگر اس نے اس مقدس عمارت پر پھاوڑا چلایا تو کہیں اس کے اوپر کوئی آفت نازل نہ ہو جائے۔ آخر کار ولید بن مغیرہ نے ہمت کی۔ وہ کعبہ کے سامنے پھاوڑالے کر کھڑا ہوا اور کہا: اللَّهُمَّ لَمْ نَزِغْ ،اللَّهُمَّ إنَّا لَا نريدُ إلَّا الخيرَ (سيرت ابن ہشام،جلد1،صفحہ 180)۔یعنی، اے اللہ، ہم نے ٹیڑھی راہ اختیار نہیں کی۔ اے اللہ، ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے بعد سب نے مل کر دیوار توڑی۔ مگر قدیم بنیاد کو باقی رکھا۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کھدائی میں ان کو ایک پتھر ملا۔ اس پر یہ کلمات لکھے ہوئے تھے: مَنْ يَزْرَعْ خَيْرًا، يَحْصُدْ غِبْطَةً، وَمَنْ يَزْرَعْ شَرًّا، يَحْصُدْ نَدَامَةً، تَعْمَلُونَ السيئاتِ، وتُجزَوْن الْحَسَنَاتِ؟! أَجَلْ، كَمَا لَا يُجتنى مِنْ الشَّوْكِ العنب (سیرۃ ابن ہشام،جلد1،صفحہ 182)۔یعنی، جو آدمی نیکی بوئے گا وہ قابل رشک فصل کاٹے گا۔ اور جو آدمی برائی بوئے گا وہ ندامت کی فصل کاٹے گا۔ کیا تم لوگ برائی کرو گے اور اچھا بدلہ پاؤ گے، ایسا نہیں ہو سکتا، جس طرح کانٹے کے پیڑ سے انگور نہیں توڑے جا سکتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قریش کے ہر قبیلہ نے کعبہ کی تعمیر نو کے لئے پتھر جمع کئے۔ پھر اس کی تعمیر شروع کی۔ جب تعمیر اس مقام پر پہنچی جہاں حجراسود کو دوبارہ لاکر نصب کرنا تھا تو قبائل کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ یہ ایک شرف کی بات تھی، چنانچہ ہر قبیلہ یہ چاہنے لگا کہ وہی حجر اسود کو اٹھائے اور وہی اس کو اس کے سابقہ مقام پر لا کر رکھے۔ اختلاف بڑھا۔ لوگ لڑنے مرنے پر تیار ہوگئے۔ یہاں تک کہ بنو عبدالدارخون سے بھرا ہوا ایک کٹورا لائے اور اس میں اپنی انگلیاں ڈال کر آخر وقت تک لڑائی کرنے کا عہد کیا۔
اسی تکرار میں چار یا پانچ دن گزر گئے۔ آخر ان کو ہوش آیا۔ سب کے سب مسجد کے اندر اکٹھا ہوئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور انصاف پر راضی ہوگئے(ثُمَّ إِنَّهُمْ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ، وَتَشَاوَرُوا وَتَنَاصَفُوا) سیرت ابن ہشام ،جلد1،صفحہ 182۔ابو امیہ بن المغیرہ اس وقت قریش میں سب سے زیادہ سن رسیدہ تھا۔ اس نے کہا کہ اے قریش کے لوگو، تم لوگ اپنے اختلاف کا فیصلہ اس طرح کرو کہ کل صبح کو جو پہلا آدمی مسجد کے دروازہ سے داخل ہو اس سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کرالو۔ سب نے یہ رائے مان لی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگلے دن جو شخص سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لوگوں نے جب آپ کو دیکھا تو کہاکہ یہ تو الامین ہیں۔ ہم ان پر راضی ہیں، یہ تو محمد ہیں(هَذَا الْأَمِينُ، رَضِينَا، هَذَا مُحَمَّدٌ)۔ اس کے بعد لوگوں نے اپنا مسئلہ آپ کے سامنے رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ تم ایک کپڑا لاؤ۔ چنانچہ کپڑا لا کر آپ کو دیا گیا۔ آپ نے کپڑے کو زمین پر پھیلایا اور پھر حجرد اسود کو اٹھا کر اس کپڑے پر ر کھ دیا۔ آپ نے کہا کہ اب ہر قبیلہ اس کا ایک ایک کونا پکڑ لے پھر سب مل کر ایک ساتھ اس کو اٹھائیں۔
انہوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ جب وہ اس کو لے کر اصل مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے حجراسود کو اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں وہاں رکھ دیا جہاں اس کو نصب کرنا تھا۔ اس کے بعد کعبہ کی تعمیر مکمل کی گئی۔ اختلاف اور لڑائی کا معاملہ پرامن طور پر حل ہوگیا۔ (سیرت ابن ہشام ،جلد1،صفحہ 197)
other sourceWords of another person or source
اس واقعہ سے اتحاد کے دو اصول ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ قائد جو مرکز اتحاد کے طور پر کام کرے، اس کو اخلاقی اعتبار سے لوگوں کا معتمد علیہ ہونا چاہیے۔ لوگ اس کو سچے اور امانت دار کی نگاہ سے دیکھیں۔ لوگ اس کو اپنے سے کچھ اوپر محسوس کریں۔ جب تک ایسا ایک شخص درمیان میں نہ ہو، لوگوں کے درمیان اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔
دوسری بات یہ کہ قائد اتحاد دوسروں کا لحاظ کرنے والا ہو۔ ثمرۂ اتحاد میں وہ تمام لوگوں کو حصہ دار بنائے۔ اتحادی عمل میں وہ ہر ایک کو شریک کرے۔ کامیاب قائد دوسروں کے درمیان انہیں کی طرح رہتا ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ تواضع کا سلوک کرتا ہے۔ اس کے دل میں ہر ایک کے لئے خیر خواہی ہوتی ہے۔ وہ قائد ہو کر بھی اپنے آپ کو دوسروں کے برابر رکھتا ہے۔ یہی سچا قائد ہے۔