پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے تیرھویں سال مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ کچھ غیر مسلم مورخین اس کو فرار(Flight) کہتے ہیں۔ مگر اسلامی تاریخ میں اس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ یہ محض خوش عقیدگی کی بات نہیں بلکہ ایک واقعہ کا اظہار ہے۔ اس قسم کا واقعہ عام طور پر فرار ہی ہوتا ہے۔ مگر یہ پیغمبر اسلام کا خصوصی کارنامہ ہے کہ آپ نے فرار کے معاملہ کو ہجرت کے معاملہ میں تبدیل کر دیا۔
عام لوگ جن کو اپنے ملک میں سخت حالات پیش آئے اور آخر کار ان کو وہاں سے ’’فرار‘‘ اختیار کرنا پڑا، وہ کون لوگ تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حکومت وقت کے خلاف سیاسی تحریک چلائی۔ انہوں نے موجودہ حکمران کو بے دخل کرکے حکومت پر قبضہ کرنا چاہا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سراسر اس کے برعکس تھا۔ آپ نے کسی کا اقتدار چھیننے کا منصوبہ نہیں بنایا۔ حتیٰ کہ مکہ والوں نے خود سے حکومت کی پیش کش کی تو اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ لوگوں کو دینے کے لیے اٹھے تھے نہ کہ لوگوں سے چھیننے کے لیے۔
پھر جب مکہ والوں نے آپ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تو باہر جا کر آپ نے وہ نہیں کیا جو عام لوگ کرتے ہیں۔ آپ نے مدینہ میں بیٹھ کر مکہ والوں کے خلاف پروپیگنڈے کی مہم نہیں چلائی۔ اور نہ مکہ والوں کے خلاف کوئی سیاسی سازش کی۔ آپ مدینہ پہنچ کر بھی مکہ والوں کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ ان کے لیے دعائیں کرتے۔ آپ اس کے لیے تڑپتے کہ کاش یہ لوگ جہنم کے راستہ کو چھوڑ دیں اور جنت کے راستہ پر چلنے لگیں۔ آپ کی نظر اب بھی مکہ والوں کے ملک و مال پر نہیں تھی بلکہ ان کی ہدایت اور نجات پر تھی۔ حتیٰ کہ مکہ والوں نے آپ کے خلاف جنگ چھیڑی تو آپ نے یکطرفہ شرائط پر ان سے صلح کر لی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ چھوڑ کر مدینہ جانا خود اہل مکہ کے حق میں آپ کی ایک قربانی تھی۔ مدینہ میں قیام کے زمانہ میں بھی آپ اہل مکہ کے حق میں قربانیاں دیتے رہے۔ آپ نے نفرت کے واقعہ کو محبت میں تبدیل کیا۔ آپ نے بدخواہی کے معاملہ کو خیر خواہی کا رخ دے دیا۔ جو سلوک تخریبی ردعمل پیدا کرنے والا تھا، اس کو آپ نے تعمیری فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا___ آپ کا یہی کارنامہ ہے جس کی بنا پر آپ کے ترک وطن کو فرار کے بجائے ہجرت کا نام دیا گیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔