Maulana Wahiduddin Khan
40 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

دلیل نبوت

Urdu · 40 min

قرآن میں پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسالَتَهُ (6:124) اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے۔ یعنی پیغمبر کو بھیجنے کے لیے وہ مناسب شخص اور مناسب وقت اور مناسب جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور اسی کے مطابق اس نے اپنے پیغمبر کو مبعوث کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت میں جعل سے مراد وضع(placement) ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے بنائے کعبہ کے وقت یہ دعا کی تھی کہ یااللہ، تو اسماعیل کی نسل میں ایک نبی پیدا کر(2:129)۔ اس دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب مکہ میں پیدا ہوئے گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ وضع رسالت انتہائی موزوں تاریخی لمحہ میں وقوع میں آیا۔ پوری نسل اسماعیل میں سے اس انسان کا انتخاب کیا گیا جو اس منصب کے لیے موزوں ترین تھا۔ وہ اس ملک میں پیدا ہوئے جو اس کام کے لیے سب سے زیادہ مناسب ملک تھا اور اس وقت خاص میں ان کا ظہور ہوا جب کہ تمام موافق اسباب حیرت انگیز طور پر ایک ساتھ جمع ہوگئے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عظیم کارنامہ انجام دیا وہ حیرت انگیز ہے۔ مگرا سے بھی زیادہ حیرت انگیز مختلف موافق اسباب کا وہ اجتماع ہے جو عین ان کی مدت عمر میں بیک وقت ان کے حق میں اکٹھا ہوگئے۔ آپ کے حق میں یہ غیر معمولی تاریخی مساعدت بیک وقت دلیل توحید بھی ہے اور دلیل نبوت بھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عالم کے پیچھے ایک عظیم ذہن اور عظیم ارادہ والی ہستی موجود ہے۔ نیز یہ کہ یہی وہ ہستی ہے جس نے محمد عربی کو اتنے زیادہ موزوں تاریخی وقت میں اور اتنے زیادہ موزوں جغرافی مقام پر مبعوث فرمایا۔ خدائے عظیم و برتر کے سوا کوئی بھی ایسا کرنے پر قادر نہ تھا۔

کوئی بڑا کارنامہ یا کوئی انقلابی کام انجام دینے کے لیے تین چیزیں انتہائی طور پر ضروری ہیں___ اعلیٰ قائد، موزوں مقام، موافق تاریخی حالات۔ اسلامی انقلاب کے حق میں یہ تینوں اسباب اعلیٰ ترین صورت میں جمع ہوگئے۔ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متفقہ طور پر اعلیٰ ترین قائدانہ اوصاف کے مالک تھے۔ عرب مطلوبہ انقلاب کے لیے موزوں ترین مقام تھا۔ جس کا اعتراف اکثر مورخین نے کیا ہے۔ اسی طرح تاریخی وقت کے اعتبار سے وہ وقت سب سے زیادہ موزوں تھا جب کہ آپ کی بعثت ہوئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کوئی انقلابی کام انجام دینے کے لیے تاریخ کی موافقت انتہائی طور پر ضروری ہے۔ تاریخی اسباب کی موافقت کے بغیر اس دنیا میں کوئی بڑا انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ آپ نے عظیم ترین انقلاب برپا کیا۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ حیرت انگیز طور پر اعلیٰ تین تاریخی اسباب آپ کے حق میں جمع ہوگئے تھے۔

1۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں ہوئی۔ عین اسی سال اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا۔ یمن کے حاکم ابرھہ نے ہاتھیوں کی ناقابل تسخیر فوج کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبۃ اللہ کو ڈھا دے۔ مگر معجزاتی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کے اوپر کنکریوں کی بارش ہوئی جس میں ساری فوج بھس بن کر رہ گئی۔

یہ ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا جس نے اہل عرب کی نظر میں توحید کی عظمت کو ازسر نو قائم کر دیا اور شرک و بت پرستی کا پورا نظام بے قیمت ہو کر رہ گیا۔ یہی بات ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر106,105 میں اشارہ کیا گیا ہے۔ عین اس عظیم مظاہرۂ توحید کے زمانہ میں پیغمبر اسلامؐ کی پیدائش ہوئی جو اس لیے دنیا میں بھیجے گئے کہ وہ شرک کو ختم کریں اور توحید کی عظمت دنیا میں قائم کر دیں۔ پیغمبر توحید کا عین عام الفیل میں پیدا ہونا خدائی منصوبہ بندی کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ توحید کی دعوت کا کام مکہ میں شروع کریں۔ مکہ کی خصوصیت یہ تھی کہ صدیوں کے حالات کے نتیجہ میں وہ عرب قیادت کا مرکز بن گیا تھا۔ مکہ میں بین الاقوامی تجارت اور بین الاقوامی تعلق کی روایات پائی جاتی تھیں۔ چنانچہ یہاں ایسے لوگ موجود تھے جن کو اپنے زمانہ میں اصحاب فکر اور اصحاب قیادت کا درجہ حاصل تھا۔ مثال کے طور پر ابوبکر بن ابی قحافہ اور عمر بن الخطاب وغیرہ، اس قسم کے اعلیٰ افراد کو اسلامی تحریک کی حمایت میں لینا ضروری تھا۔ چنانچہ اسلامی جماعت کے بیشتر تاریخ ساز افراد مکہ ہی سے حاصل ہوئے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا میں نظر آتی ہے کہ اے اللہ، اسلام کو ابوالحکم بن ہشام یاعمربن الخطاب کے ذریعہ طاقت دے(اللَّهُمَّ ‌أَيِّدْ ‌الِإسلام بِأَبِي الْحَكَمِ بْنِ هِشَامٍ، أَوْ بِعُمَرِ بْنِ الْخَطَّابِ) سيرت ابن ہشام،جلد1،صفحہ 296۔تاہم مکہ والوں کے لیے شرک ایک اقتصادی انٹرسٹ کا معاملہ تھا۔ انہوں نے عرب کے 360 قبیلوں کے 360 بت کعبہ میں رکھ دیئے تھے۔ یہ قبیلے سال بھر مکہ آتے تھے۔ ان کی وجہ سے مکہ کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا تھا۔ ان بت پرست قبائل کی مکہ میں آمد ٹھیک اسی طرح تجارتی نوعیت رکھتی تھی جس طرح کسی سیاحتی ملک میں سیاحوں کی آمد تجارتی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاحت کو انڈسٹری سمجھا جاتا ہے اسی طرح مکہ والوں کے لیے شرک ایک انڈسٹری تھی۔ ان کے بیشتر تجارتی مفادات اسی انڈسٹری سے وابستہ تھے۔ اس لیے مکہ میں عمومی سطح پر توحید کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ یہی بات تھی جس کو قرآن کے بیان کے مطابق اہل مکہ نے اس طرح کہا تھا: اگر ہم تمہارے ساتھ ہو کرتوحید کی اس ہدایت پر چلنے لگیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے(28:57)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

3۔ مکہ میں جب حصول افراد کا وہ کام مکمل ہوگیا جس کو قرآن میں قطع طرف(آل عمران،3:127) کہاگیا ہے، یعنی ان کے بہتر حصہ کو کاٹ کر نکال لینا، تو اس کے بعد آپ نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا۔ ہجرت کوئی فرار نہیں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ جا کر وہاں کے امکانات کو استعمال کیا جائے۔ یہ تاریخی امکانات اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مدینہ میں پوری طرح جمع کر دیئے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثلاً مدینہ کے علاقہ میں یہود کے تین قبائل(نضیر، قُریظہ، قینقاع) کی موجودگی۔70ء میں رومی شہنشاہ تیتس(Titus) نے فلسطین کو فتح کیا۔ اس نے یروشلم کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد یہودی جلاوطن ہو کر مختلف ملکوں میں چلے گئے۔ ان میں سے کچھ مدینہ بھی آئے۔ چند صدیوں میں ان کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ ان یہودیوں کے اختلاط سے اہل مدینہ کو ایک آنے والے نجات دہندہ کا تصور ملا جو اچانک آ کر قوم کے تمام مسائل کو حل کر دے گا۔

چنانچہ ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ حج کے موسم میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبائل عرب سے ملنے کے لیے نکلے تو آپ کی ملاقات مدینہ کے قبیلہ خزرج کے کچھ آدمیوں سے ہوئی۔ ان کے سامنے آپ نے اسلام پیش کیا اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے آپ کی بات سنی تو آپس میں کہنے لگے: يَا قَوْمِ، ‌تَعلَّموا وَاَللَّهِ إنَّهُ لَلنَّبِيُّ الَّذِي تَوَعَّدَكُمْ بِهِ يَهُودُ، فَلَا تسبقُنكم إلَيْهِ. فَأَجَابُوهُ فِيمَا دَعَاهُمْ إلَيْهِ (سیرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ 55)۔لوگوں سمجھ لو۔ خدا کی قسم، ضرور یہ وہی نبی ہے جس کا ذکر تم سے یہودی کیا کرتے تھے۔ دیکھو، کہیں وہ اس کی جانب تم پر سبقت نہ لے جائیں۔ پس جس چیز کی دعوت آپ نے انہیں دی اس کو انہوں نے قبول کر لیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی معاملہ خود مدینہ کے عربوں کے سلسلہ میں ایک اور شکل میں پیش آیا۔ ہجرت سے چند سال پہلے618ء میں مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج میں خوں ریز جنگ ہوئی۔ ان حالات میں وہ محسوس کرنے لگے کہ انہیں ایک قومی قائد کی شدید ضرورت ہے۔ یہی بات ہے جس کو حضرت عائشہؓ نے اس طرح فرمایا: كَانَ ‌يَوْمُ ‌بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا، فَقَدَّمَهُ اللهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ( صحيح البخاري،حدیث نمبر 3777)۔بعاث کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جو اللہ نے اپنے رسول کی خاطر تمہید کے طور پر برپا کیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان کے سردار متفرق ہو چکے تھے۔ ان کے سربرآوردہ لوگ مقتول اور زخمی ہوگئے تھے۔ چنانچہ اس واقعہ کو اللہ نے اپنے رسول کے لیے بطور تمہید برپا کیا جو اہل مدینہ کے لیے دخولِ اسلام میں معاون بنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی بات انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے اس طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قبائلی جنگ میں بہت زیادہ خون بہا تھا جو 618 میں ہوئی۔ اس کے بعد امن پوری طرح قائم نہیں ہو سکا تھا۔ محمدؐ کو مدینہ بلا کر وہاں کے بہت سے عرب غالباً یہ امید کر رہے تھے کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالث کا کام کریں گے۔ اور یہود سے اہل مدینہ کے ربط نے غالباً انہیں ایک مسیحائی مذہبی قائد کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا ہوگا جو کہ انہیں ظلم سے نجات دلائے اور ایک ایسی سلطنت بنائے جس میں انہیں انصاف مل سکے

other sourceWords of another person or source

Much blood had been shed in a battle at battle at about 618, and peace was not fully restored. In inviting Muhammad to Medina, many of the Arabs there probably hoped that he would act as an arbiter among the opposing parties, and their contact with the jews may have prepared them for a messianic religious leader, who would deliver them from oppression and establish a kingdom in which justice prevaild.(12/607)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4۔ پیغمبر اسلامؐ کے مشن کا ایک جزء یہ تھا کہ وہ اس دور کو دنیا سے ختم کر دیں جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت(absolute imperialism) سے تعبیر کیا ہے۔ یہی سیاسی نظام ہے جو قدیم زمانہ میں انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کی پیدائش جزیرہ نمائے عرب میں ہوئی جو اس زمانہ کی دو عظیم ترین شہنشاہیتوں، رومی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے درمیان میں واقع تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس مقصد کے لیے آپ کا مقابلہ ان شہنشاہیتوں کے ساتھ پیش آنے والا تھا۔ چنانچہ تاریخی اعتبار سے آپ کا ظہور انتہائی موزوں وقت میں ہوا۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ رومیوں اور ایرانیوں کے درمیان پچیس سالہ جنگ(603-628ء) پیش آئی۔ یہ دونوں اپنے زمانہ میں ناقابل تسخیر حد تک طاقت ور سلطنتیں تھیں۔ مگر پیغمبر اسلام کی بعثت حیرت انگیز طور پر عین اس زمانہ میں ہوئی جب کہ دونوں سلطنتیں آپس میں لڑ کر تباہ ہو چکی تھیں۔ یہی واقعہ ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر30 میں اشارہ کیا گیا ہے(غُلِبَتِ الرُّومُ ۔فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ)30:2-3۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام کی پیدائش کے بعد603ء میں ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ تباہ کن جنگ کے بعد رومیوں کو شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616ء میں یروشلم سمیت رومن ایمپائر کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔

اس کے بعد قیصر روم کے اندر نیا حوصلہ پیدا ہوا۔ اس نے تیاری کرکے 623ء میں ایران کے اوپر جوابی حملہ کیا۔624ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔627ء میں اس نے اپنے مقبوضہ علاقے دوبارہ ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ تاہم ان دو طرفہ لڑائیوں میں دونوں عظیم سلطنتوں کی طاقت ٹوٹ گئی۔ دونوں کمزور ہو کر رہ گئیں۔

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ پیغمبر اسلامؐ کا ظہور ہوا۔ آپ نے اور آپ کے بعد آپ کے اصحاب نے دونوں سلطنتوں سے ٹکر لی اور دونوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نئے دور آزادی کا آغاز کیا۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984) میں بازنطینی ایمپائر(Byzantine Empire) کے نام سے 26 صفحہ کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس کے مصنف بازنطینی تاریخ کے ایک اکسپرٹ پروفیسر نکل (Donald MacGillivray Nicol) ہیں۔ مسلم عہد کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں

other sourceWords of another person or source

632ء میں پیغمبر کی وفات کے بعد خلفاء نے عرب بدوؤں کی طاقت کا رخ ایک بامقصد اور منظم منصوبہ فتح کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔636ء میں بازنطینی فوج کو دریائے یرموک کے کنارے ایک جنگ میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد فلسطین اور شام کا دروازہ عربوں کے لیے کھل گیا۔ اسکندریہ نے 642ء میں ہتھیار ڈال دیا اور پھر ہمیشہ کے لیے مصر کا صوبہ بازنطینیوں کے اقتدار سے نکل گیا۔ اسی درمیان عربوں نے میسوپوٹامیا کے علاقہ میں پیش قدمی کی اور جلد ہی ایرانی فوج کو شکست دے کر ان کی راجدھانی کو فتح کر لیا۔ اس طرح ایرانی شہنشاہیت کی لمبی تاریخ ختم ہوگئی۔

اس وقت کی بازنطینی سلطنت اور ایرانی سلطنت کے کم ازکم تین پہلوؤں نے عربوں کے لیے اس شاندار کامیابی کو آسان بنا دیا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی۔ اول، دونوں سلطنتیں جنگوں کے نتیجہ میں بالکل ختم ہو چکی تھیں اور 632 سے پہلے انہوں نے اپنی فوجوں کو گھٹا دیا تھا۔ دوم، دونوں ہی سلطنتیں عرب سرحد پر اپنی ماتحت حکومتوں کی مدد بند کر چکی تھیں جنہوں نے پچھلی ایک صدی سے صحرائی بدوؤں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔ سوم، اور خاص طور پر بازنطینیوں کے معاملہ میں مذہبی اختلافات جنہوں نے شامیوں اور مصریوں کی قسطنطنیہ کے ساتھ وفاداری کو کمزور کر دیا تھا

unverifiedAttribution could not be verified automatically

At least three aspects of the contemporary situation of Byzantium and Persia account for the phenomenal ease with which the Arabs overcame their enemies: first, both empires, exhausted by wars, had demobilized before 632; second, both had ceased to support those client states on the frontiers of the Arabian Peninsula that had restrained the Bedouin of the desert for a century past; third, and particularly in reference to Byzantium. religious controversy had weakened the loyalties that Syrians and Egyptians rendered to Constantinople.(3/557)

5۔موسموں کی تبدیلی کا تعلق سورج کے گرد زمین کی گردش پر ہے۔ شمسی کیلنڈر اسی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ چنانچہ شمسی کیلنڈر میں ہر موسم ہمیشہ ایک ہی مہینہ میں آتا ہے۔ مثلاً دسمبر میں ہمیشہ سردی اور جون میں ہمیشہ گرمی۔ مگر قمری کیلنڈر، جس کا سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے، وہ قمری مہینوں کی بنیاد پر بنایاگیا ہے۔ اس لیے قمری کیلنڈر میں مہینے ہمیشہ موسم کے مطابق نہیں ہوتے۔ مثلاً رمضان کا مہینہ کبھی جاڑے کے موسم میں آتا ہے اور کبھی گرمی کے موسم میں۔

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے جب اللہ کے حکم سے کعبہ کی تعمیر کی اور حج کا نظام قائم کیا تو انہوں نے اس کا نظام قمری کیلنڈر کی بنیاد پر بنایا تھا۔ یعنی یہ کہ حج کی عبادت ذی الحجہ کے مہینہ میں ادا کی جائے۔ قدیم زمانہ میں مکہ کا قبیلہ قریش کعبہ کا متولی تھا۔ ان کی معاشیات کا سب سے بڑا ذریعہ کعبہ کا حج تھا۔ عرب کے تمام قبائل ہر سال حج و زیارت کے لیے مکہ آتے۔ وہ اس پر چڑھاوے چڑھاتے۔ اس کے علاوہ ان کے آنے سے مکہ کو تجارت کو فروغ حاصل ہوتا جس طرح سیاح آج کل جس ملک میں بڑی تعداد میں آتے ہیں وہاں کی تجارت کو ان سے فروغ حاصل ہوتا ہے۔

قریش نے دیکھا کہ ذی الحجہ کا مہینہ جب معتدل موسم میں پڑتا ہے تو زائرین کے قافلے زیادہ بڑی تعداد میں مکہ آتے ہیں۔ اور جب ذی الحجہ کا مہینہ سخت موسم میں پڑتا ہے تو زائرین کی تعداد کافی کم ہو جاتی ہے۔ اس تجربہ کے بعد قریش نے حج کے نظام کو بدل دیا۔ انہوں نے اس کو قمری کیلنڈر سے ہٹا کر شمسی کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ تاکہ حج کی تاریخ کو ہمیشہ معتدل اور موافق موسم میں انجام دیں اور اس طرح اپنے تجارتی مفاد کو بلا روک ٹوک حاصل کر سکیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا ایک جزء یہ بھی تھا کہ آپ حج کی عبادت کو دوبارہ ابراہیمی طریقہ پر قائم کر دیں۔ اس تبدیلی کا اعلان آپ فتح مکہ(8ھ) کے موقع پر کر سکتے تھے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی اصلاح کے سلسلہ میں آپ کی ایک مستقل سنت یہ تھی کہ روایات کو توڑے بغیر ان کو نافذ کیا جائے۔ اگر آپ فتح مکہ کہ دن اس کا اعلان فرماتے تو ایسی کارروائی روایات کو توڑے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ قمری کیلنڈر چونکہ شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اس لیے 33 سال کی گردش کے بعد دونوں ایک دوسرے کے برابر ہو جاتے ہیں۔ مثلاً رمضان کا مہینہ اس سال اگر فروری میں پڑے تو33 سال کے بعد دوبارہ وہ فروری کے مہینہ میں آ جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو مہینہ پہلے یہ 33سالہ دور پورا ہونے والا تھا۔ اور دوبارہ حج کا موسم ذی الحجہ کے مہینہ میں آنے والا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد نہ تو حج کے نظام میں تبدیلی کا اعلان فرمایا اور نہ اس کے بعد آنے والے حج میں آپ نے شرکت کی۔ آپ نے 10ھ میں پہلا حج کیا جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس سال کا حج اپنے آپ خود گردش کے نظام کے نتیجہ میں ذی الحجہ میں پڑنے والا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ پہلے مکہ جا کر حج ادا فرمایا۔ اس حج میں آپ نے جو خطبہ دیا، اس میں آپ نے اعلان کر دیا اور فرمایا کہ اے لوگو، زمانہ گھوم گیا۔ پس آج کے دن وہ اپنی اس ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حقیقت حج، صفحہ32)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یعنی 33 سالہ دور کو پورا کرکے اب حج کا موسم دوبارہ ذی الحجہ کے مہینہ میں پڑ رہا ہے۔ یہی نظام مشیت خدا وندی کے مطابق ہے۔ اب قریش کا جاری کردہ نظام ختم کیا جاتا ہے۔ آئندہ ہمیشہ کے لیے قمری کیلنڈر کے مطابق، ذی الحجہ کے مہینہ میں حج ادا کیا جائے گا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ روایات کو توڑے بغیر اصلاحات کرنا۔ اسی لیے آپ نے حج کی تاریخوں میں اصلاح فرمائی مگر یہ کام آپ نے روایات کو توڑے بغیر انجام دیا۔ یہ بے حد حیرت انگیز بات ہے کہ آپ کی پیدائش اور آپ کی وفات انتہائی موزوں وقت میں ہوئی۔ ایک طرف مذکورہ33 سالہ دور پورا ہوا، اور دوسری طرف آپ اپنی مدت حیات پوری کرکے اس مخصوص مہینہ اور سال میں پہنچ گئے جب کہ آپ روایت شکنی کے بغیر فطری انداز میں حج کے نظام کی اصلاح کر سکیں۔ یہاں واضح طور پر آپ کی پیدائش اور آپ کی وفات کے وقت کی تعیئین میں اس برترخالق کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے جو تخلیق کے پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ آپ کی عمر اور خارجی زمانہ میں اگر یہ مطابقت نہ ہوتی تو آپ اتنی صحت کے ساتھ اپنے مشن کو پورا نہیں کر سکتے تھے یہ واقعہ بھی اللَّهُ أَعْلَمُ ‌حَيْثُ ‌يَجْعَلُ ‌رِسالَتَهُ(6:124)کی ایک ایمان افروز مثال ہے، یعنی، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو بخشے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں یہ بھی تھا کہ آپ حج کی سالانہ عبادت میں اس طرح اصلاح کریں کہ وہ شمسی کیلنڈر سے ہٹ کر قمری کیلنڈر پر آ جائے۔ اور اس عمل کے درمیان روایات کو بھی توڑنا نہ پڑے۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو محدود عمر کے ایک انسان کی استطاعت سے باہر تھا۔ اس انقلابی تبدیلی کو قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مصلح کی پیدائش بالکل حسابی انداز میں ایسے زمانہ میں ہو جب کہ کائنات کا آفاقی نظام بھی اس کی مدت حیات کے ساتھ مساعدت کر رہا ہو۔ صرف خدا وند عالم ہی اس پر قادر ہو سکتا تھا۔ اور پیغمبر اسلام کی زندگی میں ان آفاقی اسباب کا جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ خدا وند عالم کے فرستادہ تھے۔

6۔دنیا کے تمام انقلابات، خالص نظریاتی اعتبار سے، ناکام انقلابات ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی انقلاب اپنے نظریاتی معیار والا نظام نہ بنا سکا۔ تمام انقلابات صرف ارباب حکومت کی تبدیلی کے ہم معنی ہیں۔ اس کا آغاز خوش نما نظریات کی تبلیغ سے ہوا۔ مگر جب عملی انقلاب کی نوبت آئی تو ان کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ ایک گروہ کی سیاسی حکمرانی ختم ہو کر دوسرے گروہ کی سیاسی حکمرانی قائم ہوگئی۔ انقلابات کی تاریخ میں اسلامی انقلاب واحد انقلاب ہے جس میں عین اس کے نظریہ کے مطابق، ایک مثالی معاشرہ بنا اور ایک مثالی سماج قائم ہوا۔

اس فرق کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بقیہ تمام انقلابات دوسری اور تیسری نسل میں مکمل ہوئے۔ جب کہ اسلامی انقلاب اپنی پہلی ہی نسل میں عملی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچ گیا۔ کسی نظریاتی تحریک کی جو پہلی نسل ہوتی ہے اس کے افراد کے لیے وہ نظریہ ذاتی دریافت ہوتا ہے۔ ان کے اندر اس نظریہ کے حق میں کامل اخلاص موجود رہتا ہے۔ جب کہ دوسری اور تیسری نسل تک پہنچ کر نظریہ صرف ایک قسم کا رسمی عقیدہ بن کر رہ جاتا ہے۔ زندگی میں قوت محرکہ کے اعتبار سے وہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔

ڈیمو کریسی(جمہوریت) کا نظریہ سترھویں صدی کے کچھ یورپی مفکرین نے پیش کیا۔مگر عملی صورت میں ڈیمو کریسی اٹھارویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی۔1776 میں امریکہ میں اور 1789 میں فرانس میں۔ اس طرح ڈیمو کریسی اپنی پہلی نسل میں صرف نظریہ کے دریجہ میں باقی رہی۔ وہ اپنی تیسری نسل میں پہنچ کر عملی واقعہ بن سکی جب کہ اس کے ابتدائی نظریہ ساز ختم ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیمو کریسی کے نام پر آنے والے انقلابات ڈیمو کریسی کا حقیقی عملی نمونہ نہ بن سکے۔

اسی طرح کمیونزم کا نظریہ انیسویں صدی میں ابھرا۔ مگر اس کا عملی نفاذ بیسویں صدی میں کمیونسٹوں کی دوسری اور تیسری نسل میں ہوا۔ پہلی نسل کے افراد کے لیے اس کو عملی روپ دینا ممکن نہ ہو سکا۔ چنانچہ حکمرانوں کی تبدیلی کے معنی میں تو کمیونزم نافذ ہوگیا۔ مگر اس کا نظریاتی معیار کبھی اور کسی ملک میں واقعہ نہیں بنا۔

اس کے برعکس اسلام کا نظریہ پہلی ہی نسل (محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے زمانہ میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اگر مثال کے طور پر ایسا ہوتا کہ عرب کی فتح بنوامیہ کی خلافت کے زمانہ میں ہوتی اور ایران و روم کی فتوحات بنو عباس کی خلافت کے زمانہ میں انجام پاتیں تو ناممکن تھا کہ اسلام کی تاریخ میں حیات انسانی کا وہ مثالی ماڈل موجود ہو جو اسلام کے پہلے دور میںبنا اور جو عام انسانوں کے لیے دائمی طور پر مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اگلی نسل تک پہنچتے پہنچتے اسلام کی اصل اسپرٹ لوگوں میں کافی کمزور ہو چکی تھی۔

کیا وجہ ہے کہ دوسرے انقلابات کی تکمیل کئی نسلیں گزرنے کے بعد ہوئی۔ مگر اسلامی انقلاب پہلی ہی نسل میں مکمل ہوگیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ دوسرے نظریات کو پہلی نسل میں بڑی تعداد میں مردان کار حاصل نہ ہو سکے۔ جب کہ اسلامی نظریہ کو پہلی ہی نسل میں مردان کار کی ایک طاقت ور ٹیم مِل گئی جس نے غیر معمولی جدوجہد اور قربانی کے ذریعہ پہلی ہی نسل میں اس کو تکمیل کے آخری مرحلہ تک پہنچا دیا۔

اوپر جو آیت ہم نے نقل کی ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے(الانعام،6:124)۔ اسی کا ایک پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کی جائے پیدائش اور مقام عمل کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں اس کو پہلے ہی مرحلہ میں اعلیٰ صلاحیت کے مردان کار مل سکیں۔ ظہور محمدی کے زمانہ کو دیکھئے تو بظاہر عرب کا ملک اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ غیر اہم نظر آتا ہے۔ اس وقت عربوں کی تصویر دنیا کی نظر میں کیا تھی، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ فردوسی اپنے شاہنامہ میں ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ اے آسمان تجھ پر افسوس ہے کہ اونٹ کا دودھ پینے والے اور گوہ کا گوشت کھانے والے عربوں کا معاملہ اب یہاں تک پہنچا ہے کہ وہ ایرانی تخت کی آرزو کر رہے ہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زشیر شتر خورن و سوسمار عرب رابجائے رسید است کار

کہ تخت کیاں راکنند آرزو تفوبر تو اے چرخ گرداں تفو

اس وقت صرف خدا ہی جان سکتا تھا کہ اس بظاہر غیر اہم قبائلی مجموعہ کے اندر ایک عظیم قوم بننے کے امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ مارگولیتھ نے عربوں کو ہیروؤں کی ایک قوم(a nation of heroes) کہا ہے۔ مگر یہ اعتراف واقعہ کے ظہور میں آنے کے بعد کا ہے۔ ظہور واقعہ سے پہلے صرف خدا ہی یہ جان سکتا تھا کہ عرب قوم کے اندر کیا امکانی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان عربوں میں دوسری غیر معمولی صفات کے ساتھ ایک انوکھی صفت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کے تعصب سے خالی تھے۔ ان کے مزاج میں یہ چیز رچی بسی ہوئی تھی کہ وہ حق کا فوراً اعتراف کر لیں۔ ان کی اسی صلاحیت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر کی زندگی ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھی بن گئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں مبعوث کرنا کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک انتہائی اعلیٰ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ اس میں منصوبہ ساز کو یہ جاننا تھا کہ ساری دنیا میں وہ کون سا مخصوص مقام ہے جو پیغمبر اسلام کو اپنا کام شروع کرنے کے لیے موزوں ترین ہے۔

نہ صرف پیغمبروں کی تاریخ بلکہ کوئی تخلیقی نظریہ پیش کرنے والے ہر آدمی کی تاریخ بتاتی ہے کہ معاصر زمانہ میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس کے پیغام کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اس کے زمانہ ہی میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ عرب جیسی قوم میں مبعوث کرنے ہی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں پیغمبر اسلام کو کثیر تعداد میں ایسے ساتھی مل گئے جو مطلوبہ انقلاب کے لیے جہاد عظیم کر سکیں۔

یہ واقعہ اتنا اہم اور اتنا زیادہ استثنائی تھا کہ بائبل میں اس کے بارے میں پیشگی خبر دے دی گئی۔ بائبل (کتاب استثنا) میں ہے کہ مرد خدا موسیٰ نے جو دعائے خیر دے کر اپنی وفات سے پہلے بنی اسرائیل کو برکت دی وہ یہ ہے کہ۔ اور اس نے کہا خداوند سینا سے آیا۔ اور شعیر سے ان پرآشکارا ہوا۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا۔ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

and he came with ten thousands of saints. (Deuteronomy 33:2)

بائبل کی اس آیت میں سینا سے آنے والے حضرت موسیٰ ہیں۔ شعیر سے آنے والے حضرت مسیح ہیں اور فاران سے آنے والے سے مراد پیغمبراسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کے ساتھ یہ انوکھا واقعہ پیش آیا کہ وہ آغاز نبوت کے صرف 20 سال بعد دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He received his prophetic call in about 610, and in january 630 he entered Mecca with 10,000 men. (VII/84)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content