پیغمبراسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کی ایک استثنائی شخصیت ہیں۔ آپ واحد انسان ہیں جن کی زندگی میں انسانیت اعلیٰ کے تمام پہلو اپنی کامل صورت میں جمع ہوگئے۔ آپ کی زندگی کا مطالعہ گویا کامل انسانیت کا مطالعہ ہے۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4)۔
سیرت رسول ایک جامع قسم کی انسانی انسائیکلو پیڈیا ہے۔ وہ نہ صرف حیات بشری کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے بلکہ مختلف زمانوں کی رعایت بھی اس میں کمال درجہ میں پائی جاتی ہے۔
تاہم سیرت رسول کا مطالعہ سادہ طور پر ڈکشنری کے انداز میں نہیں کیا جا سکتا۔ ڈکشنری میں ہم ایسا کرتے ہیں کہ اپنا مطلوب لفظ حروف تہجی کی ترتیب سے نکال کر دیکھ لیتے ہیں۔ اسی طرح سیرت کا مطالعہ اس طرح نہیں کیا جا سکتا کہ حدیث اور سیرت کی مروجہ کتابوں میں متعلق ابواب کو کھول کر دیکھ لیا جائے۔ ایسا مطالعہ سیرت کا کامل مطالعہ نہیں ہو سکتا۔
قرآن میں ہے کہ: تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے(23:21)۔
رسول کی زندگی میں بلاشبہ حیات بشری کے لیے کامل نمونہ ہے۔ مگر اس نمونہ کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنے کے لیے وہ شخصیت درکار ہے جس کی معرفت اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ ایک خدا ہی اس کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔ وہ زندگی کی حقیقت سے اتنا زیادہ باخبر ہو جائے کہ آخرت کے سوا ہر چیز اس کو بے حقیقت نظر آنے لگے۔ وہ معرفت کی اس سطح پر پہنچا ہوا ہو کہ اللہ کی یاد اس کی سب سے بڑی ذہنی سرگرمی بن گئی ہو۔
آدمی جب روحانی بلندی یا شعوری ارتقاء کے اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ آخری حد تک حقیقت شناس بن جاتا ہے۔ اور ایک سچا حقیقت شناس ہی سیرت کو اس کی تمام گہرائیوں کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ آدمی حقیقت شناسی کے جس مرتبہ پر ہوگا اسی کے بقدر وہ سیرت کے رموز کو سمجھنے میں کامیاب ہوگا۔
سیرت کا مطالعہ گویا معرفت کے سمندر میں غواصی ہے۔ غواصی کا یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا۔ لوگ اپنی ہمت کے مطابق ہمیشہ اس سے نئے نئے موتی نکالیں گے۔ ہر دور کے انسان اس خزانہ سے مالا مال ہوتے رہیں گے، وہ کبھی کسی کے لیے خالی ہونے والا نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔