← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
غیبت نہیں
Urdu · 15 min
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ(49:12)۔اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو۔ کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔ اس کو تم خود ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
غیبت کا مطلب ہے، کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہنا۔ مذکورہ آیت میں غیبت کو مرے ہوئے انسان کا گوشت کھانے کے برابر بتایا گیا ہے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فعل اللہ کے نزدیک کتنا زیادہ برا اور کتنا زیادہ ناپسندیدہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موطأ الامام مالک(کتاب الجامع) میں باب ماجاء فی الغیبۃ کے تحت ایک روایت آئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلمسے پوچھا کہ غیبت کیا ہے۔ آپ نے فرمایا، یہ کہ تم کسی آدمی کا ذکر اس طرح کرو جس کو وہ ناپسند کرے اگر وہ سنے۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ اے خدا کے رسولؐ، اگرچہ بری بات واقعہ کے مطابق ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تمہاری بات واقعہ کے خلاف ہو تو وہ بہتان ہے(أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَا الْغِيبَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: أَنْ تَذْكُرَ مِنَ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فإِنْ كَانَ حَقًّا؟ قَالَ: إِذَا قُلْتَ بَاطِلًا فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ (موطأ مالك،حدیث نمبر 2083)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں خواتین میں اور گھروں میں جو برائی سب سے زیادہ عام ہے وہ یہی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جہاں چند عورتیں اکٹھا ہوں گی وہ فوراً دوسروں کی شکایت کرنا شروع کر دیں گی، اس قسم کی شکایتوں ہی کا نام غیبت ہے، کسی کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس کی برائی بیان کرنا، جب کہ وہ خود اس کی صفائی کرنے کے لیے موجود نہ ہو، یہی غیبت ہے اور یہ غیبت خواتین میں اتنا زیادہ پھیلی ہوئی ہے کہ بہت ہی کم ایسی خواتین ہوں گی جو اس برائی سے بچی ہوئی ہوں۔
مولانا شبیر احمد عثمانی اس آیت کے تحت اپنی تفسیر میں لکھتے ہیںاختلاف و تفریق باہمی کے بڑھانے میں ان امور کو خصوصیت سے دخل ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق سے ایسا بدگمان ہو جاتا ہے کہ حسن ظن کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ مخالف کی کوئی بات ہو تو اس کا محمل اپنے خلاف نکال لیتا ہے۔ اس کی بات میں ہزارہا احتمال بھلائی کے ہوں اور صرف ایک پہلو برائی کا نکلتا ہو تو ہمیشہ اس کی طبیعت برے پہلو کی طرف چلے گی۔ اور وہ اسی برے اور کمزور پہلو کو قطعی اور یقینی قرار دے کر فریق مقابل پر تہمتیں اور الزام لگانا شروع کر دے گا۔ پھر نہ صرف یہ کہ ایک بات اتفاق سے پہنچ گئی تو بدگمانی سے اس کو غلط معنی پہنا دیئے گئے۔ نہیں، وہ اس جستجو میں رہتا ہے کہ دوسری طرف کے اندرونی بھید معلوم ہوں جس پر ہم خوب حاشیے چڑھائیں اور اس کی غیبت سے اپنی مجلس گرم کریں۔ ان تمام خرافات سے قرآن منع کرتا ہے۔ اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو جو اختلافات بدقسمتی سے پیش آ جاتے ہیں وہ اپنی حد سے آگے نہ بڑھیں اور ان کا ضرر بہت محدود ہو جائے۔ بلکہ چند روز میں نفسانی اختلافات کا نام و نشان باقی نہ رہے(تفسیر عثمانی، صفحہ671)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سورہ احزاب کی اس آیت کا خطاب عورتوں اور مردوں دونوں سے ہے کہ وہ گمان کی بنیاد پر ہر گز کسی کے بارے میں کوئی بری رائے قائم نہ کریں۔ کسی کے بارے میں اچھی رائے قائم کرنے میں اگر آپ غلطی کر جائیں تو اس سے خاندان یا سماج میں کوئی برائی پیدا نہیں ہوگی۔ لیکن اگر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کر لی جائے تو وہ عظیم شر کا سبب بن سکتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح غیبت اور شکایت کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ جس گھر یا جس سماج میں لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی مجلسوں میں دوسروں کی برائی بیان کرتے ہوں وہاں لوگوں کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہوں گے۔ باہمی خیر خواہی کا ماحول وہاں باقی نہیں رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ خود اپنی ذات کی نجات کے لیے بھی ضروری ہے کہ آپ کی زبان غیبت اور شکایت اور برائی جیسے تذکروں سے پاک ہو۔ جو انسان مردار گوشت کو اپنی غذا بنائے اس کا جسم فاسد جسم بن جائے گا۔ اسی طرح جو عورت یا مرد اپنی زبان کو بار بار غیبت سے آلودہ کریں ان کے اندر گندی شخصیت پرورش پائے گی۔ ان کا وجود انسانی خوشبو سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔
ہاجرہؓ… ام اسماعیلؑ
زندگی کے نظام میں عورت کی حیثیت بظاہر نصف حصہ کی ہے۔ مگر عملی اعتبار سے عورت کلیدی کردار کی حامل ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ہر بڑے آغاز کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
There is a woman at the beginning of all great Things.
قدیم تاریخ میں اس کی ایک شاندار مثال وہ خاتون ہیں جن کو ہاجرہ(Hagar) کہا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ بیسویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کی غیر معمولی قربانی سے عرب کے صحراب میں ایک اعلیٰ درجہ کی نسل تیار ہوئی۔ اس نسل نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کو قبول کرکے وہ جدوجہد کی جس کے نتیجہ میں تاریخ کا عظیم ترین انقلاب برپا ہوا۔
حج کے ارکان میں سے ایک رکن وہ ہے جس کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کہا جاتا ہے۔ یہ دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان تقریباً395 میٹر کا فاصلہ ہے۔ اس کے علاوہ ہر روز دنیا بھر سے عمرہ کرنے والے عمرہ کرنے کے لیے مکہ پہنچتے ہیں اور وہ بھی طواف کعبہ کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ اس طرح صفا و مروہ کے درمیان سعی کا یہ سلسلہ سارے سال جاری رہتا ہے۔
یہ سعی کیا ہے جس کو تمام مسلمان، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، پوری وفاداری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ یہ اسی عظیم خاتون ہاجرہ کے نقش کی پیروی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے ہاجرہ کو ان کے چھوٹے بچہ کے ساتھ مکہ کے پاس صحرا میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت ان کے پاس صرف ایک مشک پانی تھا۔ مشک جب خالی ہوگئی تو پانی کی تلاش میں وہ اس پہاڑی سے اس پہاڑی تک سات بار دوڑی تھیں۔ ان کی یہ دوڑ ان کی عظیم قربانی کا ایک حصہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کو یہ قربانی اتنا زیادہ پسند آئی کہ اس کو حج کے ارکان میں شامل کر دیا گیا اور دنیا بھر کے تمام مسلمانوں پر لازم کر دیا گیا کہ وہ جب حج یا عمرہ کے لیے مکہ آئیں تو اس خاتون کی تقلید میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت ہاجرہ کی قربانی سے ایک تاریخ کا آغاز ہوا۔ انہوں نے تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کی ابتدائی بنیاد رکھی۔ گویا کہ انسانی تاریخ میں ان کی حیثیت بانی انقلاب کی ہے۔ ان کی اسی قربانی کی بنا پر تمام انسانوں کو ان کے نقش قدم کی پیروی کا حکم دے دیا گیا۔
دور قدیم میں شرک کا رواج اتنا بڑھا کہ وہ تہذیب انسانی میں شامل ہوگیا۔ تمام لوگوں کی سوچ مشرکانہ سوچ بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد ایک ہزاروں پیغمبر آئے جنہوں نے لوگوں کو توحید کی طرف بلایا۔ مگر انسانیت کا قافلہ اپنا راستہ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ اس سلسلہ میں آخری تجربہ حضرت ابراہیم کا تھا، انہوں نے قدیم عراق میں توحید کی دعوت دی۔ مگر لوگ فکری کنڈیشننگ کی وجہ سے شرک کے خلاف سوچنے کے لیے تیار نہ ہو سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قدیم زمانہ میں توحید کی دعوت فکری مرحلہ میں باقی رہی، وہ انقلاب کے مرحلہ تک نہ پہنچ سکی۔ کیونکہ موحدانہ انقلاب برپا کرنے کے لیے انسانوں کی ایک ٹیم مطلوب تھی، اور لوگوں کے عدم ایمان کی وجہ سے ٹیم بننے کی نوبت نہیں آئی۔
اب حضرت ابراہیم نے، وحی الٰہی کے مطابق، ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ کسی غیر آباد علاقہ میں ایک نسل تیار کی جائے۔ یہ نسل مشرکانہ تہذیب سے دور خالص فطرت کے ماحول میں پرورش پائے۔ تاکہ اس کی فطرت اپنی اصل حالت میں باقی رہے۔ اور پھر اس کے اندر توحید کی دعوت دے کر اس میں سے افراد کا تیار کیے جائیں جو توحید کی بنیاد پر عالمی انقلاب برپا کریں۔
اسی خاص منصوبہ کے تحت چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ کو انکے شیر خوار بچہ اسماعیل کے ساتھ عرب کے صحرا میں بسایا گیا۔ اسماعیل جب بڑے ہوئے تو انہوں نے ایک مناسب لڑکی تلاش کرکے اس سے نکاح کیا۔ پھر ان کی اولاد کے ذریعہ یہاں ایک نسل بننا شروع ہوئی۔ توالدو تناسل کی صورت میں یہ سلسلہ صدیوں تک جاری رہا۔ اس طرح صحرا کے فطری ماحول میں جو انسانی نسل تیار ہوئی اسی کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اپنے وقت پر ان کے درمیان محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ آپ نے ان لوگوں سے ایک طاقتور ٹیم تیار کی جس نے جدوجہ کرکے توحید کو فکری مرحلہ سے نکال کر انقلاب کے مرحلہ تک پہنچا دیا۔
اس عظیم منصوبہ کی ابتدا ایک مومنہ کی قربانی سے ہوتی ہے۔ حضرت ہاجرہؓ نے اپنے بچہ کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد ہو کر اس خدائی منصوبہ کو واقعہ بنایا۔ حضرت ہاجرہؓ کے اسی عظیم رول کی بنا پر ایسا ہے کہ حج اور عمرہ میں تمام دنیا کے مسلمان اس عظیم خاتون کے نقش قدم پر چل کر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا عمل انجام دیتے ہیں۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اگر عزم کر لے تو وہ کتنا بڑا رول ادا کر سکتی ہے۔