← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
سب سے زیادہ
Urdu · 6 min
صحیح بخاری میں ایک حدیث آئی ہے۔ مؤلف کتاب نے اپنے طریقہ کے مطابق اس کو کئی ابواب میں نقل کیا ہے۔ کتاب الکسوف میں جو روایت آتی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے: وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: بِكُفْرِهِنَّ. قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللهِ؟ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ(صحيح البخاري،حدیث نمبر 5197)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو جہنم دکھائی گئی تو میں نے اس سے زیادہ قبیح منظر کبھی نہیں دیکھا۔ اور میں نے دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں ہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیوں اے خدا کے رسولؐ، آپ نے فرمایا کہ اپنے کفر کی وجہ سے۔ پوچھا گیا کہ کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے شوہر(قریبی فرد) کا انکار کرتی ہیں۔ وہ احسان کا انکار کرتی ہیں۔ اگر تم ان میں سے کسی سے زمانہ بھر احسان کرو، پھر وہ تم سے کچھ دیکھے تو وہ کہہ دے گی کہ میں نے تم سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھا۔
hadithQuotes a hadith
عورت کی یہ کمزوری دراصل اس کی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال ہے۔ عورت فطری طور پر زیادہ جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہے کہ اس کو جب کسی سے کوئی خلاف مزاج بات پہنچتی ہے تو وہ بہت جلد بے قابو ہو جاتی ہے۔ اس وقت وہ پچھلی تمام اچھی باتوں کو بھلا بیٹھتی ہے اور ایسے سخت کلمات بولنے لگتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کبھی خیر یا مہربانی کا معاملہ ہی نہیں کیا گیا۔
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو دو الگ الگ کام کے لیے پیدا کیا ہے۔ مرد دنیا کے کاروبار کو سنبھالنے کے لیے ہے۔ اور عورت بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے۔ اسی کے مطابق دونوں کی سرشت بنائی گئی ہے۔ چنانچہ مرد میں عزم کی خصوصی صلاحیت ہے۔ تاکہ وہ باہر کے طوفانی حالات کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔ اور عورت کے اندر جذبہ یا عاطفہ زیادہ رکھا گیا ہے، تاکہ بچوں کو سنبھالنے کا نازک کام اس کے لیے آسان ہو جائے۔
مرد اور عورت دونوں اس دنیا میں حالت امتحان ہیں۔ البتہ دونوں کے لیے امتحان کے پرچے کسی قدر الگ الگ ہیں۔ اس اعتبار سے مرد اور عورت دونوں میں انحراف پیدا ہوتا ہے مگر دونوں کے انحراف کی صورتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
مرد کا انحراف انانیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور عورت کا انحراف، مذکورہ حدیث کے مطابق، بے اعترافی کی صورت میں، انانیت بھی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال ہے اور بے اعترافی بھی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال۔
یہ حدیث عورت کو متنبہ کر رہی ہے کہ وہ کون سا مقام ہے جہاں عورت سب سے زیادہ نازک پوزیشن میں ہے اور کس معاملہ میں اس کو سب سے زیادہ چوکنا رہنا چاہیے۔ یہ مقام وہ ہے جب کہ اس کا شوہر(یا اس کے خاندان کا کوئی قریبی فرد) کوئی ایسی چیز کرے یا کوئی ایسی بات کہہ دے جس سے عورت کے دل کو ٹھیس پہنچے۔ ایسے موقع پر عورت کے اندر شدید جذبات ابھر آتے ہیں، حتیٰ کہ وہ بھول جاتی ہے کہ اس سے پہلے ہزاروں بار اسی شوہر(یا اسی فرد خاندان) سے اس کو بھلائی اور مہربانی ملی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایسے جذباتی موقع پر عورت جنت اور جہنم کے عین درمیان پہنچ جاتی ہے۔ اگر وہ جذبات کے وقتی جھٹکے کو برداشت کر لے اور وہ بات کہے جو انصاف کا تقاضا ہے تو اس کی یہ صابرانہ روش اس کے لیے جنت میں داخلہ کا ٹکٹ بن جائے گی۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ جذبات اس کے اوپر غالب آ جائیں، وہ احسان فراموشی کے کلمات بولنے لگے یا قطع تعلق کر بیٹھے تو ایسی روش اس کو جہنم کی آگ میں داخل کرنے کا سبب بن جائے گی۔
اس دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد امتحان کی حالت میں ہے۔ یہاں ہر ایک کو سب سے زیادہ اس بات کے لیے چوکنا رہنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے لیے امتحان کا لمحہ آئے اور وہ اس امتحانی لمحہ پر فیل ہو جائے، وہ اپنی کامیابی کا ثبوت نہ دے سکے۔
اس امتحان کا سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ ہے جب کہ کسی عورت یا مرد پر جذبات کا غلبہ ہو جائے اور وہ جذبات کے زیر اثر صحیح روش پر قائم رہنے میں ناکام رہے۔
غلط فہمی
صحیح مسلم کتاب الصلاۃ(باب مایقال فی الرکوع والسجود) میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہؓ نے بتایا کہ ایک رات کو میں نے رسول اللہؐ کو اپنے پاس نہ پایا۔ میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے پاس گئے ہیں۔ چنانچہ میں نے آپ کو ڈھونڈا۔ پھر میں لوٹی تو آپ رکوع یا سجدہ میں تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ خدایا، تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ پر قربان، میں کس خیال میں تھی اور آپ کسی اور حال میں ہیں: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ. فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ - أَوْ سَاجِدٌ - يَقُولُ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ (صحيح مسلم،حدیث نمبر 485)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ غلط فہمی کتنی خطرناک چیز ہے۔ حضرت عائشہؓ ہر لحاظ سے ایک افضل خاتون تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت پیغمبراعظم کی تھی، اس کے باوجود حضرت عائشہؓ کو آپ کے بارے میں ایک ایسی غلط فہمی ہوگئی جس کا سرے سے کوئی وجود نہ تھا۔
حضرت عائشہؓ نے رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرہ میں نہیں پایا تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ آپ کسی اور بیوی کے یہاں چلے گئے ہیں، حالانکہ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ چونکہ یہ رات کا وقت تھا، حضرت عائشہؓ نے رسول اللہؐ کی غیر موجودگی سے یہ قیاس کیا کہ آپ کو اپنی کسی زوجہ کی یاد آئی اور آپ وہاں چلے گئے۔ حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ آپ کو خدا کی یاد آئی تھی اور آپ خدا کے آگے رکوع و سجود کے لیے مسجد میں چلے گئے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
غلط فہمی ہمیشہ کسی ظاہری مشابہت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ بظاہر مشابہت کے باوجود، غلط فہمی کتنی زیادہ بے اصل ہو سکتی ہے۔
گھریلو زندگی میں جو بگاڑ پیدا ہوتے ہیں اور جو کبھی کبھی اتنا بڑھتے ہیں کہ پورا خاندانی نظام منتشر ہو جاتا ہے، ان کا سبب بیشتر حالات میں غلط فہمی ہوتا ہے۔ غلط فہمی پیدا ہونے کے بعد اگر سنجیدگی کے ساتھ اس کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ محض بے بنیاد تھی۔ اس طرح پہلے ہی مرحلہ میں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن اکثر لوگ غلط فہمی کی تحقیق نہیں کرتے۔ اس طرح ایک بے بنیاد چیز بڑھ کر بگاڑ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
مذکورہ واقعہ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے ایک چشم کشا واقعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مقدس خاتون جب غلط فہمی میں پڑ سکتی ہے تو عام عورت اور عام مرد کیوں غلط فہمی میں نہیں پڑیں گے۔ اس لیے جب بھی کسی کے خلاف کوئی برا خیال ذہن میں آئے تو کبھی اس کو دل میں بٹھانا نہیں چاہیے۔ بلکہ اس کی تحقیق کرنا چاہیے۔ اور تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئے اس کو فوراً مان لینا چاہیے۔ اس طرح گھر کی زندگی بگاڑ اور انتشار سے بچی رہے گی۔
غلط فہمی کا صرف یہی نقصان نہیں ہے کہ وہ گھر کے نظام کو بگاڑنے والی ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک سخت گناہ بھی ہے۔ کسی کے بارے میں ایسا گمان کر لینا جو فی الواقع درست نہ ہو، وہ اللہ کو بیحد ناپسند ہے۔ حتی کہ یہ بھی اندیشہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں عورت یا مرد کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
غلط فہمی کو ماننے کا مزاج آدمی کی شخصیت کو بھی سخت نقصان پہنچاتا ہے۔ جو عورت یا مرد اس کمزوری کا شکار ہوں کہ وہ آسانی سے کسی کے بارے میں غلط فہمی میں پڑ جائیں اور پھر اپنے ذہن کی صفائی نہ کریں وہ دھیرے دھیرے نہایت سطحی ہو جائیں گے۔ انسانو ں کے لیے ان کے دل میں خیر خواہی نہیں ہوگی۔ وہ ایک غیر حقیقی دنیا میں جینے لگیں گے۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
غلط فہمی انسانی تعلقات کے لیے قاتل ہے۔ غلط فہمی سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہے۔ غلط فہمی دو گروہوں کو لڑا دیتی ہے۔ غلط فہمی عظیم بربادیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ تاہم اس ہولناک برائی کا علاج نہایت آسان ہے۔ اور وہ تحقیق ہے۔ جب بھی آپ کو کسی کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہو تو آپ فوراً اس کو مان نہ لیں بلکہ براہ راست ذرائع سے اس کی تحقیق کریں۔ اس کے بعد یقینی ہے کہ آپ کی غلط فہمی رفع ہو جائے گی اور آپ کی حفاظت گناہ سے بھی ہو جائے گی اور غلط اقدام سے بھی۔