← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
پیغمبرانہ نصیحت
Urdu · 6 min
صحیح مسلم(باب الوصیۃ بالنساء) میں حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ کوئی مومن کسی مومنہ سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی کوئی خصلت اس کو ناپسند ہوگی تو کوئی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہوگی(لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً. إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ) صحيح مسلم،حدیث نمبر 1469۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ حدیث بظاہر عورت کے بارے میں ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود مرد کے بارے میں بھی ہے۔ یہ ایک فطری اصول ہے جس کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ مرد کو بھی عورت کے ساتھ اسی اصول کے مطابق معاملہ کرنا ہے اور عورت کو بھی مرد کے معاملہ میں اسی اصول کو اختیار کرنا ہے۔
یہ فطرت کا نظام ہے کہ کسی بھی مرد یا عورت کو ہر صفت نہیں دی جاتی۔ اس دنیا میں نہ کوئی ہر اعتبار سے بے صلاحیت پیدا ہوتا ہے اور نہ کوئی ہر اعتبار سے کامل۔ کسی کے اندر اگر ایک خصوصیت پائی جا رہی ہے تو اس کے اندر دوسری صفت مفقود ہوگی۔ ایسی حالت میں کوئی اگر ایسی چیز چاہے جو فطرت کے نظام میں موجود نہیں ہے تو اس کا ایسا چاہنا بے معنی ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسی چیز کا طالب ہے جو یہاں قابل حصول ہی نہیں۔
ایک شخص کو اگر ایسی بیوی ملے جس میں ظاہری کشش کم ہوتو اس کو ایسی خاتون سے نفرت نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ یقینی ہے کہ اس کے اندر عملی خصوصیات بہت زیادہ ہوں گی۔ کوئی خاتون اگر جلد غصہ میں آ جاتی ہوں تواس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جس کے اندر غصہ زیادہ ہوتا ہے اس کے اندر اصول پسندی، اخلاص اور دیانت داری کی صلاحیت بڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔
اگر آدمی بیزار ہونے کے بجائے قدردانی کی نگاہ سے دیکھے تو وہ پائے گا کہ اس کی رفیقۂ حیات میں کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں جو غیر موجود خصوصیت کے مقابلہ میں زیادہ قیمتی ہیں۔ وہ اپنی بیوی میں سطحی صفت دیکھنا چاہتا تھا، جب کہ قدرت نے اس کے اندر گہری صفت پیدا کر رکھی تھی۔ وہ اس کے اندر تفریحی پہلو کی تلاش کر رہا تھا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ایسے پہلو رکھ دیئے تھے جو زندگی کو بنانے اور گھر کو آباد کرنے کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کو شوق تھا کہ اس کی بیوی ظاہر کے اعتبار سے پرکشش ہو، مگر خدا وند عالم نے اس کے لیے ایسی بیوی مقدر کر دی جو باطن کے اعتبار سے پرکشش تھی، اور اول الذکر کے مقابلہ میں ثانی الذکر یقینا زیادہ اہم ہے۔
یہی معاملہ دوسری صورت میں عورت کے لیے بھی ہے۔ عورت کی بھی مختلف خواہشیں ہوتی ہیں وہ چاہتی ہے کہ میرا رفیق ایسا ہو اور ویسا نہ ہو۔ مگر اس کو بھی تقدیر کے اوپر راضی ہونا ہے۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ جو شخصیت اسے ملی ہے وہ اس سے زیادہ قیمتی ہو جس کو وہ چاہتی تھی۔
مثلاً ایک عورت کی خواہش تھی کہ اس کا شوہر دولت مند ہو، مگر تقدیر نے اس کو دولت مند شوہر نہیں دیا۔ مگر اس پر غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ایک شخص کے پاس اگر زیادہ دولت نہ ہو تو کچھ اور چیزیں اس کے پاس دولت مندوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ مثلاً سنجیدگی، حساسیت، تواضع، ہمدردی، جدوجہد کا جذبہ، وغیرہ۔ اور یہ دوسری چیزیں یقینی طور پر دولت سے زیادہ قیمتی ہیں۔
اسی طرح مثلاً ایک عورت کو ایسا خاوند ملا ہے جو نسب کے اعتبار سے زیادہ اونچا نہیں ہے۔ جب کہ عورت کی خواہش تھی کہ اس کو عالی نسب خاوند ملے۔ اس فرق کی بنا پر عورت اگر اپنے خاوند کو کم سمجھنے لگے تو وہ بہت بڑی نادانی کرے گی۔ کیونکہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ عالی نسب ہوتے ہیں وہ اخلاق اور انسانیت میں زیادہ اونچے نہیں ہوتے۔ وہ اپنے کو دوسروں سے اونچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا یہ احساس ان کے اندر طرح طرح کی برائیاں پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی اس فخر سے خالی ہو کہ وہ اعلیٰ حسب و نسب والا ہے، وہ نسبتاً زیادہ حقیقت پسند اور فرض شناس اور دوسروں کی رعایت کرنے والا ہوتا ہے۔
اس دنیا میں کوئی بھی اچھی چیز خرابیوں سے پاک نہیں، اسی طرح کوئی بھی معمولی چیز خوبیوں سے خالی نہیں۔ اس لیے عورت اور مرد کو چاہیے کہ اپنی ملی ہوئی چیز ہی میں خوبیاں تلاش کریں، نہ کہ اس کو چھوڑ کر کسی اور چیز کی طرف دوڑنا شروع کر دیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو کبھی مایوسی میں نہیں پڑنا چاہیے۔ کیونکہ ہر بظاہر مایوسی کے واقعہ میں اللہ نے امید کا ایک پہلو چھپا دیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it