Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

انتظار کیجئے

Urdu · 6 min

قرآن کی سورۃ نمبر65 میں طلاق اور اس سے پیدا شدہ مسائل کا ذکر ہے۔ اس ذیل میں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ باہمی معاملات کو ہمدردی اور فراخ دلی کے ساتھ طے کرو۔ جب دو آدمیوں میں تفریق ہوتی ہے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ چیز اپنے لیے سمیٹے۔ کیونکہ اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ جو میرے پاس ہے وہی میرا ہے، اور جو دوسرے کے پاس چلا گیا وہ میرا نہیں رہا۔ اس لیے اپنے فائدہ کو محفوظ رکھنے کے لیے دوسرے کے ساتھ وہ تنگ نظری کا معاملہ کرنے لگتا ہے۔

اس سلسلہ میں دونوں فریقوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وأتمِروابینکم بمعروف(اور تم آپس میں ایک دوسرے کو نیکی سکھاؤ) اس روش میں بظاہر اپنے لیے گھاٹے کی صورت دکھائی دے رہی تھی، چنانچہ فرمایا کہ حوصلہ سے کام لو، اللہ تمہارے لیے مشکل کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا(يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْراً)65:7۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس ہدایت کا تعلق صرف طلاق کے معاملہ سے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام نزاعی معاملات سے ہے۔ جب بھی کسی مرد اور کسی عورت کے درمیان لین دین پر جھگڑا پیدا ہو تو ہر ایسے معاملہ میں لینے کے ساتھ دینے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ اس روش کے نتیجہ میں اگر کچھ نقصان دکھائی دے تواس کو وقتی سمجھ کر اس پر راضی ہو جانا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں اضافہ کے ساتھ اس کے نقصان کی تلافی کی جائے گی۔

اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں انتظار بھی ایک مستقل پالیسی ہے۔ دنیا کا نظام جس قانون الٰہی کی بنیاد پر چل رہاہے وہ یہ ہے کہ یہاں لازماً ہر شام کے بعد نئی صبح نمودار ہو۔ لوگ شر پھیلائیں تب بھی اس میں سے خیر برآمد ہو۔ کسی کو نقصان کا تجربہ ہو تب بھی زمانہ کی گردش دوبارہ اس کے لیے نفع کی صورتیں پیدا کر دے۔

اس دنیا میں انتظار سادہ طور پر محض انتظار نہیں ہے، وہ شام کے بعد صبح کے انتظار کے ہم معنی ہے۔ وہ خدائی نظام سے اس چیز کو پانے کی امید کرنا ہے جس کو آدمی اپنی طاقت سے حاصل نہیں کر سکا تھا۔ انتظار بے عملی نہیں، انتظار خود ایک عمل ہے۔ اگرچہ یہ ذہنی عمل زیادہ تر سوچ کی سطح پر انجام پاتا ہے۔

صبح کو کوئی کھینچ کر نہیں لاتا۔ وہ کسی کوصرف انتظار کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ کھیت اور باغ کی فصل جو ایک کسان کو ملتی ہے وہ بھی انتظار کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ کسان صرف یہ کرتا ہے کہ وہ زمین میں بیج ڈال دیتا ہے۔ اس کے بعد ہزاروں ہزار ضروری عمل ہیں جن کو فطرت بطور خود انجام دیتی ہے۔ کسان گویا زرخیز زمین میں بیج ڈال کر انتظار کرتا ہے کہ کب وہ وقت آئے جب زمین و آسمان کا نظام اپنے عمل کو مکمل کر ے اور قیمتی فصل اگا کر اس کے دامن میں ڈال دے۔

یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ قرآن کا یہ ارشاد کہ اللہ مشکل کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا۔ ایک عام قانون فطرت کااعلان ہے، ایک ایسا قانون فطرت جو ہمیشہ اپنا کام کرتا ہے، جس میں کبھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فطرت کے اس نظام پر آدمی کو اگر یقین ہو تو اس کے اندر جھنجلاہٹ اور مایوسی کا مکمل خاتمہ ہو جائے، وہ سراپا امید اور یقین میں جینے لگے۔

اگر آپ کو اس حقیقت کا یقین ہو جائے تو آپ کوکسی کی ضد کے مقابلہ میں اپنا فائدہ چھوڑنا گھاٹے کا سودا معلوم نہیں ہوگا، کیونکہ آپ جانیں گے کہ اس کی حسن تلافی عنقریب خدا کی طرف سے کی جانے والی ہے۔ وقار کی قربانی آپ کو قربانی معلوم نہیں ہوگی۔ کیونکہ آپ کو یقین ہوگا کہ بہت جلد اس کا معاوضہ اضافہ کے ساتھ ملنے والا ہے۔ کسی کی اشتعال انگیزی پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل نہیں رہے گا۔ کیوں کہ آپ کو دکھائی دے گا کہ اس صبر کے پیچھے خدا کی عظیم نصرت میری طرف چلی آ رہی ہے۔

انتظار بے عملی نہیں، انتظار خدا کی اس دنیا میں ایک مثبت پالیسی ہے۔ انتظار ہمت ہارنا نہیں ہے، انتظار اس بلند ہمتی کا ثبوت دینا ہے کہ آپ وقتی ہیجان سے اوپر اٹھ گئے ہیں اور مستقبل بینی کی بصیرت کے حامل ہیں۔ انتظار فریق ثانی کے مقابلہ میں ہتھیار نہیں ہے۔ انتظار یہ ہے کہ فریق ثانی سے مقابلہ کے لیے آپ نے اپنی ذات کو ہٹا دیا اور خدا وند عالم کو اپنی جگہ کے اوپر کھڑا کر دیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content