اصمعی دوسری صدی ہجری کا مشہور لغوی عالم ہے۔ اس کو عربی الفاظ کا لغت جمع کرتے ہوئے"دَمدَمَ" کے معنی کی تلاش ہوئی۔ یہ لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے(فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاها) 91:14۔یعنی، پھر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب ان پر ہلاکت نازل کی، پھر سب کو برابر کردیا۔ اصمعی یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس لفظ کا خاص مفہوم کیا ہے اور عرب اس کو کس موقع پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایسا کر سکتا تھا کہ کسی بدو کو پکڑتا اور اس سے پوچھتا کہ تم لوگ دَمدَمَ کا لفظ کس موقع پر بولتے ہو۔ مگر وہ جو کچھ بتاتا وہ اصمعی کو خود بھی معلوم تھا۔ اصمعی کو تو اصل میں یہ جاننا تھا کہ وہ کون سا موقع ہے جب کہ ایک عرب بے ساختہ طور پر یہ لفظ بول پڑتا ہے۔ اور یہ بات پوچھ کر جانی نہیں جا سکتی۔ وہ تو صرف اس طرح جانی جا سکتی ہے کہ فطری حالات میں ایسا کوئی لمحہ آئے جبکہ ایک عرب یہ لفظ بولے اور وہاں وہ سننے کے لئے موجود ہو۔
اس مقصد کے لئے اصمعی ایک خانہ بدوش عرب خاندان کے ساتھ لگ گیا۔ وہ خاندان جہاں جاتا اسی کے ساتھااصمعی بھی اس کے ساتھ ہوتا اور ہر وقت اس انتظار میں رہتا کہ کب وہ موقع آئے جب کہ عرب بدو بے ساختہ طور پر یہ لفظ بول پڑے۔ وہ یہاں وہاں پھرتا رہال۔ یہاں تک کہ اسی میں تقریباً چھ ماہ گزر گئے اور بدو کی زبان سے دَمدَمَ کا لفظ اس کو سننے کو نہ ملا۔ آخر ایک روز ایسا ہوا کہ بدو نے ایک مقام پر اپنا خیمہ گاڑ رکھا تھا۔ خیمہ کے اندر سالن کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی، بدو مرد خیمہ کے اندر تھا اور کس کی عورت خیمہ کے باہر کوئی کام کر رہی تھی۔ پکتے پکتے ہانڈی نقطہ جوش پر آئی اور اس میں ابال آگیا۔ عرب بدو نے یہ دیکھ کر اپنی بیوی کو خبردار کرنے کے لئے بآواز بلند کہادَمدَمت (ہانڈی ابل گئی) اصمعی نے یہ سنا تو چلاتے ہوئے خیمہ سے نکل پڑا۔
واللّٰہ وجدت واللّٰہِ وجدتُ(خدا کی قسم میں پا گیا خدا کی قسم میں پا گیا)
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون سا شوق اور حوصلہ مندی تھی جن کی وجہ سے دور اول کے مسلمانوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے۔ یہ تھا فائدہ اور شہرت کی چاشنی کے بغیر صرف مقصد کی خاطر محنتیں کرنا۔ موجودہ زمانہ میں بھی بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں مگر وہ سب بے نتیجہ ہوتی جا رہی ہیں۔ کیونکہ آج کا آدمی صرف وہاں سرگرم ہوتا ہے جہاں ذاتی فائدہ یا ذاتی شہرت و مقبولیت کی چاشنی ہو۔ صرف مقصد کی خاطر متحرک ہونا کوئی نہیں جانتا۔
جس قوم کے افراد میں اس قسم کا شوق اور حوصلہ ہو وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ ابتدائی دور میں مسلمانوں کے اندر یہی بلند حوصلگی تھی جس کی وجہ سے مسلمان اس زمانہ میں دنیا کے سب سے طاقت ور گروہ بن گئے۔ موجودہ زمانہ میں سطحیت اور خود پسندی اتنی بڑھ گئی ہے کہ کوئی اس قسم کی ’’بے فائدہ‘‘ محنت میں اپنا وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔ اور بلاشبہ یہی اخلاقی زوال موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
عام انسان کو یا خوف متحرک کرتا ہے یا خود غرضی۔ مگر ایسے لوگ کوئی تاریخ نہیں بناتے۔ تاریخ صرف وہ لوگ بناتے ہیں جو حوصلہ اور مقصد کی خاطر متحرک ہونا جانتے ہوں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔