مشرقی بنگال مسلم دور حکومت میں دہلی کی مرکزی سلطنت کے ماتحت تھا۔ درمیان میں کئی بار ایسا ہوا کہ وہاں کا گورنر مرکز سے باغی ہو کر خود بادشاہ بن بیٹھا۔ انہیں میں سے ایک سلطان غیاث الدین ہے جس نے دہلی کی مرکزی سلطنت سے بغاوت کرکے مشرقی بنگال میں خود مختار حکومت قائم کر لی تھی۔ اس زمانہ میں ڈھاکہ کا شہر وجود میں نہ آیا تھا اور حکومت کا مستقر سونار گاؤں تھا۔ اس مسلمان بادشاہ کا ایک واقعہ ایک انگریز مورخ ایف بی بریڈلے برٹ (Bradley Birt) نے نقل کیا ہے۔ اس کی کتاب DACCA: The Romance of one Eastern Capital کے دوسر اڈیشن مطبوعہ لندن1914 میں یہ واقعہ اس طرح درج ہے
’’ایک دن شاہ غیاث الدین تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا۔ اتفاق سے اس کے تیرے سے ایک بیوہ عورت کا اکلوتا لڑکا زخمی ہوگیا۔ بیوہ عورت کو معلوم نہ تھا کہ یہ تیر بادشاہ نے چلایا ہے۔ وہ قاضی شرع کے پاس فریاد لے کر گئی۔ قاضی نے اپنی فراست سے اندازہ لگایا کہ یہ تیر بادشاہ کا ہی چلایا ہوا تھا۔ وہ دیر تک مذبذب رہا کہ بادشاہ کے خوف اور خوف خدا میں سے کس کو ترجیح دوں۔ بالآخر خدا کا خوف قاضی صاحب پر غالب آیا اور انہوں نے بادشاہ کو جواب دہی کے لئے اپنی عدالت میں طلب کیا۔ بادشاہ کو جونہی بلاوا پہنچا وہ بلا کسی تامل کے قاضی کی عدالت کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن اس نے اپنے کپڑوں میں ایک چھوٹی سی تلوار بھی چھپا لی۔ قاضی صاحب نے عدالت میں بادشاہ کا کسی قسم کا احترام نہیں کیا۔ اور معاملہ کی جانچ کے بعد حکم دیا کہ وہ اس بیوہ عورت کو معقول مالی معاوضہ دے کر اس سے اپنا قصور معاف کرائے۔ بادشاہ نے بے چون و چرا اس حکم کی تعمیل کی اور بیوہ عورت کو ایک بڑی رقم پیش کرکے اس سے اپنا قصور معاف کرایا۔ مقدمہ ختم ہونے کے بعد قاضی صاحب اپنی کرسی عدالت سے اٹھ کر بادشاہ کے قدموں پر گر پڑے۔ بادشاہ نے فوراً انہیں اٹھایا اور وہ تلوار ان کو دکھائی جو وہ اپنے کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھا اور کہا کہ یہ تلوار میں اس لئے لایا تھا کہ اگر تم میرے اس مقدمہ میں شریعت کے حکم ے ذرا بھی روگردانی کرو گے تو میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ لیکن تم نے شرع کے مطابق فیصلہ صادر کرنے میں میرا کوئی خوف نہیں کیا اس کے لئے تم انتہائی اعزاز کے مستحق ہو(صفحہ56-55)
شریعت کی پابندی کی یہ مثال قائم کرنے والے بادشاہ کا مقبرہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت تک سونار گاؤں میں موجود تھا(صدق جدید2 مئی 1980ء)
کسی قوم کی ترقی کا راز یہ ہے کہ اس کے اندر اس قسم کے زندہ افراد موجود ہوں۔ زندہ افراد کی موجودگی سے قوم زندہ ہوتی ہے اور زندہ افراد نہ ہونے سے قوم مر جاتی ہے۔ زندہ آدمی وہ ہے جو مصلحت کے مقابلہ میں اصول کو اہمیت دیتا ہو۔ جو اپنی غلطی پر عذرات اور توجیہات کا پردہ ڈالنے کے بجائے اس کو مان لیتا ہو، جو ذاتی شکایت کو نظر اندا کر دے نہ کہ اس کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھ لے۔ جو اس وقت بھی ایک انسان کی قدر کر سکے جب کہ اس نے اس کے خلاف کارروائی کی ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔