← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
عزت کیسے ملتی ہے
Urdu · 8 min
16ھ میں مسلمان فوجیں حضرت ابو عبیدہؓ کی قیادت میں شام کو فتح کرتے ہوئے فلسطین تک پہنچ گئیں۔ عیسائی بیت المقدس میں قلعہ بند ہوگئے اور مسلم فوجوں نے اس کو اپنے محاصرہ میں لے لیا۔ اس وقت عیسائیوں کی طرف سے صلح کی پیش کش ہوئی جس میں ایک خاص شرط یہ تھی کہ خلیفہ(عمر فاروقؓ) خود آ کر عہد نامہ کی تکمیل کریں۔ حضرت ابوعبیدہ نے عیسائیوں کی اس پیش کش سے خلیفہ دوم کو مطلع کیا۔ آپ نے اصحاب سے مشورہ کیا اوربالآخر مدینہ سے نکل کر فلسطین کے لئے روانہ ہوئے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ ایک اونٹ تھا اور ایک خادم۔ جب آپ مدینہ کے باہر پہنچے تو آپ نے خادم سے کہا۔ ہم دو ہیں اور سواری ایک ہے۔ اگر میں سواری پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمہارے اوپر ظلم کروں گا۔ اور اگر تم سواری پر بیٹھو اور میں پیدل چلو ںتو تم میرے اوپر ظلم کرو گے۔ اگر ہم دونوں اکٹھے سوار ہو جائیں تو ہم جانور کی پیٹھ توڑ ڈالیں گے۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم راستہ کی تین باریاں مقرر کر لیں۔ چنانچہ سارا سفر اس طرح طے ہوا کہ ایک بار عمر فاروق بیٹھتے اور خادم اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلتا۔ پھر خادم بیٹھتا اور عمر فاروقؓ اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلتے۔ اس کے بعد کچھ دور تک اونٹ خالی چلتا اور دونوں اس کے ساتھ پیدل چل رہے ہوتے۔ اس طرح سارا سفر طے ہوتا رہا۔
حاکم نے روایت کیا ہے کہ اس سفر کے دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ جب آپ اسلامی لشکر سے ملے تو ان لوگوں نے دیکھا کہ آپ ایک تہ بند باندھے ہوئے ہیں اور کسی قسم کا کوئی سامان آپ کے پاس نہیں ہے۔ حضرت ابوعبیدہ (فوج کے افسر اعلیٰ) نے کہا کہ اے امیر المومنین آپ کو عیسائیوں کے فوجی افسروں اور ان کے مذہبی عہدیداروں سے ملنا ہے اور آپ اس حال میں ہیں۔ عمر فاروق نے کہا: اے ابو عبیدہ، کاش یہ بات تمہارے سوا کوئی اور کہتا۔ ہم دنیا میں سب سے پست قوم تھے پھر اللہ نے اسلام کے ذریعہ ہم کو عزت دی۔ جب بھی ہم اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ عزت چاہیں گے تو اللہ ہم کو ذلیل کر دے گا(إِنَّا كُنَّا أَذَلَّ قَوْمٍ، فَأَعَزَّنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، فَمَهْمَا نَطْلُبِ الْعِزَّ بِغَيْرِ مَا أَعَزَّنَا اللَّهُ بِهِ، أَذَلَّنَا اللَّهُ) مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 207
quoted sourceQuoted from another author or source
عزت اور ذلت کو اللہ کی طرف سے سمجھنا ایک ایسا عقیدہ ہے جو آدمی کو بغیر کسی ہتھیار کے ہتھیار والا بنا دیتا ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو ایک ایسی خوداعتمادی سکھاتا ہے جو کسی خارجی سہارے کے بغیر اپنی اندرونی طاقت کے اوپر قائم ہوتی ہے اس کا خزانہ آدمی کے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر اور جس طاقت کی بنیاد اندرونی جذبہ پر ہو اس کو کوئی چھیننے والا کبھی چھین نہیں سکتا۔
ایک دعا
عمرو بن بحربن محبوب الکنانی(163-255ھ) بصرہ میں پیدا ہوئے اور وہیں انتقال کیا۔ وہ عام طور پر الجاحظ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا شمار ادب کے ائمہ میں ہوتا ہے۔ مطالعہ کے اتنے زیادہ حریص تھے کہ آخر عمر میں جب مفلوج ہو کر مرے تو ان کے سینہ پر کتاب رکھی ہوئی تھی۔ ان کی ایک کتاب ’’البیان والتبیین‘‘ ہے۔ اس کتاب کے مقدمہ میں انہوں نے یہ دعا لکھی ہے: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَوْلِ، كَمَا نَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْعَمَلِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّكَلُّفِ لِمَا لَا نُحْسِنُ، كَمَا نَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعُجْبِ بِمَا نُحْسِنُ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ السَّلَاطَةِ وَالْهَذَرِ، كَمَا نَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعِيِّ وَالْحَصَرِ( البيان والتبيين،جلد1،صفحہ 27)۔اے اللہ، ہم تجھ سے قول کے فتنہ سے اسی طرح پناہ مانگتے ہیں جس طرح ہم تجھ سے عمل کے فتنہ سے پناہ مانگتے ہیں۔ اور ہم تجھ سے اس کام کا بار اٹھانے سے پناہ مانگتے ہیں جس کو ہم بخوبی نہیں کر سکتے اور اسی طرح اس کام پر گھمنڈ سے پناہ مانگتے ہیں جس کو ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔ اور ہم تجھ سے زباں درازی اور لغوبات سے پناہ مانگتے ہیں جس طرح ہم تجھ سے کلام پر قادر نہ ہونے اور گفتگو میں عاجز ہو جانے سے پناہ مانگتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر چیز کے ساتھ کوئی نہ کوئی آزمائش کا پہلو لگا ہوا ہے۔ اس لیے وہ شخص جو خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو، اس کو ہر معاملہ میں خدا سے پناہ مانگنا چاہیے اور ہر معاملہ میں خدا کی مدد کا طلب ہونا چاہیے۔
اس دنیا کا اصل امتحان یہ نہیں ہے کہ آدمی نے کیا پایا اور کیاکھویا۔ یہاں اصل امتحان یہ ہے کہ کھونے یا پانے کے موقع پر اس نے کیا ردعمل(response) پیش کیا۔ اس کو قول کے معاملہ میں بھی اتنا ہی محتاط ہونا چاہیے جتنا کوئی شخص عمل کے معاملہ میں محتاط ہوتا ہے۔ اس کو اپنے کیے کو بھی اسی خانہ میں ڈالنا چاہیے جس خانہ میں وہ اپنے نہ کیے کو ڈالتا ہے۔ اس کو قدرت کے موقع پر اسی طرح عبدیت کا ثبوت دینا چاہیے جس طرح عجز کے موقع پر عبدیت کا ثبوت دیا جاتا ہے۔
اس دنیا میں کامیابی بھی آزمائش ہے اور ناکامی بھی آزمائش۔ یہاں عمل بھی جانچ کا لمحہ ہے اور بے عملی بھی جانچ کا لمحہ۔