Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

کھجور کی چپل پہننے والے

Urdu · 4 min

موجودہ افغانستان قدیم زمانہ میں سجستان کہا جاتا تھا۔ اس کا دارالسلطنت کابل تھا۔ یہاں ایک ترک راجہ کی حکومت تھی۔ وہ بدھ مذہب کو مانتا تھا اور اس کا خاندانی لقب رُتبیل(زَندپیل) تھا۔ یہ علاقہ امیر معاویہ کے زمانہ میں اسلامی خلافت میں شامل ہوا۔ رتبیل نے ابتداً اسلامی فوجوں سے مقابلہ کیا۔ اس کے بعد اس نے دس لاکھ درہم سالانہ خرچ پر معاہدہ کرے اپنے لئے امان حاصل کر لی۔ رتبیل ایک مدت تک خراج دیتا رہا۔ اس کے بعد اس نے خراج دینا بند کر دیا۔ اس کے علاقہ پر بار بار فوجیں بھیجی گئیں مگر وہ مطیع نہ ہوا۔

اس سلسلہ میں تاریخوں میں جو واقعات آتے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ یزید بن عبدالملک اموی(م105ھ) کے زمانہ میں جب خلافت دمشق کے کچھ نمائندے اس کے پاس خراج طلب کرنے کے لئے پہنچے تو اس نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’وہ لوگ کہاں گئے جو پہلے آیا کرتے تھے۔ ان کے پیٹ فاقہ کشوں کی طرح دبے ہوئے تھے۔ پیشانیوں پر سیاہ نشان پڑے رہتے تھے اور وہ کھجوروں کی چپلیں پہنا کرتے تھے‘‘ راوی کا بیان ہے کہ یہ کہہ کر رتبیل نے خراج دینے سے انکار کر دیا اور تقریباً چوتھائی صدی تک وہ اسلامی حکومت سے آزاد رہا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

صحابہ کے زمانہ کے سیدھے سادھے معمولی لوگ رتبیل کی نظر میں اس سے زیادہ طاقتور تھے جتنا کہ بنوامیہ کے زمانہ میں شان و شوکت والے لوگ۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی آدمی کی طاقت کا راز اس کے جسم پر دکھائی دینے والی ظاہری رونقیں نہیں ہیں بلکہ اس کی اندرونی صلاحیت ہے۔ یہ اندرونی صلاحیت پہلے کے لوگوں میں بہت زیادہ تھی اگرچہ ظاہری طور پر وہ معمولی حالت میں دکھائی دیتے تھے۔

طاقت ور وہ ہے جس کی ضروریات مختصر ہوں۔ جس کی آرزوئیں محدود ہوں۔ جو لذت اور جاہ کا طالب نہ ہو۔ جس کی تواضع میں تسکین ملتی ہو نہ کہ اپنے کو بڑا بنانے میں۔ ایسا آدمی نفسیاتی پیچیدگیوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے لئے صحیح فیصلہ کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ مصلحتوں کا خیال کبھی اس کا قدم نہیں روکتا۔ اپنے مقصد کی خاطر قربانی کی حد تک جانے میں اس کے لئے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس جو لوگ مصنوعی چیزوں میں گھرے ہوے ہوں وہ زندگی کی حقیقی معرفت سے محروم رہتے ہیں۔ غیر ضروری تکلفات ان کے لئے ایسا بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ نہ تو کسی بات کو صحیح رنگ میں دیکھ پاتے اور نہ اس میں اپنے آپ کو واقعی طور پر شامل کر سکتے۔ وہ ذات کے لئے زیادہ اور مقصد کے لئے کم ہو کر رہ جاتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content