پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کا اخلاق تمام امت کے لیے نمونہ ہے۔ آپ کا اخلاق کیا تھا، اس کی بابت قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بیشک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو (وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ)68:4۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امت کو اسی بلند اخلاقی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا۔ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 2007) تم لوگ امعہ نہ بنو کہ یہ کہنے لگو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا کریں تو ہم بھی اچھا کریں گے اور لوگ ہمارے اوپر ظلم کریں تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ آپ کو اس کے لیے آمادہ کرو کہ لوگ اچھا سلوک کریں تو تم بھی اچھا سلوک کرو اور اگر وہ برا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔
اچھے کے ساتھ اچھا اور برے کے ساتھ برا___ یہ لین دین والا اخلاق ہے۔ اس قسم کے اخلاق کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔ جو آدمی اپنے عمل کی قیمت دنیا ہی میں لے لے اس نے گویا دنیا ہی میں اپنا معاملہ برابر کر لیا۔ اس کے عمل کی آخرت میں کیا قیمت ہو سکتی ہے۔ حقیقی اخلاق وہ ہے جو اعلیٰ اخلاق ہو، جو اصول کی پابندی میں برتا گیا ہو نہ کہ مفاد اور مصلحت کی پابندی میں۔
اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی۔ بلکہ اخلاق اس کے لیے ناقابل تغیر اصول کی حیثیت رکھتا ہو۔ وہ دوسروں کے رویہ سے بے پروا ہو کر خود اپنے اصول کے تحت اپنی روش کا تعین کرے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے، خواہ دوسرے لوگ اس کے ساتھ برا سلوک ہی کیوںنہ کر رہے ہوں۔
یہی سچا اسلامی اخلاق ہے۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک بااصول انسان ہیں۔ حالات آپ کے کردار کا تعین نہیں کرتے بلکہ خود آپ کا سوچا سمجھا اصول آپ کے کردار کا تعین کرتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔