عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ( صحيح البخاري،حدیث نمبر 6018؛ صحيح مسلم،حدیث نمبر 47)۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ بہتر بات بولے ورنہ چپ رہے۔
جو شخص اللہ کو اس کے عظمت و جلال کے ساتھ مانے، جس کو یہ یقین ہو کہ قیامت کے دن اللہ اس کے ہر بول پر اس سے باز پرس کرنے والا ہے، وہ اپنی زبان کے بارے میں آخری حد تک محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ وہ خدا کے یہاں جائزہ لیے جانے سے پہلے خود اپنا جائزہ لینے لگتا ہے۔
یہ مزاج اس کو اپنا نگراں آپ بنا دیتا ہے۔ اس کی زبان پر خاموشی کا تالا لگ جاتا ہے۔ وہ صرف اس اس وقت بولتا ہے جب کہ بولنا فی الواقع ضروری ہو گیا ہو، اور جہاں حقیقی ضرورت نہ ہو وہاں وہ چپ رہنا پسند کرتا ہے۔
جو شخص اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایسا بن جائے، اس کی زبان جب کھلے گی تو بھلی بات ہی کے لیے کھلے گی۔ لغویا بے ہودہ بات کے لیے اس کی زبان اس طرح بند ہو جائے گی جیسے اس کے پاس بولنے کے لیے الفاظ ہی نہیں۔
بہتر بات سے مراد وہ بات ہے جس سے کسی خدائی سچائی کا اعلان ہوتا ہو۔ جس میں کسی مظلوم کی حمایت کی گئی ہو۔ جس سے انسانی بھلائی قائم کرنا مقصود ہو۔ جو خیرخواہی اور اصلاح کے جذبہ کے تحت ظاہر ہوئی ہو۔
اس کے برعکس غیر بہتر بات وہ ہے جس کا مقصد اپنے آپ کو نمایاں کرنا ہو۔ جس کے ذریعہ ظالم کی نائید چاہی گئی ہو۔ جو بدخواہی اور ظلم کے جذبہ کے تحت نکلی ہو۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ سویا ہوا فتنہ جاگ اٹھے اور خدا کی زمین میں فساد پھیل جائے۔
اللہ پر اور آخرت پر ایمان آدمی کو سنجیدہ اور ذمہ دار بناتا ہے۔ اور جو شخص حقیقی معنوں میں سنجیدہ اور ذمہ دار ہو جائے اس کا کلام ویسا ہی ہو جائے گا جس کا حدیث میں ذکر ہوا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔