قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین (21:107)کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ انا محمد …و نبی الرحمۃ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2355)
ایک طرف پیغمبر اسلام کی حیثیت کے بارے میں اس قسم کے کھلے بیانات ہیں۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میرا رزق میرے نیزہ کے سایہ کے نیچے رکھا گیا ہے (جُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي) صحيح البخاري،حدیث نمبر 2913۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ (مسند احمد، حدیث نمبر 5115)۔ یعنی میں قیامت سے پہلے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ۔
یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ درحقیقت دو الگ الگ پہلو ہیں۔ رحمت کی بات ایک پہلو سے کہی ہے اور سیف کی بات دوسرے پہلو سے۔
اصل یہ ہے کہ صرف پیغمبر اسلامؐ ہی رحمت کے پیغمبر نہ تھے۔ بلکہ خدا نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب پیغمبر رحمت ہی تھے۔ سب کے سب دینِ رحمت ہی لے کر آئے۔ مثال کے طور پر قرآن میں حضرت موسیؑ کی کتاب کو رحمت فرمایا گیا ہے (11:17) ۔مگر فرق یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ کوئی طاقت ور ٹیم تیار نہ ہو سکی جو پیغمبروں کے مشن کے حق میں موثر طور پر حمایت اور دفاع کا کام کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کے مشن کو مخالفین نے عملی طور پر آگے بڑھنے نہیں دیا۔ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں خدا کا دین صرف فکری تحریک کے مرحلہ میں رہا، وہ فکری انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔
اس کے برعکس پیغمبر اسلام کو خدا کی مدد سے ’’اصحاب سیف‘‘ بالفاظ دیگر، طاقت ور حمایت گروہ حاصل ہو گیا۔ چنانچہ مخالفین نے جب جارحیت کر کے آپ کے پرامن مشن کو دبانا اور مٹانا چاہا تو آپ بھی اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پوزیشن میں تھے کہ ان کی جارحیت کا موثر جواب دے کر ان کے مخالفانہ عزائم کو ناکام بنا دیں۔
مذکورہ قسم کی احادیث میں نیزہ اور تلوار کا لفظ آپ کی دفاعی طاقت کو بتانے کے لیے ہے نہ کہ آپؐ کی اصل پیغمبرانہ حیثیت کو بتانے کے لیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔