Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deen-e-Insaniayat
Deen-e-Insaniayat

رحمت ، سیف

Urdu · 3 min

قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین (21:107)کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ انا محمد …و نبی الرحمۃ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2355)

quoted sourceQuoted from another author or source

ایک طرف پیغمبر اسلام کی حیثیت کے بارے میں اس قسم کے کھلے بیانات ہیں۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میرا رزق میرے نیزہ کے سایہ کے نیچے رکھا گیا ہے (جُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي) صحيح البخاري،حدیث نمبر 2913۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:بُعِثْتُ بَيْنَ ‌يَدَيِ ‌السَّاعَةِ ‌بِالسَّيْفِ (مسند احمد، حدیث نمبر 5115)۔ یعنی میں قیامت سے پہلے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں ۔

hadithQuotes a hadith

یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ درحقیقت دو الگ الگ پہلو ہیں۔ رحمت کی بات ایک پہلو سے کہی ہے اور سیف کی بات دوسرے پہلو سے۔

اصل یہ ہے کہ صرف پیغمبر اسلامؐ ہی رحمت کے پیغمبر نہ تھے۔ بلکہ خدا نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب پیغمبر رحمت ہی تھے۔ سب کے سب دینِ رحمت ہی لے کر آئے۔ مثال کے طور پر قرآن میں حضرت موسیؑ کی کتاب کو رحمت فرمایا گیا ہے (11:17) ۔مگر فرق یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ کوئی طاقت ور ٹیم تیار نہ ہو سکی جو پیغمبروں کے مشن کے حق میں موثر طور پر حمایت اور دفاع کا کام کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کے مشن کو مخالفین نے عملی طور پر آگے بڑھنے نہیں دیا۔ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں خدا کا دین صرف فکری تحریک کے مرحلہ میں رہا، وہ فکری انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے برعکس پیغمبر اسلام کو خدا کی مدد سے ’’اصحاب سیف‘‘ بالفاظ دیگر، طاقت ور حمایت گروہ حاصل ہو گیا۔ چنانچہ مخالفین نے جب جارحیت کر کے آپ کے پرامن مشن کو دبانا اور مٹانا چاہا تو آپ بھی اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پوزیشن میں تھے کہ ان کی جارحیت کا موثر جواب دے کر ان کے مخالفانہ عزائم کو ناکام بنا دیں۔

مذکورہ قسم کی احادیث میں نیزہ اور تلوار کا لفظ آپ کی دفاعی طاقت کو بتانے کے لیے ہے نہ کہ آپؐ کی اصل پیغمبرانہ حیثیت کو بتانے کے لیے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content