← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
افکار کا ٹکراؤ
Urdu · 7 min
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو زمین پر بسایا تو پیشگی طور پر ان کو بتا دیا کہ نسلِ انسانی ایک دوسرے کی دشمن ہو گی (بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ) 2:36 ۔یہ گویا خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک اعلان تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان جیسی ایک مخلوق جب دنیا میں آباد ہو گی تو اس کا یہاں آباد ہونا کوئی سادہ بات نہیں ہو گی۔ یہاں انسانوں کے درمیان اختلاف و نزاع کی صورت پیدا ہو گی جو بعض اوقات شدید ہو کر عداوت تک جا پہنچیں گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے خالق نے ترقی کا کیا کورس مقرر کیا ہے۔ وہ کورس یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان خیالات کا ٹکراؤ ہو۔ اس سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں جاگیں گی۔ اس کی تخلیقیت میں اضافہ ہو گا۔ اس کے نتیجہ میں وہ نئی نئی دریافتیں کرتا چلا جائے گا۔ افکار کا ٹکراؤ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن جائے گا۔
اس پہلو سے دیکھئے تو اظہار رائے کی آزادی انتہائی طور پر ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر آزادانہ اظہار رائے نہیں ہو گا تو خیالات کا ٹکراؤ نہیں ہو گا۔ اور جب خیالات کا ٹکراؤ نہیں ہو گا تو ذہنی جمود نہیں ٹوٹے گا۔ انسان نئی حقیقتوں تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔
مثلاً اسلام کے دور اول میں جب قرأت کے اختلاف کی بنا پر لوگ قرآن کی تلاوت مختلف انداز سے کرنے لگے تو لوگوں میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ کون سی قرأت صحیح ہے اور کون سی قرأت غلط۔ اس کے نتیجہ میں کتابت کے فن نے ترقی کی۔ پھر ایسا ہوا کہ لوگ قرآن کے معانی میں اختلاف کرنے لگے۔ اس نے بھی ایک لسانی بحث کا آغاز کیا جو یہاں تک پہنچا کہ مسلمانوں میں عربی زبان کے ماہرین پیدا ہوئے، اور عربی کی ڈکشنریاں تیار کی گئیں جو پہلے موجود نہ تھیں۔ اسی طرح لوگ شرعی امور میں طرح طرح کے اختلافات کرنے لگے۔ اس کی وجہ سے زبردست بحثیں شروع ہوئیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام میں علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ، علم عقائد اور دوسرے علوم باقاعدہ صورت میں مدوّن ہو گئے، وغیرہ۔ دوراول میں اگر یہ اختلافات پیش نہ آتے تو نہ ذہنوں میں بیداری پیدا ہوتی اور نہ علوم و فنون کا ارتقاء ممکن ہوتا۔
پھر یہ عمل یہیں نہیں رکا۔ عباسی خلافت کے زمانہ تک پہنچ کر یہ ہوا کہ مسلمان ایشیا اور افریقہ کے پورے علاقہ میں پھیل گئے حتی کہ وہ یورپ کے اندر داخل ہو گئے۔ اب ان کا فکری ٹکراؤ مصر، ایران، یونان، وغیرہ ملکوں کے خیالات و افکار سے ہوا۔ اس کے فطری نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کے درمیان عقلی بحثیں شروع ہو گئیں۔ یہ فکری ٹکراؤ آخرکار یہاں تک پہنچا کہ ایک نہایت طاقت ور علم کلام مدون ہو گیا۔ یہ کام زیادہ تر عباسی خلیفہ المامون کے زمانہ میں ہوا۔ المامون نہایت فراخ دل تھا۔ اس نے اس زمانہ کے اہل علم کو اظہار خیال کی پوری آزادی دے رکھی تھی :وأَطْلَقَ حُرِّيَّةَ الكَلامِ لِلْبَاحِثِينَ وَأَهْلِ الجِدَالِ وَالفَلَاسِفَةِ (الاعلام للزرکلی،جلد4،صفحہ142)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر یہ سیلاب یہیں نہیں رکا۔ علم و تحقیق کا یہ عمل مزید آگے بڑھ کر دوسرے علمی و فنی شعبوں تک پہنچ گیا۔ مسلمانوں میں فلسفہ ، طب، ریاضی، بحریات، فلکیات، ارضیات کے ماہرین پیدا ہوئے۔ انھوں نے وقت کے تمام سیکولر علوم میں امامت کا درجہ حاصل کر لیا۔
پہلے مسلمانوں کا فکری ٹکراؤ دوسری قوموں سے ہوا تھا۔ جب مسلمان علمی ترقی میں آگے بڑھ گئے تو اب دوسری قوموں کا فکری ٹکراؤ مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے لگا۔ اس ٹکراؤ کے دوران مسلمانوں کے پیدا کردہ علوم اٹلی، اسپین، سسلی اور فرانس تک پہنچ گئے۔ اس کے نتیجہ میں یورپ میں نیا سائنسی دور شروع ہوا جو آخرکار موجودہ صنعتی انقلاب تک جا پہنچا۔ مغرب کا سائنسی اور صنعتی انقلاب براہ راست طور پر دور اول کی مسلم بیداری سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔
وہی عرب جب تک اپنے ملک کے حدود میں بند تھے وہ کوئی علمی کارنامہ انجام نہ دے سکے۔ مگر جب وہ اپنے ملک سے باہر نکلے اور بیرونی قوموں سے ان کا فکری و ذہنی ٹکراؤ پیش آیا تو انھیں لوگوں نے اتنی ترقی کی کہ وہ علم و فکر کے عالمی امام بن گئے۔ یہ سارا معجزاتی واقعہ آزادانہ فکری تبادلہ کے نتیجہ میں پیش آیا۔
تنقید یا اظہار اختلاف دراصل تبادلۂ افکار ہی کا دوسرا نام ہے۔ کسی معاشرہ میں جتنا زیادہ فکری آزادی ہو گی، اتنا ہی زیادہ وہاں فکری تبادلہ ہو گا، اور اس فکری تبادلہ کے دوران تنقید اور ا ظہار اختلاف کی صورتیں بھی پیدا ہوں گی۔ فطرت کا مقرر کردہ یہی واحد ترقیاتی کورس ہے، افراد کے لیے بھی اور بحیثیت مجموعی پوری قوم کے لیے بھی۔