← Deen-e-InsaniayatDeen-e-Insaniayat
نصیحت ، تعییب
Urdu · 6 min
قرآن میں حق کے داعیوں کے لیے نُصح اور ناصح کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کا کلام نصیحت کا کلام ہوتا ہے۔ یعنی اس کے لکھنے یا بولنے کا محرک صرف اصلاح اور خیرخواہی ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا محرک نہیں ہوتا جس کے تحت وہ دوسروں کے بارے میں بولے یا دوسروں کے اوپر قلم اٹھائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ناصح کا کلام ذمہ داری کے احساس کے تحت نکلتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور لکھنے سے پہلے تحقیق کرتا ہے۔ اس کا جذبہ یہ ہوتا ہے کہ اگر میں خاموش رہا تو میں خدا کے یہاں پکڑا جاؤں گا۔ وہ شہرت یا اظہار خویش یا کسی دنیوی فائدے کے لیے نہیں بولتا۔ وہ صرف اس لیے بولتا ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ بولنا اس کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ وہ جس کے بارے میں بولتا ہے، اس کے حق میں عین اسی وقت وہ دل سے دعا بھی کر رہا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس لکھنے اور بولنے کی دوسری صورت وہ ہے جس کو عیب جوئی یا تنقیص کہا جا سکتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ: وَقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لا تَسْمَعُوا لِهذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (41:26)اس آیت میں والغوافیہ کی تشریح حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے یہ کی ہے کہ عَيَّبُوهُ (تفسیر ابن کثیرجلد7،صفحہ174)یعنی اس پر عیب لگاؤ، اس کو دوسروں کی نظر میں برا بتاؤ تاکہ لوگ بھڑک کر اس سے دور ہو جائیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نصیحت اگر خیرخواہی کے جذبہ کے تحت نکلتی ہے تو تعییب اس کے برعکس بدخواہی کے جذبہ کے تحت۔ عیب جوئی اور الزام تراشی کرنے والے کے پیچھے نفرت، حسد، انانیت جیسے منفی محرکات ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد دوسرے کی اصلاح کرنا نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے کو گرانا اور بے وقعت کرنا ہوتا ہے۔
نصیحت نہ صرف جائز ہے بلکہ وہ کار ثواب ہے۔ اس کے مقابلہ میں تعییب و تنقیص یقینی طور پر حرام ہے، وہ صرف آدمی کے جرم میں اضافہ کرنے والی ہے۔ نصیحت صحت مند معاشرہ کی علامت ہے اور تعییب صرف بیمار معاشرہ کی علامت ۔
جس معاشرہ میں نصیحت کی فضا ہو وہاں لوگ ایک دوسرے کو اپنا سمجھیں گے۔ لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا ہو گی۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے عزت و محبت کے جذبات ہوں گے۔ کوئی کسی کو غیر نہیں سمجھے گا۔ کوئی کسی کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔ کوئی کسی کا استحصال کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
مزید یہ کہ ایسے ماحول میں جب ایک آدمی دوسرے آدمی کے خلاف کوئی تنقیدی بات کہے گا تو سننے والا اس کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ نہیں بنائے گا۔ بلکہ اس کو ایک سادہ بات کے طور پر سنے گا۔ اس طرح یہ ممکن ہو جائے گا کہ دونوں کے درمیان کھلی گفتگو ہو۔ دونوں ا پنی ذات کو الگ کر کے خالص حق تک پہنچنے کی کوشش کریں، اور پھر جو بات درست ہو اس کو بخوبی قبول کر لیں۔
اس کے برعکس تعییب (عیب جوئی) کے انداز میں صرف نقصان ہی نقصان ہے۔ عیب جوئی کرنے والے کی بات کو سن کر اگر دوسرا آدمی بھڑک اٹھے تو دونوں میں لڑائی شروع ہو جائے گی جو تمام برائیوں میں سب سے زیادہ سنگین برائی ہے۔ اور اگر بالفرض سننے والا متحمل مزاج ہے اور وہ اپنے خلاف عیب جوئی کو سن کر خاموش رہ جاتا ہے تب بھی وہ نقصان سے خالی نہیں۔ اول یہ کہ عیب لگانے والے نے اپنا وقت ضائع کیا۔ وہ اپنے اس وقت کو کسی صحت مند کام میں استعمال کر سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ معاشرہ کے اندر یہ بری روایت قائم ہوئی کہ ایک دوسرے کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی جا سکتی ہے۔
اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم اس حدیث میں ملتی ہے کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ بولے تو بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے (مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 47۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قول خیر وہ ہے جو ثابت شدہ حقیقت پر مبنی ہو، جس سے کوئی تعمیری فائدہ مقصود ہو۔ جو تمام تر اظہار حق کے جذبہ کے تحت نکلا ہو۔ جو اصلاً خدا کے لیے ہو نہ کہ کسی انسان کے لیے۔
جو آدمی سنجیدہ ہو، جو اللہ سے ڈرتا ہو، اس کے دماغ میں جب کوئی بات آتی ہے تو وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات فی الواقع کسی مثبت قدر کی حامل ہے تو وہ بولتا ہے، ورنہ وہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔