Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

MWK aur Hindustani Musalman

Urdu · 12 min

مولانا وحید الدین خان، اور ہندوستانی مسلمان ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری، محکمہ اعلیٰ تعلیم حکومت جموں و کشمیر۔ مجتہد العصر مولانا وحید الدین خان، پیدائش 1925 عیسوی، اعظم گڑھ اتر پردیش، وفات 21 اپریل 2021 عیسوی، دہلی۔ پوری دنیا میں دانشورانہ سطح پر اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے سلسلے میں جانے جاتے ہیں، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اپنے فیلڈ میں ہندوستان کو ریپریزنٹ کر رہے تھے، اور یہ ان کی منفرد پہچان بھی تھی۔ وہ اپنے نرم لہجے، معتدل نظریے، وسیع تر مطالعے اور مشاہدے کے ساتھ ساتھ کشادہ ذہن کی وجہ سے بلا تفریق مذہب و ملت قبول کیے جاتے ہیں۔

اردو، انگریزی، ہندی میں ان کی 250 سے زائد کتابیں کئی ایڈیشنوں کے ساتھ شائع ہو کر داد حاصل کر چکی ہیں، جن میں "The Prophet of Peace", "The Age of Peace", "The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life", "Islam Rediscovered", etc. "تذکیر القرآن" یعنی "تفسیر قرآن" شامل ہیں۔ ان کی بہت ساری کتابیں عالمی اشاعتی اداروں نے شائع کیں، اور دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں ان کے ترجمے بھی ہوئے۔ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں ان کی کتابیں نصاب کے طور پر بھی پڑھائی جاتی ہیں۔

ان کا قائم کردہ ادارہ سی پی ایس انٹرنیشنل، سینٹر فار پیس اینڈ اسپرچویلیٹی انٹرنیشنل، نظام الدین ویسٹ، نیو ڈیلہی، 110013 بھی اپنی نوعیت کی الگ پہچان رکھتا ہے۔ "ہندوستانی مسلمان" نام کی کتاب میں مولانا وحید الدین خان کے چھوٹے بڑے مضامین و لیکچرز اور ان کے افکار شامل ہیں، جنہیں نمبر 1 "ہندوستانی مسلمان"، نمبر 2 "روشن مستقبل"، نمبر 3 "مسجد اور مسلمان"، اور نمبر 4 "نیا دور" الگ الگ عنوان دے کر ایک لڑی میں پرو دیا گیا ہے۔ اور پھر ہر جگہ چند ذیلی سرخیوں کے تحت بھی بات کہی گئی ہے۔ کتاب میں شامل بیشتر مضامین کئی بین الاقوامی سیمیناروں میں پڑھے گئے، اور پھر مختلف رسالوں میں شائع ہوئے ہیں۔

چونکہ یہ کتاب آج سے کئی سال پہلے شائع، یعنی پہلی اشاعت 1993 عیسوی اور اس کے بعد بھی ہوئی، اور ظاہری بات ہے کہ اس کتاب میں زیادہ تر انہی مسائل کو اٹھایا گیا ہے جو اس وقت یہاں کے لوگوں کو، خاص کر مسلمانوں کو درپیش تھے۔ مگر مولانا نے ان مسائل پر اس طریقے سے بات کی، اور اپنے خیالات کا اظہار اس انداز میں کیا ہے کہ ان کے یہ دانشورانہ خیالات آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ چونکہ ہر دور میں نئے نئے مسائل اور چیلنجز آتے رہتے ہیں، اور ہمیں ان کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے، تو ان مسائل کو حل کرنے کے لیے، یا پھر مختلف چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے، اعلیٰ دماغوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ اعلیٰ دماغ تبھی پیدا ہوتے ہیں جب ہمارے پاس علم ہو، علم کے مختلف یعنی سورسز ہوتے ہیں۔

خان صاحب کی تحریریں ہمیں وہ سب کچھ دے دیتی ہیں جو ہمیں وقت اور حالات کے پیشِ نظر درکار ہوتا ہے۔ مولانا صاحب ایک تو بات کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے، اور وہ ہر بات کا حال اور مستقبل کیا ہو سکتا ہے اس پر بھی ضرور روشنی ڈالتے تھے۔ اس کے علاوہ تقسیم ہند کے بعد برصغیر میں جو حالات پیدا ہوئے، ہم اس ٹراما سے ابھی بھی نہیں نکل پائے ہیں۔ بدقسمتی سے روز بروز نئے نئے مسائل ہی پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو "ہندوستانی مسلمان" نام کی کتاب کے مطالعے سے ہمارا ذہن اس قدر کشادہ ہو سکتا ہے کہ ہر مسئلے کا حل ہونے کے امکانات نظر آ جاتے ہیں۔ یا اگر ہم خان صاحب کے دیے ہوئے نسخے آزما سکتے ہیں، تو ایسے مسائل پیدا ہونے میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔ خان صاحب اپنی کتاب کی شروعات "ناکامی میں کامیابی" کے عنوان سے کرتے ہیں، اور ایک مغربی مفکر ٹوائن بی کی کتاب "تاریخ کا مطالعہ" (Study of History) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جن قوموں نے کوئی تہذیب پیدا کی، وہ پہلے شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ اس طرح دنیا کی مختلف تحریکوں کے ناکام ہونے کی اصل وجہ وہ بتاتے ہیں کہ ان کا سرا کسی اور کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔

ملک کے اندرون میں آپسی فسادات کبھی کبھار ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے مختلف واقعات کا تجزیہ کر کے وہ لکھتے ہیں کہ ان حالات میں ردعمل کے بجائے حکیمانہ عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو بہتر ہے۔ آگے وہ ملت کی تعمیر کرنے کے لیے درج ذیل 10 نکاتی پروگرام بھی ترتیب دیتے ہیں: نمبر 1: اللہ اور بندے کے حقوق سمجھ کر ادا کرنا۔ نمبر 2: بہتر انسان بننا۔

نمبر 3: باہمی اتحاد۔ نمبر 4: ہر مسئلے کا حل مقامی کمیٹی کر سکتی ہے۔ نمبر 5: فضول خرچی کو روکنا۔ نمبر 6: مذہبی جگہوں اور اسکول کا بہتر بنانا۔

نمبر 7: تعلیم۔ نمبر 8: ہنر اور تجارت۔ نمبر 9: وقف کی جائیداد کا صحیح استعمال۔ نمبر 10: مقامی سیاست کا فروغ۔

مولانا وحید الدین خان سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی تعداد کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں، خاص کر مسلم عورتوں میں، ابھی بھی تعلیم کی کمی ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں بھی مسلم بہت پیچھے ہیں، البتہ اس معاملے میں انہیں آگے امید کی کرن نظر آنے لگتی ہے۔ وہ معاشی حالات کے بارے میں کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر 1947 عیسوی سے پہلے سے ہم بہتر ہیں۔ یہاں کے مذہبی اداروں کی حالت اطمینان بخش تو ہے، مگر مسلم سیاست سے وہ کسی قدر نالاں ہی ہیں۔

فسادات کے زیادہ تر ذمہ دار سیاسی لیڈروں کو ٹھہراتے ہیں۔ چونکہ ہمیں وحید الدین خان کے خیالات تقریباً بقیہ بھی مذہبی رہنماؤں سے الگ تھلگ لگتے ہیں، وہ اس لیے کیونکہ انہوں نے خود اس بات کو مانا ہے کہ ان کا اپروچ ریئلسٹک ہے، جبکہ دوسرے لوگوں کا اپروچ نان ریئلسٹک ہوتا ہے۔ وحید الدین خان کے مطابق انہوں نے حقیقت پسندانہ نقطہ نظر یعنی ریئلسٹک اپروچ 1967 سے الجمعیہ ویکلی کے زمانے سے ہی اپنانا شروع کیا تھا۔ تب سے لے کر مرتے دم تک مایوسی خان صاحب کے نزدیک پھٹکتی بھی نہیں تھی۔

برصغیر کے جن اسلامی دانشوروں اور رہنماؤں نے 20ویں صدی کے آغاز سے ہی تشدد کو اسلام سے جوڑ کر اپنے خیالات کا پرچار کیا، ان کی خان صاحب نے کافی مذمت کی ہے۔ "ہندوستان کی دھر" سرخی کے تحت خان صاحب نے بابری مسجد پر بھی اپنے منفرد انداز میں بات کی، اور وہ ہمیشہ اس مسئلے کو سلجھنے کے حق میں تھے۔ جن خیالات کا اظہار اس کتاب میں تفصیلاً کیا گیا، اس طرح وہ "نیا ہندوستان" سرخی کے تحت "نئی امیدوں کے سہارے"، "نئے ہندوستان" میں مذہبی ہم آہنگی، انسانیت، قومی اتحاد اور مسائل کا ایک پراپر حل کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ وحید الدین خان مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح تقسیم ہند کو سب سے بڑا المیہ اور غلطی بھی مانتے ہیں، اور قومیت کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں: "قوم وطن سے بنتی ہے، نہ کہ مذہب سے۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب بلاشبہ الگ الگ ہے، مگر دونوں ایک قوم ہیں۔ " جنگِ آزادی کے دوران مسلمانوں کی خدمات کو وہ دہراتے ہیں، البتہ دو قومی نظریے (Two Nation Theory) کو وہ اسلام سے دور ہی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہندو مسلم ڈائیلاگ پر سب سے زیادہ زور دیا، نہ کہ ہمیں اپنے مسائل کو حل کرانے کے معاملے میں سرکار پر ڈیپینڈ رہنا چاہیے۔ تاریخ کے اوراق کو کھنگالتے ہوئے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ انڈیا میں 1000 سال سے مسلمان رہ رہے ہیں۔

یہ لوگ پہلے ہندو ہی تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے۔ اب بتائیے، یہ نسلی اعتبار سے انڈین ہی تو ہیں؟ اس بات کے پیشِ نظر دونوں مذہبوں کے لوگوں کو بھائیوں کی طرح ایک ہی خاندان میں رہنا چاہیے، اور باہمی مسائل بھی اپنے ہی گھر میں حل کر لینے چاہیے۔ اور اسی سے ہندوستان میں ایک نیا سورج طلوع ہو سکتا ہے۔

غرض یہ کہ مولانا کے یہ سارے افکار آج بھی تازہ ہیں، اور موجودہ انتشار کا حل پیش کر سکتے ہیں۔ آخر میں مولانا وحید الدین خان اور ان کے مجموعی کنٹریبیوشن کے پیشِ نظر یہاں یہ بات بھی درج کی جا سکتی ہے کہ بھارت سرکار کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف تنظیموں اور اداروں نے انہیں کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا، مگر وہ امن کا داعی، اسلامی مفکر، عالمی دانشور، نوبل پرائز کے مستحق تھے۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مسلم رہنماؤں کے ذریعے بار بار آزمائے ہوئے بے نتیجہ تجربات کو چھوڑ کر ہمیں مرحوم وحید الدین خان کے مشن کو آگے لے جانا ہوگا۔ اسی میں قوم کی بھلائی ہے۔

ہفت روزہ سری نگر سماچار، 26 اپریل، 2 مئی 2021، صفحہ 8۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 291۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.