Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Amn aur Maulana Wahiduddin Khan

Urdu · 6 min

امن اور مولانا وحید الدین خان۔ ادارہ: روزنامہ سالار بنگلور۔ تاریخ: 23 اپریل 2021۔ امن ایک نہایت مطلوب چیز ہے، اور تشدد ایک قابلِ نفرت چیز۔

ساری دنیا امن سے محبت کرتی ہے، اور تشدد کو برا جانتی ہے۔ کوئی مفکر اگر اسے اپنا مشن بنا لے، اور اس کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دے، تو یقینی طور پر اسے جدید دور کی سب سے عظیم شخصیت قرار دیا جائے گا۔ اپنے ہم عصروں سے زبردست علمی اختلافات کے باوجود، ہر حال میں اسلام کے امن و امان کے مشن کو عام کرنے میں ہندوستان کی عہد ساز شخصیت مولانا وحید الدین خان کا نام سرِ فہرست ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس میدان میں وہ اکیلے شہسوار تھے جو ہندوستان جیسے ملک میں عدم تشدد کو کامیابی کے حصول کا واحد طریقہ سمجھتے تھے۔

وہ دعوتی اسلوب میں اپنی بات لکھنے اور کہنے کا وہابی سلیقہ رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے علم و قلم کے ذریعے نئی نسل کے سامنے اسلام کا تعارف جس خوبصورت انداز سے کرایا، اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو اسلام کے قریب کرنے کا جو مثبت رویہ اختیار کیا، اس نے اپنی شناخت قائم کی اور ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا۔ ان کی فکر کے کسی گوشے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ دورِ حاضر کے عظیم ترین دانشوروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی مختصر تحریریں قاری کو بہر طور متاثر کرتی تھیں۔

انہوں نے بہت منظم طریقے پر اپنے دعوتی مشن کو مسلسل جاری رکھا، مخالف اور تیز ہواؤں کے باوجود صبر و ضبط کے ساتھ اپنے مشن کے چراغ کو جلائے رکھنے کا ہنر کوئی مولانا وحید الدین خان سے سیکھے۔ وہ ہمیشہ سے مثبت سوچ کے حامی اور مبلغ رہے۔ ان سے بہت سے معاملات میں اختلاف رکھنے والے لوگ بھی ان کے علمی کمالات کے قائل رہے۔ ان کی امن سے متعلق خدمات کو بین الاقوامی سطح پر پہچان ملی تھی۔

انہیں جنوری 2021 میں پدم وِبھوشن اور اس سے پہلے پدم بھوشن کے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا وحید الدین خان کا ڈیمورگس پیس انٹرنیشنل ایوارڈ، راجِو گاندھی قومی سد بھاونا ایوارڈ، اور قومی شہری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی کی 2009 کی "500 انتہائی بااثر مسلمان" کی ایک حالیہ کتاب میں بھی ان کا نام دنیا میں اسلام کے روحانی سفیر کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ وہ نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں میں بلکہ غیر مسلموں میں بھی مقبول رہے ہیں۔

مولانا وحید الدین خان صاحب اس دنیا سے چہارشنبے کی شب رخصت ہو گئے، جو ملت اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے۔ مولانا مرحوم اپنی سادگی، منکسر المزاجی، اور ملنصاری کی بدولت ہر طبقے کے لوگوں میں مقبول تھے۔ مولانا کو تقریر و تحریر دونوں میں ملکہ حاصل تھا۔ سادگی آپ کا خاص وصف تھا۔

سر پر امامہ، ڈھیلے ڈھالے سفید رنگ کے لباس میں ملبوس رہنے والے مولانا وحید الدین خان ایک بلند پایہ عالمِ دین، مقبول مفکر اور نامور صاحبِ قلم ہیں۔ انہوں نے اپنی دینی اور علمی خدمات کے گہرے نخوش چھوڑے ہیں، جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ قحط الرجال کے اس دور میں صاحبِ علم و کمال جیسی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ مشہور عالمِ دین، بہترین مصنف، دانشور، اور روحانی قائد ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ اس سے بڑھ کر "الخلق کلّهم عیال اللہ" کے پاسدار تھے۔

ان کی وفات یقیناً موت العالم ہے۔ انہوں نے پوری زندگی احقاقِ حق و ابطالِ باطل کے لیے وقف کر دی تھی۔ مولانا مرحوم نے اپنی انفرادی انداز سے ملک و قوم کی جو ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں، وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ وہ بہت معقول انداز میں اپنا مدعا پیش کر کے قاری کو اسیر بنا لیتے تھے۔

علمِ جدید کا چیلنج جیسی شاہکار تصنیف خان صاحب کے فکر و فن اور معروضیت کو سمجھنے کے لیے وافی شافی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا وحید الدین خان کا انتقال دراصل ایک عہد کے خاتمے کے ساتھ ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے۔ امت مسلمہ پر واجب ہے کہ وہ مولانا مرحوم کے دعوتی مشن کو آگے بڑھائے۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 113۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.