← Dayee-a-IslamDayee-a-Islam
Haq ka Musafir ( Maulana Wahiduddin Khan)
Urdu · 7 min
حق کا مسافر مولانا وحید الدین خاں، جنوبی افریقہ کے ناول نگار اولیو شرائنر، 1855 تا 1920 عیسوی کی ایک کتاب ہے: "ایک افریقی فارم کی کہانی"، "Story of an African Farm"۔ اس میں ایک اجنبی مسافر ایک کسان لڑکے کو ایک شکاری کا قصہ بیان کرتا ہے۔ اس شکاری کو سچائی کی خوبصورت سفید چڑیا کی تلاش تھی، جس کی ایک جھلک اس نے ایک جھیل کے کنارے دیکھی تھی۔ اس نے خوش اعتقادی کے پھندے اور تصورات کے پنجرے میں چڑیا کو پکڑنا چاہا، مگر اسے معلوم ہوا کہ سچائی کو سچائی ہی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس نے توہمات کی وادی کو چھوڑ دیا اور سچائی کے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ وہ چڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ ایک اونچی، کھڑی ہوئی چٹان کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے اس چٹان کو کاٹ کاٹ کر سیڑھیاں بنانی شروع کیں۔ سالہا سال تک وہ سیڑھیاں بناتا رہا اور اوپر چڑھتا رہا، یہاں تک کہ بوڑھا ہوتے ہوتے وہ اس کی چوٹی پر پہنچ گیا۔
مگر اب اسے معلوم ہوا کہ اس کے آگے ایک اور چٹان ہے جو اس سے بھی زیادہ اونچی ہے۔ مگر اب اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے اور وہ وہیں مر جاتا ہے۔ تاہم مرتے وقت اوپر سے ایک سفید پر آ کر اس کے پاس گرا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ مطلوب چڑیا اس اگلی چٹان پر ہے۔
اگرچہ وہ خود سچائی کی چڑیا تک نہیں پہنچ پاتا، مگر وہ اس اطمینان کے ساتھ جان دے دیتا ہے کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ وہ پر کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور یہ کہتے ہوئے مر جاتا ہے۔ Where I Lie Down, One Out Other Men Will Stand, Young and Fresh, By The Steps That I Have Cut They Will Climb. They Will Mount And On My Work They Will Climb And By My Stair They Will Find Her And Through Me.
The Story of an African Farm by Olive Schreiner, Chapter 2, Verse 11. جہاں آج میں بوڑھا اور کمزور ہو کر گر پڑا ہوں، دوسرے لوگ یہاں سے کھڑے ہوں گے۔ نوجوان اور تازہ دم، جو سیڑھیاں میں نے کاٹی ہیں، وہ اس سے چڑھیں گے۔ وہ کبھی نہ جانیں گے سیڑھیاں بنانے والے کا نام کیا تھا۔
مگر وہ ان سیڑھیوں پر چڑھتے رہیں گے اور بالآخر سچائی تک پہنچ جائیں گے۔ راقم الحروف کی پیدائش کی تخمینی تاریخ یکم جنوری 1925 عیسوی ہے۔ میرے والد فرید الدین خان مرحوم کا 30 دسمبر 1929 عیسوی کو اس وقت انتقال ہو گیا جبکہ میری عمر صرف 5 سال تھی۔ اس کے بعد میری پرورش اعظم گڑھ کے ایک روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی۔
میرے حالات کا تقاضا تھا کہ میں ہر چیز کو تجسس کی نگاہ سے دیکھوں۔ سنِ شور کو پہنچنے کے بعد جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ دین جو دورِ قدیم میں ایک ہزار سال تک انسانی افکار پر حکمران تھا، دورِ جدید میں ہر لحاظ سے مغلوب ہو گیا، تو میرے اندر یہ جذبہ ابھرا کہ میں اس مسئلے کی تحقیق کروں۔ میں نے باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ مجھ کو بہت سے لوگ یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ میری باقاعدہ تعلیم تمام تر صرف عربی مدرسوں میں ہوئی۔
عربی مدرسے سے فراغت کے بعد میں نے بطور خود انگریزی سیکھی۔ بعد کے دور میں انگریزی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے طرز تحریر پر جدید اسلوب غالب آ گیا۔ اس سے لوگوں کو شبہ ہونے لگا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی تعلیمی اصطلاح میں میں تمام تر ایک مولوی ہوں۔
میرے اس تعلیمی اور فکری پس منظر نے اسلام کا کم از کم روایتی علم مجھے دیا تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ دورِ جدید کی نسبت سے اسلام کو سمجھنے کے لیے وہ ناکافی تھا۔ چنانچہ 1948 عیسوی میں میں نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ ایک طرف میں نے جدید افکار کو براہ راست ماخذ سے جاننے کی کوشش کی، دوسری طرف اسلام کو اثرِ نو سمجھنے کے لیے قرآن و حدیث اور اس سے متعلق علوم کو پڑھنا شروع کیا۔
میری زندگی کے ابتدائی 25 سال اگردرسی تعلیم میں گزرے تھے، تو اگلے 25 سال اس تحقیقی مطالعے میں صرف ہو گئے۔ آج جبکہ میری عمر 50 سال ہو چکی ہے، میں اس کتاب کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں، جو گویا میری طویل تلاش کا جواب ہے۔ میں شاید نظریاتی چٹان کی سیڑھیاں کاٹ چکا تھا کہ میرے سامنے دوسرا پہاڑ آ کر کھڑا ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اسلام کی مہم کو عملی طور پر چلایا جائے۔
مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری طاقت ختم ہو گئی۔ ماضی کی شدید جدوجہد نے مجھے قبل از وقت بوڑھا بنا دیا۔ نظریاتی سیڑھیاں کاٹنے میں میں نے اپنی عمر تمام کر دی۔ اب عملی سیڑھیاں کس طرح کاٹوں؟
تاہم میرے اطمینان کے لیے یہ کافی ہے کہ میں نے سچائی کو کم از کم فکری طور پر دریافت کر لیا ہے۔ اب شاید میں یہ کہتے ہوئے مر سکتا ہوں کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ ستمبر 1975 عیسوی، الاسلام سے ماخوذ۔ کتاب "داعیِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔