Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Dayee-a-Islam
Dayee-a-Islam

Pesh-e-Lafz

Urdu · 10 min

پیشِ لفظ: 21 اپریل 2021 کی رات کو میرے والد، مولانا وحید الدین خاں، کا انتقال ہو گیا۔ وہ میرے والد ہی نہیں تھے، بلکہ وہ میرے استاد بھی تھے۔ وہ مادی جسم کے اعتبار سے اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں، لیکن معنوی اعتبار سے مشن کے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔ مولانا کی تحریریں اور ان کا مشن ہمارے ساتھ ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 24 جون 1967 کو جب گنگا جمنا ایکسپریس پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر رکی، تو مولانا اپنے ہاتھ میں ایک باسکٹ لیے ہوئے ٹرین سے اترے۔ باسکٹ میں کچھ کھانے کی چیزیں تھیں، جسے میری والدہ نے زادِ سفر کے طور پر تیار کیا تھا۔ کچھ کپڑے اور تقریباً 200 روپیے تھے۔ مولانا ایک ہاتھ میں مجھے تھامے ہوئے تھے اور دوسرے ہاتھ سے باسکٹ کو۔

میں اس وقت تقریباً 7 سال کا تھا۔ اس طرح مولانا اعظم گڑھ، یو پی کے ایک دور دراز گاؤں سے دہلی شہر پہنچے۔ یہ بظاہر ایک عام سفر تھا، مگر یہی سفر آگے چل کر الرسالہ مشن کی تاریخ بننے والا تھا۔ دہلی میں مولانا نے ہفتہ وار اردو میگزین "الجمعیہ" کے مدیر کے طور پر کام شروع کیا۔

کچھ سالوں کے بعد میگزین کی اشاعت بند ہو گئی، چنانچہ مولانا نے اپنے آبائی وطن لوٹ جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن میری والدہ محترمہ نے گاؤں واپس جانے کے اس خیال سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہم گاؤں واپس نہیں جائیں گے، کیونکہ ہمارے بچے یہاں پڑھ رہے ہیں۔ اس وقت بھائی صاحب، یعنی ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے بھی دہلی میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا، اور یہ بھی مشورہ دیا کہ ہم خود ایک میگزین شروع کریں۔ اس کے بعد انہوں نے ہی اس میگزین کا نام "الرسالہ" تجویز کیا۔

اس طرح بھائی صاحب کی تحریک اور مالی تعاون سے ہم نے اکتوبر 1976 میں الرسالے کی اشاعت شروع کی۔ اس وقت میں دسویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔ مولانا نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ میں ہر ماہ الرسالہ چھپواؤں اور اسے پوسٹ کروں۔ اسی طرح جب الرسالہ شائع ہونا شروع ہوا تو آپا، ڈاکٹر فریدہ خانم نے خط و کتابت کرنا اور الرسالے کے مضامین کو انگریزی میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔

پھر الرسالے کا انگریزی ایڈیشن نکلنے لگا، جس کو خواجہ کلیم الدین صاحب نائجیریا سے بھی شائع کرانے لگے۔ چند سالوں کے بعد اس انگریزی ایڈیشن کو ہارون شیخ صاحب نے "اسپرچول میسج" کے نام سے ممبئی سے نکالنا شروع کیا۔ اب یہ انگریزی ایڈیشن "اسپرٹ آف اسلام" کے نام سے سارہ فاطمہ صاحبہ کی نگرانی میں بنگلور سے شائع ہو رہا ہے۔ اسی طرح بعد میں الرسالے کا ہندی ایڈیشن بھی نکالا گیا، جو کہ چند سالوں تک نکلا، اور اب کیپٹن خرم اسلام قریشی کی کوششوں سے ہندی الرسالہ دوبارہ جاری ہو گیا ہے۔

جیسے جیسے میری عمر بڑھتی گئی، الرسالے کے مضامین سے میری دلچسپی بھی بڑھنے لگی۔ میں نے مولانا کی بہت سی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا، جس کی وجہ سے اسلام کے متعلق میرے علم میں اضافہ ہوا۔ مولانا کی تحریروں کا فوکس شعوری سطح پر خدا کی ڈسکوری تھا۔ اس میں جامد و بے روح رسمی عقیدے کی بات نہیں ہوتی تھی۔

مولانا خدا کے بارے میں ڈسکوری کی سطح پر جو باتیں لکھتے تھے، اس سے میرا مائنڈ ایڈریس ہوتا تھا۔ اس طرح خدا کی معرفت کی طرف میرا سفر شروع ہوا۔ میرے اندر دعوتی ذہن پیدا ہوا، اور مولانا کی باتوں کو دوسرے لوگوں تک پہنچانا میری زندگی کا مقصد بن گیا۔ اس کے علاوہ، مولانا کی مزید باتیں جو مجھے بہت پسند آئیں، وہ یہ تھیں: مثبت سوچ، ہر قسم کے منفی خیالات سے ذہن کو پاک رکھنے کی تلقین، وقت کی قدر کرنا اور وقت کو ضائع نہ کرنا، انسانیت سے محبت، یہ ماننا کہ انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں، امن، عدم تشدد، اور کمیونل ہارمونی، برادرانِ وطن سے آخری حد تک خیرخواہانہ رویہ رکھنا، قرآن کی تلاوت کے بجائے قرآن کی آیات پر تدبر کرنا، ہر موقع پر دعا کرنا، اور خدا پر مکمل بھروسہ کرنا۔

اگر ان تمام باتوں کو صرف ایک جملے میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا: مولانا ہمیشہ ہمیں آخرت رُخی زندگی اختیار کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ کچھ بنیادی تعلیمات تھیں جو میں نے الرسالہ اور مولانا کی دیگر کتابیں پڑھ کر حاصل کیں۔ مولانا ہمیشہ خدا سے دعا مانگتے تھے۔ وہ اکثر موت کو یاد کرتے تھے۔

ان کی زندگی کا فارمولا تھا: سادہ زندگی گزارو، مگر اعلیٰ سوچ والے بنو۔ وہ اکثر اٹھتے بیٹھتے فطرت کے عجائبات پر غور کرتے رہتے تھے، کائنات اور روزمرہ کے واقعات کو اللہ کی یاد کا ذریعہ بناتے تھے۔ کسی سے کوئی شکایت نہیں، اور نہ ہی کسی کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی۔ کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس کے حق میں دعا کرنا۔

ہر طرح کے منفی اقدام سے اپنے آپ کو بچانا۔ یہ چند مولانا کی امتیازی خصوصیات تھیں جن سے میں بہت متاثر ہوا۔ 2001 میں چند سیکولر تعلیم یافتہ نوجوانوں نے مولانا کی تعلیمات سے متاثر ہو کر سی پی ایس انٹرنیشنل کو بطور مشن شروع کیا، جن میں ڈاکٹر رجت ملہوترا، ڈاکٹر نغمہ صدیقی، ڈاکٹر ستوتی ملہوترا، اور جناب نودیپ کپور سرِ فہرست ہیں۔ جس مشن کا عملی خاکہ مولانا کے ذہن میں پہلے ہی سے تھا، اور جس کو اسلامی مرکز کے نام سے جانا جاتا تھا، اب اس نے سی پی ایس انٹرنیشنل کی صورت اختیار کر لی۔

اس طرح مولانا کے مثبت افکار نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی، اور ہزاروں لاکھوں لوگ نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونِ ملک میں بھی اس سے جڑ گئے۔ سی پی ایس مشن کے قیام سے الرسالے کے قارئین کو ایک ٹیم کی صورت میں مولانا کی تعلیمات کو دور دور تک پہنچانے کا ایک بہترین پلیٹ فارم حاصل ہو گیا۔ اب اس مشن کے لوگ ساری دنیا میں قرآن کے تراجم اور مولانا کی کتابوں کو بڑی دلچسپی کے ساتھ تقسیم کر رہے ہیں، اور ممکن حد تک لوگوں کو اسلام کا پرامن پیغام پہنچا رہے ہیں۔ اب مولانا ہمارے درمیان نہیں رہے۔

اب ان کی کتابیں، ان کے خطابات، اور ان کی تحریریں ان کا بدل بن گئی ہیں۔ مولانا کے افکار اور ان کا پرامن پیغام ہمارے پاس موجود ہے، اور عصری تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم پوری دنیا میں قرآن کا پیغام پہنچائیں۔ اس خدائی مشن کے کام کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھیں، اور اس میں اپنے آپ کو ہمہ تن لگا دیں۔

مولانا کے انتقال کے بعد انڈیا اور کئی ممالک سے ہمیں مولانا کے بارے میں مضامین، تعزیتی پیغامات، اور مولانا کی تحریروں کے خلاصے موصول ہوئے۔ ہم الرسالے کے اس خصوصی شمارے میں کچھ منتخب مضامین اور پیغامات پیش کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس خصوصی شمارے کے ذریعے قارئین کو مولانا کے مشن کو مزید سمجھنے کا موقع ملے گا۔ اللہ ان تمام لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے اس موقع پر پیغامات ارسال کیے یا مضامین لکھے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو مولانا کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ والسلام۔ ثانی حسنین خان، نئی دہلی، 20 اگست 2021۔

کتاب "داعیِ اسلام"، صفحہ نمبر 6۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.