دعوت کا ایک اہم فارمولا یہ ہے کہ جہاں دعوت کے مواقع ہوں وہاں دعویٰ ورک، اور جہاں بظاہر دعوت کے مواقع دکھائی نہ دیں وہاں دعا ورک۔ دعا کا تعلق جس طرح دوسری تمام چیزوں سے ہے، اسی طرح اس کا تعلق دعوت سے بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا، دعوت کے لیے لازمی جز کی حیثیت رکھتی ہے۔ دعا کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔
دعا ایک داعی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ داعی اپنے مدعو کا بہت زیادہ خیرخواہ ہوتا ہے؛ خیرخواہی کا یہ جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے مدعو کے حق میں برابر دعا کرتا رہے۔ دعوت کو قبول کرنا ہمیشہ اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے کسی انسان کا دل حق کو قبول کرنے کے لیے کھلتا ہے۔
اللہ کی توفیق ہی سے کسی کی کنڈیشننگ ٹوٹتی ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص دعوت پر سنجیدگی سے غور کرے۔ یہ تمام چیزیں تقاضا کرتی ہیں کہ داعی ہمیشہ اپنے مدعو کے لیے اللہ سے دعا کرتا رہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.